ممبئی، 3 جولائی: بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کرنا یا احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینا کسی شہری کو شہر بدر (Externment) کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کا اظہار اور پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، جسے انتظامی کارروائیوں کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس مدھو جمدار نے ممبئی پولیس کی جانب سے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے جنرل سکریٹری سعید احمد عبد الواحد چودھری کے خلاف جاری ایک سالہ شہر بدری کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے یا نعرے لگانے پر شہریوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں تو کیا ملک کے تمام شہریوں کو حکومت کا غلام بنا دیا جائے گا؟
عدالت نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ پولیس وزیرِ اعظم یا وزیرِ اعلیٰ کی نہیں بلکہ عوام کی خادم ہے۔ اگر کوئی شخص حکومت کی بعض پالیسیوں یا فیصلوں سے اختلاف کرتا ہے اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرتا ہے تو اسے اس بنیاد پر شہر بدر نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار کے خلاف مختلف احتجاجی مظاہروں، جن میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور دیگر قومی معاملات سے متعلق احتجاج بھی شامل تھے، کی بنیاد پر متعدد ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ انہی مقدمات کو جواز بنا کر دسمبر 2025 میں شہر بدری کا حکم جاری کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں کونکن ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر نے بھی برقرار رکھا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ نے اس کارروائی کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی اور باوقار زندگی گزارنے کا حق دیتے ہیں۔ محض حکومت کی مخالفت یا احتجاجی پروگراموں کے انعقاد کو شہر بدری کی بنیاد بنانا ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ درخواست گزار کی سرگرمیوں سے عوامی امن یا جان و مال کو کوئی خطرہ لاحق تھا۔