پپو یادو کی پریس کانفرنس میں ہنگامہ، حملے کا الزام؛ مودی اور امت شاہ سے کیا جواب طلب

آزاد رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ: یوپی کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ تصاویر رکھنے والے شخص نے جان لیوا حملے کی کوشش کی، بی جے پی سے وابستگی کا الزام

نئی دہلی، نمائندہ: پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی نئی دہلی میں واقع رہائش گاہ پر اتوار کے روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب ایک شخص نے مبینہ طور پر ان کی جانب چپل اچھال دی۔ واقعے کے بعد وہاں موجود پپو یادو کے حامیوں اور مذکورہ شخص کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس سے کچھ دیر کے لیے افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق پپو یادو اس موقع پر پارلیمنٹ احاطے میں رام مندر کے چڑھاوے میں مبینہ چوری کے معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج کا دفاع کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے اس معاملے پر ان سے سوال کیا، جس کے بعد تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہنگامے تک جا پہنچا۔

واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پپو یادو نے الزام لگایا کہ حملہ کرنے والا شخص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’مودی جی اور وزیر داخلہ جی بتائیں، اسے میری سپاری کس نے دی ہے؟‘‘

پپو یادو نے مزید دعویٰ کیا کہ حملہ آور کی تصاویر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ موجود ہیں اور اس شخص نے ان پر جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش کی۔

تاحال اس واقعے کے سلسلے میں بی جے پی یا متعلقہ سرکاری حلقوں کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔