حکومت کو جھکنا پڑا

از:- مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

عدالت کے ایک معزز جج نے بعض نوجوانوں کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں کاکروچ (تیل چٹہ) کہہ دیا، امریکہ میں بیٹھے ایک ہندوستانی جوان ابھی جیت دیپکے (Abhijet Dipke) نے اس پر طنز یہ تبصرہ کیا اور پھر سوشل میڈیا میں کاکروچ کے نام سے پوری مہم شروع ہوگئی، لاکھوں نوجوان اس سے جڑ گئے اور پھر اس نے کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل اختیار کرلی اور کاکروچ احتجاج کی علامت بن گیا، جلد ہی یہ پارٹی بے روزگاری، پیپر لیک جیسے معاملات کے خلاف سرگرم عمل ہوئی، جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، مختلف تنظیمیں اور حزبِ اختلاف کی اس کو حمایت ملی، دھرنا شروع ہوا، جنتر منتر پر ایک ماہ سے زائد دھرنے پر بیٹھنے، لاٹھیاں، ڈنڈے، ربڑ کے گولے، پانی کی بوچھار کے درمیان ان نوجوانوں نے جرأت اور عدم تشدد کے ساتھ حکومت کے ظلم و ستم کا ایسا مقابلہ کیا کہ اس نے دھرمیندر پردھان کو وزارتِ تعلیم سے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا، حکومت کو ان کی تمام مانگیں مان لینی پڑیں، سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ وہ سارے لوگ جن کا مجرمانہ کردار نہیں رہا ہے، انہیں اور نابالغوں کو فوراً رہا کیا جائے، ان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور ان سے متعلق جو باتیں پولیس نے ریکارڈ کی ہیں ان کو افشا نہ کیا جائے ،آئندہ کبھی اس معاملہ کو ان کے خلاف دلیل کے طور پر نہ استعمال کیا جائے ، اس حکم سے احتجاج میں شریک لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے، البتہ جنہوں نے نیٹ امتحان میں پرچہ لیک ہونے اور اس کے کینسل ہونے کی خبر سن کر خودکشی کرلی تھی، معاہدہ کے مطابق ان کے ورثاء کو مالی مد ملنی تھی، اس پر ابھی عمل نہیں ہوسکا ہے، اس تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نہ صرف منہ کھولنے پر مجبور کیا، بلکہ دیر رات ان کی ریل بھی تیار کرکے سوشل میڈیا پر ڈالی گئی، یہ اپنے میں بڑی بات ہے ، تا کہ نوجوانوں کو پرسکون کیا جاسکے۔

تحریک کا دائرہ دھیرے دھیرے بھارت کی مختلف ریاستوں میں بھی پھیلا، بہار اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، یہاں سابق وزیر تیزپرتاپ کے ساتھ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق چھ سو چورانوے (694) لوگ گرفتار ہوئے اور ان کو جیل میں ڈال دیا گیا، سیوان میں پولیس اہلکاروں نے بری طرح اس تحریک کو کچلا اے کے 47 سے گولیاں بھی چلیں، اب خبر آئی ہے کہ اس پولیس اہل کار کو معطل کردیا گیا ہے، سمراٹ حکومت دباؤ میں آگئی ہے اور اس نے 26جولائی کی شام تک جتنے لوگ اس تحریک کی وجہ سے گرفتار ہوئے ان کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے اور مستقبل میں ان کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ کارروائی نہ کرنے کی بات کہی ہے، چونسٹھ مقدمات حکومت نے واپس لے لیے اور قیدیوں کی رہائی عمل میں آرہی ہے، تیز پرتاپ یادو بھی جیل سے باہر آچکے ہیں۔

بی جے پی والے کہا کرتے تھے کہ ہمارے یہاں وزیر استعفیٰ نہیں دیتے، بات بڑی حد تک صحیح بھی تھی، 2014ء ء سے اب تک صرف ایم جے اکبر نے استعفیٰ دیا تھا اور ME TOO کی زد میں وہ آگئے تھے، کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے حکومت کو وزیر تعلیم کے استعفیٰ پر مجبور کرکے ثابت کردیا کہ قوتِ مرجانے کا نام نہیں موڑ دینے کا نام ہے، نوجوانوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور حکومت کو جھکنا پڑا، ہمیں یہاں پر سونم وانچک اور ابھی جیت دیپکے کی تعریف کرنی ہوگی جنہوں نے اپنے جان کی پرواہ کیے بغیر طویل بھوک ہڑتال کیا، ان کے ساتھیوں نے ان کا ساتھ دیا، وہ بھڑکے نہیں، مشتعل نہیں ہوئے اور دھرنا ختم کرنے کے بعد پورے جنتر منتر کی صفائی کی، کچڑا صاف کیا اور ثابت کردیا کہ اچھا شہری کیسا ہوتا ہے۔
بی جے پی نے سوچا تھا کہ جس طرح گودی میڈیا سے غلط پروپگینڈہ کرا کر سچ کو وہ ہمیشہ جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرتے رہے ہیں، شاید اس بار بھی ایسا ہو جائے گا، گودی میڈیا نے اس تحریک کو ناکام دکھانے اور غیر ملکی پشت پناہی کی بات کہہ کر لوگوں کی توجہ اس تحریک سے پھیرنے کا کام کیا، لیکن اس بار الیکٹرونک میڈیا کی بالکل چل نہیں پائی اور اس کی برتری کا سارا غرور ملیا میٹ ہوکر رہ گیا، سوشل میڈیا، یوٹیوبر اور دوسرے ذرائع نے جس مؤثر انداز میں اس تحریک کی پل پل کی حرکات و سکنات، حکومت کے ظلم و ستم اور تحریک کی مقبولیت کو عوام کے سامنے پیش کیا، اس سے گودی میڈیا کی ہوا نکل گئی اور سوشل میڈیا مؤثر ذرائعِ اطلاعات و ابلاغ کے طور پر ابھرا۔

دھرمیندر پردھان کی جگہ پر ہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج دیا گیا ہے، اس سے کچھ بڑا بدلاؤ آنے نہیں جا رہا ہے، کیونکہ وہ آر ایس ایس کے دست و بازو رہے ہیں، ان کی سوچ اور نظریات وہی ہیں، جسے آر ایس ایس اس ملک میں رائج کرنا چاہتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ نصابی کتابوں میں ترمیم کا سلسلہ اور تاریخ کو مسخ کرکے طلبہ کو پڑھائے جانے کی روایت حسبِ سابق جاری رہے گی۔

حکومت جو بھی قدم اٹھارہی ہے وہ اپنے ڈیمیج کنٹرول کے لیے اٹھارہی ہے، سرکار نے یہ بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے کہ جو پیپر لیک کرے گا اسے دس سال کی قید اور پچاس لاکھ تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جائیداد کی قرقی ضبطی بھی ہوگی، پارلیمنٹ میں اس بل پر بحث بھی ہوئی اور حسب سابق حزب مخالف کے واک آؤٹ کے بعد صوتی ووٹ سے پاس بھی ہوگیا، لیکن اس بل میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ پیپر لیک کو کس طرح روکا جائے گا، اس کا طریقہ کار کیا ہوگا اور پیپر لیک ہونے کے بعد طلباء کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اس کے پاس کیا پلان ہے، اس نے نندن نیلے کنی کی قیادت میں ایک ٹاسک فورس کی تشکیل کی ہے، دیکھیے وہ حکومت کو کیا کچھ سمجھاتی ہے اور حکومت کتنی تجاویز کو بروئے کار لانے پر تیار ہوتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اس پورے پیپر لیک معاملہ میں نیٹ کا امتحان معرض بحث رہا، لیکن درست بات یہ ہے کہ پیپر لیک دوسرے امتحانات میں بھی کثرت سے ہوتے رہے ہیں، گزشتہ بارہ برسوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک سو پچاس (150) سے زیادہ پیپر لیک ہوئے، جن میں ایس ایس سی (SSC) جیسے بلا واسطہ ملازمت دینے والے پیپر بھی شامل تھے۔

باخبر ذرائع برابر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ملک کا تعلیمی اور قانونی نظام اب آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے، سارا کام ”پلے بیک تکنیک“ سے کیا جا رہا ہے، ان شعبوں میں جو بحالیاں ہو رہی ہیں ان میں صلاحیتوں سے زیادہ آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی کو دیکھا جا رہا ہے، این ٹی اے میں صرف چوبیس (24) عہدوں پر مستقل بحالی ہے، جب کہ باقی ایک سو ستانوے (197) عہدے پر عارضی تقرریاں ہیں یا یہ کہیے کہ آؤٹ ری سورسیزکام چلایا جا رہا ہے اور ان میں واضح طور پر وہی لوگ ہیں جنہوں نے میدانوں میں ہاف پینٹ اور اب فل پینٹ پہن کر لاٹھیاں بھانجی ہیں، آر ایس ایس کے تالاب سے پانی پیا ہے، مسلمانوں سے نفرت کے زہر سے آلودہ اب یہ پانی اپنا اثر دکھا رہا ہے۔

پہلے ملکی پیمانے پر این ٹی اے کے ذمہ یہ کام نہیں تھا، ہر ریاست کی یونیورسٹیوں اپنے یہاں پی ایم ٹی (پری میڈیکل ٹسٹ) کراتی تھیں، وہاں پیپر لیک نہیں ہوتا تھا اور طلبہ تین چار جگہ درخواستیں دیتے تھے، ہر جگہ امتحان میں شریک ہوتے تھے اور کہیں نہ کہیں ان کا سلیکشن پری میڈیکل ٹسٹ کے بعد ہو جایا کرتا تھا، لیکن حکومت ہند نے اس سلسلے کو یہ کہہ کر بند کر دیا کہ اب طلبہ کو الگ الگ فارم نہیں بھرنا ہوگا اور ایک ساتھ ہی سب کا امتحان ہوا کرے گا، اس کے لیے این ٹی اے کی تشکیل کی گئی جو دو سو ستر (270) سے زیادہ امتحانات کا انعقاد کراتی ہے، اس پورے نظام پر اس کا قابو نہیں ہے، تبھی تو اس میں گڑ بڑیاں ہوتی رہی ہیں، نیٹ امتحان کا نقصان یہ بھی ہوا کہ امتحان کی تیاری کے نام پر کوچنگ سنٹر کی بہتات ہوگئی اور تعلیم کے خرچ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے جوانوں نے اپنی یہ تحریک نیٹ امتحان پیپر لیک کے خلاف ہی شروع کی تھی اور اس نے جس انداز سے اس تحریک کو کامیاب کیا، اس سے نئی نسل سے بہت سی امیدیں بڑھی ہیں، پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نئی نسل جلد آگ بگولہ ہو جاتی ہے، لیکن اس تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ آج کا نوجوان صبر وضبط، عدم تشدد اور حوصلے کے ساتھ تحریک کو کامیاب کرنے کا ہنر بہت اچھی طرح جانتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔