از:۔ محمد رافع ندوی
جمعرات کی شب ساڑھے دس بجے کے آس پاس ہم لوگ جامعہ اسلامیہ کے بالائی ہال میں طلبہ کے بیت بازی پروگرام میں شریک تھے اور فائنل مقابلہ عروج پر تھا کہ میرے بغل میں بیٹھے مولانا غفران شکیل صاحب نے دار تقی کے واٹس ایپ گروپ پر نظر ڈالی اور حضرت مولانا اطہر صاحب قاسمی کے اچانک انتقال کی خبر دیکھ کر مبہوت رہ گئے، اور اپنی اس حیرانی میں مجھے بھی اپنے ساتھ شریک کیا اور پھر یہ ماننا ہی پڑا کہ حضرت مولانا اطہر صاحب قاسمی ابھی عشاء کی نماز کے بعد اپنے ہی وطن مالوف پر ہارٹ اٹیک کے حملے سے نبرد آزما ہو کر دار فانی سے دار باقی کی طرف رحلت فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون، ظاہر ہے اب اس خبر کے بعد کسی بھی پروگرام یا کسی بھی جلسے کو جاری رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور نہ ہم لوگوں میں اتنی ہمت ہی تھی، فوراً ہی طلبہ کو اس خبر سے مطلع کرنے کے بعد مختصر ایصال ثواب اور دعا کے بعد مجلس برخاست کرنے کا اعلان کر دیا گیا، حال میں موجود ہم لوگوں کی حالت دگرگوں ہو چکی تھی، دلوں میں بے چینی اور آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
مولانا میرے شروع کے اساتذہ میں سے ہیں، انہوں نے بالکل ابتدائی درجات میں بھی ہم لوگوں کو پڑھایا اور علیا کے سالوں میں بھی کتابیں ان سے متعلق رہیں، ان کی شفقت اور محبت میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی، ان کے پڑھانے کا انداز بہت پیارا تھا، پتلی سی چھڑی ہاتھ میں رکھتے، طلبہ سے صرف ونحو کے چھوٹے چھوٹے سوالات کرتے جاتے اور نہ بتانے پر اسی پتلی سی چھڑی سے براۓ نام سرزنش کرتے جاتے اور تھوڑے ہی وقت میں پورے درجے میں راؤنڈ لگا لیتے اور ہر ایک بچے سے سوال جواب کر لیتے، گویا پورے درجے پر چھائے رہتے تھے۔
مولانا تندرست تھے اور چاق و چوبند، پھر ادھر کئی سالوں سے جب شوگر کے مرض میں مبتلا ہوئے تو کافی دبلے اور ہلکے ہوگئے، اکثر ان کو دیکھتا تو ان کی پہلی حالت کا موجودہ حالت سے موازنہ کرتا اور دل ہی دل میں ان کے لیے دعا کرتا کہ اللہ انہیں پھر سے وہی قوت، وہی طاقت، وہی دم خم اور وہی صحت عطا فرما۔
صاف دل، خوش اخلاق، ہنستا مسکراتا چہرہ، کبھی انہیں افسردہ نہیں دیکھا، متواضع و خاکسار، سیدھے سادے، مختصر بات کرنے والے، کم گو، مجلسوں سے دور ہی رہنے والے، اوراد و وظائف کے پابند، بے ضرر انسان، جب بھی ملتے اور روز ہی ملنا ہوتا، بڑی خوش دلی سے ملتے، میری کتاب مسائل النحو آئی، بڑے خوش ہوئے، خود ہی اپنے درجے کے طلبہ سے اس کتاب کو متعارف کرایا اور حاصل کر کے پڑھنے کی ترغیب دی۔
کم سے کم دو پیڑھیوں کو انہوں نے پڑھایا سکھایا، جامعہ میں 95_96 کے آس پاس آئے ہوں گے، اس لحاظ سے دیکھیں تو لم سم 30 سال انہوں نے جامعہ میں تدریس کی خدمت انجام دی اور خوب انجام دی، ہمیشہ مقبول رہے، طلبہ کے محبوب رہے۔
مولانا کی اچانک رحلت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ہماری اور آپ کی عمر بس اتنی ہی مختصر ہے، بہت لمبی توقعات رکھنا کوئی دور اندیشی نہیں، اسی مختصر سے عمر میں اس طرح زندگی بسر کرنی چاہیے کہ آخرت کا توشہ بھی تیار ہو جائے اور ساتھ رہنے والے احباب و اقربا کے درمیان ذکر خیر بھی پیچھے رہ جائے۔
یہ سوچ کر طبیعت ہلکان اور پریشان ہو جاتی ہے کہ اب مولانا سے روز روز کی ملاقات، ہر وقت کا سامنا نہیں ہوگا، محبت کے وہ دو لفظ سننے کو نہیں ملیں گے، اب وہ خوبصورت نورانی چہرہ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو گیا، اب وہ خوبصورت لہجہ، خوبصورت زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے، اب وہ خوبصورت آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی ہیں
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ حضرت استاد کی مغفرت فرمائے، انہیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے، ان کے مستفیدین و تلامذہ کی جانب سے انہیں بہترین بدلہ عطا فرمائے، اہل خانہ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین.