حقیقی آزادی اسلام کی نظر میں!

از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت پر قبضہ اس وقت کیا جب یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی،یہ بات سو فیصد درست ہے، یہ کہنا کہ آزادی کی جنگ میں یہاں کے مسلم اس لئے پیش پیش رہے کہ مسلمانوں کی حکومت چلی گئی تھی یہ نظریہ صحیح نہیں ہے۔ برطانوی حکومت کے سامنےمسلمانان ہند اس لئےسینہ سپر ہوگئےکہ ہمارا یہ پیارا ملک غلام ہوگیا ہے، اور یہاں کا ہرشہری غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہےاور یہ بات ایک صاحب ایمان کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے جب ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم پر روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر پیدا ہونے والے بچہ آزادہے،غلامی کا سامنا تو اسے اس دنیا میں آکر ہوتا ہے۔ایک انسان کی فطرت میں حق کی پاسداری ہوتی ہے،عدل و انصاف اور سچی بات اس کی خمیر میں شامل ہے۔جب ناحق کی طرف زبردستی اسے لے جایاجا ئے تو یہ غلامی ہے۔انگریزوں نے نہ صرف یہ کہ وطن عزیز کا معاشی استحصال کیا تھا بلکہ انسانی فطرت کے خلاف یہاں کے شہری کو مجبور کرتا تھا۔برطانوی حکومت میں کالے گورے میں فرق کیا جاتا تھا۔یورپی باشندے حاکم تھے اور یہاں کے لوگ محکوم، اور دونوں میں مساویانہ سلوک نہیں کیا جاتا، حتی سرکاری اور فوجی عہدوں میں بھارتیوں کے لیے مواقع نہیں تھے۔ ایسے میں یہاں کے مسلمان کبھی خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ مذہب اسلام میں تو جانوروں پر بھی رحم کی تعلیم دی گئی ہے، یہاں ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر جنت حاصل کی جاسکتی ہے اور ناحق ایک بلی پر زیادتی کرنے پر دوزخ میں ڈالنے کی بات کہی گئی ہے چہ جائے کہ ایک انسان جو اشرف المخلوقات ہے، قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہےکہ:ہم نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔

انسان انسان ہے اور وہ واجب الاحترام ہے۔اس کی عزت کرنا اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا یہ اس کا واجبی حق ہے۔اگر کوئی اس کا حق ادا نہیں کرتا ہےتو انسانیت سے گری ہوئی بات ہے اور اسے انسان نہیں بلکہ غلام سمجھنا ہے۔مذہب اسلام میں ایک انسان کی عظمت کا اسقدر خیال کیا گیا ہے کہ وہ بندوں کو بندوں کی بندگی سے آزادی دلانے کی بات کرتا ہے۔اسی پر بس نہیں بلکہ اگر کوئی اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنے لگے تو شریعت اسلامیہ میں اسے نفس کا غلام کہا گیا ہے اور اس سے آزادی کی تلقین کی گئی ہے۔یہاں اندھ بھکتی کو بھی غلامی سے تعبیر کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کی پامالی یہ ظلم عظیم ہے، اسی جبر وظلم سے آزاد کرنے کے لئے یہ ان کی شرعی ذمہ داری بنتی ہے، چنانچہ باضابطہ برطانوی سامراج کے خلاف فتوی صادر کیا گیا کہ انگریزوں سے جہاد فرض ہے۔۱۷۵۷ء میں پلاسی جنگ کے بعد انگریزوں نے جب پورے بنگال پر قبضہ کرلیا، اور نواب سراج الدولہ نے شہادت کا جام پی لیا،پھر ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کہتے ہوئے کہ” شیر کی ایک دن کی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے” اپنی جان کی قربانی پیش کردی، اور پورا ملک انگریزی حکومت کے قبضے میں جانے لگا تو ۱۸۰۳ء میں شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شرعی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے یہ فتوی صادر کیا:”آج ہمارا ملک ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے میں جاکر دارالحرب بن چکا ہے، لہذا اس ملک سے انگریزوں کو نکالنا اور اسے آزاد کرانا ہر مسلمان پر فرض ہے”۔

اس فتوے کی ملک بھر میں گونچ سنائی دینے لگی، اور ہزاروں علماء کرام درس وتدریس چھوڑ کر میدان میں آگئے۔سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں ملک کی آزادی کے لئے باضابطہ ایک منظم تحریک شروع ہوئی، ایک بڑی جمیعت اکٹھا ہوئی، پھر ۱۸۳۱ء میں بالاکوٹ کے میدان میں جاکر انگریزی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑتے ہوئےشہادت سے سرفراز ہوئے۔

۱۸۵۷ء میں ملک بھر کے لوگوں نے ایک ساتھ ملکر انگریزی حکومت کے خلاف جد وجہد کی افسوس کہ وہ ناکام ہوگئی، پھر دوبارہ مولانا فضل حق خیر آبادی اور مفتی صدرالدین آزردہ نے تمام مکاتب فکرکے علماء کو جمع کرکے انگریزوں کے خلاف جہاد کا متفقہ اور عالمگیر فتوی جاری کیا، شاملی کے میدان میں علماء کرام نے آمنے سامنے انگریزوں سے مقابلہ کیا، اپنے سینے کو انکی گولیوں سے چھلنی کیا، دہلی کے چاندنی چوک سے لیکر لاہور تک درختوں پر علماء کرام کی لاشیں لٹک رہی تھیں، ریشمی رومال کی تحریک چلائی گئی، مجلس احرار قائم کیا، انگریزی حکومت کے مقابلے کے لئے دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی اور ان کے رفقاء مالٹا جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈالے گئے، حریت پسند علماء کالا پانی انڈمان نکوبار بھیجے گئے۔ یہ وطن سے محبت اورایک انسان کی حقیقی آزادی کے لئےہے۔نہ کہ تخت وتاج اور بادشاہت کی لالچ میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔آج بھی جہاں کہیں انسانیت کراہتی ہے ملک کے مسلمان اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں، موجودہ وقت میں ملک کی ریاست آسام میں سیلاب کی بھیانک تباہی آئی ہوئی ہے، ضلع شیو ساگر وأطراف میں مسلم آبادی نہیں کے برابر ہے، نوے فیصد برادران وطن آباد ہیں جو سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، وہاں ریلیف کی تقسیم کرتے ہوئے مسلمان نظر آتے ہیں، تباہی کے منظر کو دیکھ کر رورہے ہیں، اسی کا نام انسانیت ہے۔اسی کے لئے اب بھی یہاں کے مسلمان کوشاں ہیں۔اور ہمہ وقت اپنی جان ومال کی قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ کا یہ واقعہ ہےکہ ایک موقع پر کسی حاکم کے بیٹے نے ایک عام آدمی پر ظلم کیا تو آپ نے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:”متى استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم احرارا” تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا ہے جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا یے۔ایک آدمی کے تعلق سے اسلام کا نظریہ یہی ہے کہ وہ آزاد ہے۔

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
ایک توجہ چاہیے انساں کو انساں کی طرف

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔