از:- مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
باطل طاقتیں ہر محاذ پر مسلمانوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، کبھی کبھی تو وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے خود مسلمانی کا چولہ پہن لیتے ہیں، تاکہ فسادات کی آگ بھڑکائی جا سکے، ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں کہ خود غیر مسلموں نے مندر میں گوشت پھینک دیا، مسلمان بن کر جلوس میں پاکستان کا نعرہ لگا دیا، فساد کرانے کی غرض سے خود ہی جلوس پر پتھر پھینک دیا اور پھر تھانے میں اندراج بھی کرا دیا۔
فرقہ پرست طاقتوں نے مسلم خواتین کی آبرو ریزی اور فرضی شادی کر کے ان کو مارنے اور اپنے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سازشیں رچیں، بعد میں انہیں طوائف کے کوٹھے پر پہونچا دیا، یا جان سے مار ڈالا، مختلف فرقہ پرست گروہوں نے مسلم لڑکیوں سے محبت کا ناٹک رچانے اور شادی کرنے پر خطیر رقم کا اعلان کیا، ہندو لڑکیاں مسلمان کے پاس نہ جائیں، اس کے لیے "لو جہاد” کی اصطلاح گڑھی گئی اور کئی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا، ہمارے نزدیک اہل کتاب کے علاوہ بین المذاہب شادیاں جائز ہی نہیں ہیں، چاہے لڑکا مسلم ہو، لڑکی غیر مسلم یا لڑکی مسلم ہو اور لڑکا غیر مسلم، دونوں صورت میں شادی حکم الٰہی کی وجہ سے درست نہیں۔
اس کے قبل مسلم خواتین کو بدنام کرنے کے لیے بڑی” سلی ڈیل ” اور "بلی بائی” ایپ نے چلائی تھی اور پروپیگنڈہ کیا تھا کہ مسلم خواتین آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، کچھ لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی، نفرت انگیز تبصرے اور ٹرول کی کثرت سے ماحول بگڑا تھا، دھیرے دھیرے یہ سلسلہ کم ہوا۔
لیکن ان دنوں مسلم خواتین کو بدنام کرنے کے لیے ایک دوسرا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے، وہ ہے اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے ذریعہ مسلم خواتین کی تصویروں کا بنانا، اسے ہوٹل اور پارک میں اپنے عاشقوں کے ساتھ مستی کرتا، ان کی فحش جنسی تصاویر (فرضی) کو وائرل کرنا اور اسے دکھا کر بلیک میل کرنا، عام سی بات ہوگئی ہے، اس پروپیگنڈہ کے شکار بدقسمتی سے وہ بھی ہو رہے ہیں جو اے آئی کے طریقۂ کار سے واقف نہیں، وہ اس پروپیگنڈہ کو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے درست مان لیتے ہیں اور اس کے بعد جو سماجی اور خاندانی پریشانیاں متاثرہ کو ہوتی ہے، اس کا اندازہ ہر اس شخص کو ہو سکتا ہے جو ذرا بھی فکر و شعور رکھتا ہے۔
"مطالعات برائے منظم منافرت (CSOH)” واشنگٹن نے مئی 2023 سے مئی 2025 تک مختلف سوشل میڈیا کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مسلم خواتین کی 1326 ویڈیوز اے آئی کی مدد سے بنائی گئی تھیں، جسے ساٹھ لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا اور اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور اس سائٹ کے فالوئر بن گئے، یہ رپورٹ صرف 297 عوامی پلیٹ فارم کے جائزہ پر مبنی ہے، ایسے بہت سارے پلیٹ فارم گردش میں ہیں، جن تک CSOH کی رسائی نہیں ہو سکی ہے، الجزیرہ ممبئی کے ادارہ راتی (RATI) فاؤنڈیشن میری ٹرسٹ لائن، میونخ کی لڈوگ میکسی ملین یونیورسٹی، سب اس بات پر متفق ہیں کہ مسلم خواتین کو بدنام کرنے کی مہم اے آئی کے ذریعہ ان دنوں زوروں پر ہے اور اس کے نیچے جو کچھ درج ہوتا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔
ہندوستان میں اس قسم کی بے ہودگی کو روکنے کے لیے سائبر سیل موجود ہے، لیکن اندراج کے بعد یا تو کارروائی ہی نہیں ہوتی یا اس کی رفتار بہت سست ہوتی ہے، اگر بہت دباؤ بنایا جائے تو سوشل میڈیا سے وہ مواد ہٹا دیا جاتا ہے اور بس۔
ہندوستان میں جو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ہے، اس کے دفعہ 66E کے مطابق کسی شخص کی نجی زندگی کی تصویر بغیر اجازت لے کر شائع کرنا قانوناً جرم ہے اور مجرمانہ کارروائی کے ذیل میں وہ واد و گیر کے ذیل میں بھی آئے گا، لیکن اے آئی کے ذریعہ بنائی گئی تصویر پر یہ قانون نافذ نہیں ہوتا، صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ یہ تصویر اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے، عام طور سے یہ لکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا، اس لیے مجرمین جری ہوتے ہیں اور خواتین کو بدنام کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔
پشت پناہی ایسے مجرموں کو لیڈران کی بھی حاصل ہے اور مسلمانوں کے خلاف مسموم ذہن رکھنے والے افراد کی بھی ضرورت ہے کہ اس کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج درج کرایا جائے اور قانون کو اس قدر سخت بنایا جائے کہ مجرم اس سے بچ نہ سکے، یہ سماج کے لیے بھی اچھا ہوگا اور منافرت کی جو فضا ہندوستان میں بنا دی گئی ہے، اس کو کم کرنے میں بھی اس سے مدد ملے گی۔
توجہ اپنے لڑکے، لڑکیوں کی تربیت پر مرکوز کرنے کی بھی ہے کہ وہ ہوسناکی کے لیے کیے جانے والی محبت اور پیار کے جھانسے میں نہ آئیں، دنیوی ذلت، موت، قید و بند کے ساتھ انہیں اخروی عذاب سے بھی ڈرایا جائے، صالح معاشرہ کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کے خلاف چلائی جارہی مختلف انداز کی مہم سے بیدار اور ہوشیار رہنے کی بھی، اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔