مولانا جوہر یونیورسٹی برباد نہ کی جائے

از:- ڈاکٹر غلام زرقانی

چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ

ملک کے طول وعرض میں ویسے ہی پرائیوٹ یونیورسٹی کی تعداد نہایت ہی ہے کم ہے اور پھر مسلمانوں کے زیر تصرف توحتمی طورپربرائے نام ہی ہوگی ۔ ایسے حالات میں مولانا جوہر یونیورسٹی کی چالیس میں سے اڑتیس بلند وبالا عمارتوں کی مسماری کی باتیں نہایت ہی تشویشناک اور پریشان کن ہیں ۔
تاریخی بیانیے کے مطابق ۲۰۰۴ء؁ میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوشش شروع ہوئی ۔ تاہم آٹھ سالوں تک شبانہ روز جدوجہد اورسنجیدہ تگ ودو ہوتی رہی ، تب کہیں جاکر ۱۸ ؍ستمبر۲۰۱۲ ء؁ کو باقاعدہ افتتاحی تقریب منعقد ہوسکی، جس میں سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو اور صدر اکھلیش یادو نے شرکت کی ۔اس کے بعد ہر آنے والی صبح یونیورسٹی نے ایک قدم آگے بڑھایا اور ترقی کے منازل طے ہوتے رہے ۔ اسی درمیان دھیرے دھیرے تعلیمی ضروریات کے پیش نظر تقریبا چالیس فلک بوس عمارتیں تعمیر ہوئیں ۔میں نے کلپ دیکھی ہے ، بعض عمارتیں تواس قدر وسیع وعریض ہیں کہ جو اپنے آپ میں تنہا کسی بڑے تعلیمی ادارے کی تصویر پیش کرتی ہیں ۔ درس وتدریس سے محبت رکھنے والے بلاشبہ ایسی خوبصورت عمارتیں اور تعلیمی نظام دیکھ کر فخر کرتے ہیں۔

بتایا جاتاہے کہ جب سے یوپی میں سماج وادی پارٹی کی حکومت ختم ہوئی ہے ، اس وقت سے کسی نہ کسی معاملے میں مولانا جوہر یونیورسٹی بھی سرخیوں میں ہے اور اس کے بانی جناب اعظم خاں بھی ۔ کبھی یونیورسٹی کے لیے حاصل کردہ زمین پر سوالات اور مقدمات ، کبھی اعظم خاں کے طریقہ عمل پر اعتراضات ، مقدمات اور سزائیں اور اب آخری حدیہ ہوئی کہ دوچار دنوں پہلے علاقے کے ذمہ داروں نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سنایا ہے ۔فیصلہ کچھ یوں ہے کہ مولانا جوہر یونیورسٹی کے احاطے میں تقریبا چالیس عمارتیں موجود ہیں ، جن میں سے صرف دوعمارتوں کے نقشے متعلقہ سرکاری محکمے سے پاس کرائے گئے ہیں ۔ بقیہ اڑتیس عمارتیں بغیر نقشے کے بنوائی گئیں ہیں ، اس لیے مولانا جوہر یونیورسٹی کی کمیٹی اپنے طورپر اڑتیس عمارتیں زمیں بوس کردے ، ورنہ شہری انتظامیہ انھیں مسمار کردے گی ۔میں نے اسے عجیب وغریب فیصلہ کہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عمارتوں کے زمیں بوس کرنے کے لیے متذکرہ ضابطے کو بنیاد بنالیا جائے ، توپھر لازم آئے گا کہ پورے ملک میں جس قدر عمارتیں بغیر نقشہ پاس کرائے تعمیر کی گئی ہیں ، ایسی ساری عمارتیں مسمارکردی جائیں ۔ اور مجھے کہنے دیجیے کہ اگر ایسا ہوگیا ، تومیرے خیال میں ملک میں رہائشی علاقوں کا ایک تہائی حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوجائے گا۔یقین نہیں آتا توملک کا کوئی محلہ منتخب کرلیا جائے اور وہاں انتظامیہ کے لوگ گھر گھر جاکر معلومات حاصل کرلیں ، بھیانک نتائج خود بخود سامنے آجائیں گے۔

اچھا ، پھر ایک طرف توہم یہ کہتے ہیں کہ ملک عالمی معیارات کے التزامات نائذ کرکے ترقی کی طرف بہت تیزی سے آگے بڑھ رہاہے اور دوسری طرف عالمی معیارات کی وہی چیزیں اپنے یہاں نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جو ذاتی مرضی کے موافق ہوں اور جب ہماری تخریبی ذہنیت کے مطابق نہ ہو، اسے پس پشت ڈال دیا جائے ۔ میں عرض یہ کرنا چاہ رہاتھا کہ پوری دنیا میں نقشے کے بعد ہی تعمیری منصوبے کی اجازت ہوتی ہے ، تاکہ کوئی بھی عمارت حفاظتی حوالےسے غیر مناسب نہ ہو۔تاہم اگر کسی نے تعمیری اقدامات بغیر سرکاری محکمے کی اجازت کے کرلیے ، توپھر انھیں ہدایت دی جاتی ہے کہ اسے مقررہ ضابطے کے مطابق کروالیں ۔ یہ ضابطہ ہر ترقی یافتہ ملک میں رائج ہے ۔ خود میرے علم میں ایک دومثالیں ایسی ہیں ، جہاں لوگوں نے غیر قانونی طورپر کچھ تعمیر کرلیا ، جب انتظامیہ کے علم میں بات آئی ، توانھیں ہدایت دی گئی کہ بنی ہوئی عمارت کا نقشہ پاس کرائیں اور ااگر ضابطے کے مطابق کوئی نقص ہے ، تواسے دور کریں ۔ اس طرح کی ہدایات کے بعد عمارت قابل استعمال قرار دے دی جاتی ہے ۔

یہاں ایک بات میں اور عرض کرنا چاہوں گا کہ ابھی لکھنؤ میں ایک کوچنگ سینٹر میں آگ لگی اور کئی بچے جھلس کر رہ گئے ۔ اس کی بظاہر وجہ یہ تھی کہ ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کے متبادل راستے موجود نہیں تھے ۔ اگر عمارت کی دوسری جانب بھی باہر نکلنے کا کوئی مناسب راستہ ہوتا، تویقینی طور پر نقصانات کہیں کم ہوتے ۔ اسی لیے مغربی ممالک میں عمارت کی تعمیر کے بعد اس کے استعمال کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کا ضابطہ ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ جب عمارت پوری طرح تیار ہوجاتی ہے ، توفائر مارشل سے منسوب ذمہ داران عمارت کا جائزہ لیتے ہیں اور پھرحفاظتی پس منظر میں درست ہونے پر اسے استعمال کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں ۔

متذکرہ بالا مثال سے میں یہ ثابت کرنا چاہتاہوں کہ کسی بھی عمارت کی تعمیر کے لیے جو نقشہ پاس کرایا جاتاہے ، اس کے پیچھے صرف دوہی مقاصد ہوتے ہیں ۔ پہلا مقصد تویہ کہ جس زمین پر تعمیر ہورہی ہے ، اس کی حیثیت دیکھی جائے ۔ وہ زمین سرکاری املاک کا حصہ تونہیں ہے اور دوسرا مقصد یہ ہوتاہے کہ تعمیر کی جانے والی عمارت حفاظتی نقطہ نگاہ سے غیر مناسب نہ ہو۔ میرے خیال میں متذکرہ بالا دونوں مقاصد ملک کے لیے بھی اہم ہیں اور شہریوں کے لیے بھی ۔ تاہم اگر کوئی عمارت بغیر نقشے کے تعمیر ہوگئی ہے ، توہونا یہ چاہیے کہ دونوں مقاصد کے پس منظر میں اس کاجائزہ لے لیا جائے ۔ اگر وہ زمین سرکارکی ملکیت ہے ، توپھر اسے مسمارکیے بغیر کوئی حل نہیں ہے ۔ لیکن اگر حفاظتی مقصد سے طے شدہ ضابطہ کے مطابق نہیں ہے ، توایک موقع ضروردیا جانا چاہیے کہ ذمہ داران اسے درست کرلیں ۔ ایسی صورت حال میں اگر سرکاری محکمے کچھ تاوان بھی لگادیں ، توکوئی حرج نہیں ہے ۔
صاحبو! حکومتیں اس لیے نہیں ہوتیں کہ عوامی مفاد کے خلاف اقدامات کریں ، بلکہ اُن کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو، عوام کو فائدہ پہنچائیں ۔کیایہ حقیقت ہیں کہ ایک عمارت بنانے میں نہ صرف خطیر سرمایہ خرچ ہوتاہے ، بلکہ ہزاروں مزدور شبانہ روز جد وجہد کرتے ہیں ، تب کہیں جاکر کوئی عمارت تیارہوتی ہے۔ اور ویسے بھی ہمارے ملک میں تعلیمی دانشگاہوں کی تونہایت ہی قلت ہے ۔ کتنے بچے اور نوجوان ایسے ہیں ، جو تعلیم سے صرف اس لیے محروم ہیں کہ انھیں پڑھنے کے لیے داخلہ نہیں مل سکا۔ ایسے حالات میں مولانا جوہر یونیورسٹی کی تباہی وبربادی نہ صرف مسلمانوںپر ظالم وزیادتی کے متراف ہے ، بلکہ ملک اور عام شہریوں کے مفاد کے بھی خلاف ہے۔ یاد رہے کہ وہ حکومتیں یاد رکھی جاتی ہیں ، جو عوام کی تعلیم وتربیت کے لیے نت نئے مواقع فراہم کرتی ہیں ۔ اس لیے مناسب یہ ہے کہ مرکزی حکومت بلا تاخیر مداخلت کرے اور ایسے تخریبی اقدامات پر روک لگائے اور یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو ایک موقع دے کہ وہ طے شدہ ضابطوںکے مطابق عمارتیں درست کروالیں ۔ اس طرح نہ تو حکومت کا وقار مجروح ہوگا اور نہ ہی بنی بنائی علمی دانشگاہ تباہ وبرباد ہوگی ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔