از:ـ محمد علم اللہ، لندن
اردو ادب کے معروف ڈیجیٹل پلیٹ فارم ریختہ کے بارے میں مجھے انتہائی معتبر ذرائع سے خبر ملی کہ وہ ڈیٹا کچھ اے آئی کمپنیوں کو بیچ رہی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو سوال بہت سیدھا ہے: ریختہ کو یہ حق کس نے دیا؟ کیا لاکھوں لوگوں کی کتابیں اسی لیے حاصل کی گئی تھیں کہ انہیں آگے فروخت کردیا جائے؟ اگر ریختہ نے وہ کتابیں یا ان کا ڈیٹا بیچا ہے تو جن مصنفین کی کتابیں اسکین کی گئی تھیں، کیا انہیں یا ان کے اہلِ خانہ کو اس میں سے کوئی حصہ دیا گیا؟ کارپوریٹ کمپنیوں کی یہ کارستانیاں دو دو چار کی طرح اتنی آسان نہیں ہوتیں کہ فوراً سمجھ آجائے کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ اسی سوال نے مجھے پچھلے دنوں پڑھی ہوئی ایک رپورٹ تک پہنچایا، جس میں بتایا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کچھ کمپنیاں بڑی تعداد میں کتابیں، خاص طور پر پرانی اور ایسی کتابیں جو اب بازار میں نادر اور مشکل سے دستیاب ہیں، حاصل کر رہی ہیں۔ انہیں خرید کر ان کی جلدیں کاٹی جاتی ہیں، صفحات الگ کیے جاتے ہیں، انہیں تیز رفتار مشینوں سے اسکین کیا جاتا ہے اور ڈیجیٹل نسخہ تیار ہونے کے بعد اصل کتاب ضائع کردی جاتی ہے۔
پہلی نظر میں یہ خبر مجھے بھی عجیب و غریب لگی۔ میں نے سوچا، شاید مصنوعی ذہانت کے خلاف خوف پیدا کرنے کے لیے ایک اور کہانی گھڑ لی گئی ہے۔ آخر کوئی کتاب خرید کر اسے پڑھنے سے پہلے کیوں کاٹے گا؟ کتاب کو اسکین کرکے فوراً کیوں پھینکے گا؟ لیکن پھر خیال آیا کہ ذرا دیکھنا چاہیے۔ جوں جوں اس بارے میں پڑھنا شروع کیا، بات سنجیدہ ہوتی گئی۔ معلوم ہوا کہ واقعی ایسا ہو رہا ہے اور ایک بڑے واقعے کے بارے میں امریکی عدالت میں پیش کیے گئے دستاویزات بھی موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنی انتھروپک نے ۲۰۲۴ میں ایک منصوبے پر کام کیا تھا جس کا اندرونی نام ’’پروجیکٹ پاناما‘‘ تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق کتابوں کی جلدیں اتار کر صفحات الگ کیے جاتے، انہیں اسکین کیا جاتا اور مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق کمپنی نے بڑی تعداد میں کتابیں خریدیں، ان کی جلدیں کاٹیں، صفحات اسکین کیے اور انہیں ضائع کردیا۔ یہ تفصیلات مصنفین کی جانب سے انتھروپک کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے ہزاروں صفحات پر مشتمل ریکارڈ سے سامنے آئیں۔
ایک ایسی کمپنی جس کا مقصد طاقتور زبان کے ماڈل تیار کرنا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ انسانی تحریر درکار تھی۔ کتابوں میں انسان کے خیالات، تجربات، زبان، تاریخ، علم اور تخیل کے بے شمار نمونے محفوظ ہیں۔ مشین کے لیے یہ سب تربیتی مواد ہے۔ اسے نہ کتاب کی جلد سے مطلب ہے، نہ کاغذ کی عمر سے، نہ اس بات سے کہ کسی کتاب کو کسی انسان نے برسوں سنبھال کر رکھا تھا۔ اسے مطلوب ہے تو متن۔ ایک لمحے کے لیے اس منظر کو ذہن میں رکھیے۔ ایک پرانی کتاب کسی دکان کی الماری میں پڑی ہے۔ شاید کسی ایسے شخص کے ہاتھوں سے گزر چکی ہے جس نے اسے اپنی جوانی میں پڑھا تھا۔ ممکن ہے پہلے صفحے پر کسی کا نام لکھا ہو، کسی حاشیے پر کسی طالب علم نے پنسل سے کوئی جملہ نشان زد کیا ہو، کسی صفحے کے درمیان کوئی پرانی رسید یا خط رکھا ہو۔ شاید یہ کسی ایسے مصنف کی کتاب ہو جسے اب کوئی یاد نہیں کرتا، کسی ایسے موضوع پر ہو جسے کوئی ناشر دوبارہ شائع نہیں کرتا، یا کسی ایسی علمی روایت کی واحد بچی ہوئی شہادت ہو جسے آنے والی نسلیں دوبارہ دریافت کریں۔
پھر ایک دن وہ کتاب خریدی جاتی ہے، کسی گودام تک پہنچتی ہے، اس کی جلد کاٹ دی جاتی ہے، صفحات الگ ہوجاتے ہیں، ایک مشین انہیں تیزی سے پڑھتی جاتی ہے اور چند ہی لمحوں میں وہ کتاب ایک ڈیجیٹل فائل میں بدل جاتی ہے۔ اس کے بعد کاغذ ردی میں چلا جاتا ہے۔ مشین نے اپنا کام مکمل کرلیا۔ لیکن کیا کتاب کا کام بھی ختم ہوگیا؟
انسان نے ہزاروں برس کتابوں کو محفوظ رکھنے کے جتن کیے ہیں۔ آگ، پانی، جنگوں، کیڑوں اور کبھی خود انسان کی بے اعتنائی سے بچایا۔ کتابیں اس لیے محفوظ کیں کہ جو کچھ اس نے سوچا، جانا، محسوس کیا اور لکھا ہے، وہ اس کے مرنے کے بعد بھی باقی رہے۔ بادشاہوں نے کتب خانے بنائے، علما نے کتابیں نقل کیں، کاتبوں نے راتیں جاگ کر مخطوطے لکھے اور لوگوں نے جنگوں اور ہجرتوں کے دوران کتابیں اپنے سامان میں چھپا کر رکھیں۔ بغداد کے علمی مراکز ہوں، اندلس کی لائبریریاں، پٹنہ، دہلی اور لکھنؤ کے کتب خانے یا قاہرہ کے قدیم مخطوطات، انسانی تاریخ میں کتاب کو محفوظ رکھنا ہمیشہ ایک تہذیبی عمل رہا ہے۔ ایک نسل نے جو کچھ لکھا، اگلی نسل تک پہنچایا۔ کسی نے کتاب لکھی، کسی نے نقل کی، کسی نے جلد بنائی، کسی نے اسے سنبھال کر رکھا اور پھر کسی بہت دور کے زمانے میں کسی اور انسان نے اسے کھول کر پڑھ لیا۔ یوں آدمی مرنے کے بعد بھی اپنی آواز چھوڑتا رہا۔
اب ایک نئی دنیا سامنے ہے جس میں وہی کتاب ایک مشین کے لیے محض ’’ڈیٹا‘‘ ہے۔ ڈیٹا کتنا بے حس لفظ ہے۔ اس میں نہ کاغذ کی بو ہے، نہ جلد پر پڑا ہوا وقت، نہ کسی قاری کی انگلیوں کے نشان، نہ کسی طالب علم کا لکھا ہوا نام۔ ایک صفحہ ڈیٹا ہے، ایک حاشیہ ڈیٹا ہے، ایک پوری کتاب ڈیٹا ہے اور پھر ایک پوری تہذیب بھی ڈیٹا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ مشین کیا کچھ کرسکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم علم کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی میراث کے طور پر جسے سنبھالنا ہے یا ایسے خام مال کے طور پر جسے استعمال کرکے آگے بڑھ جانا ہے؟
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ مسئلہ کتابوں کو ڈیجیٹل شکل دینے میں نہیں ہے۔ دنیا کے کسی دور دراز کتب خانے میں پڑا ہوا مخطوطہ اسکین ہوکر دنیا بھر کے محققین کے سامنے آجائے تو یہ علم کی خدمت ہے۔ کسی قدیم کتاب کے صفحات خراب ہورہے ہوں اور ان کا اعلیٰ معیار کا ڈیجیٹل نسخہ تیار کرلیا جائے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے نعمت ہے۔ کسی معدوم ہوتی زبان کے متون محفوظ کیے جائیں یا کسی پرانے اخبار کے لاکھوں صفحات قابلِ تلاش بنائے جائیں تو یہ سب قابلِ تحسین کام ہیں۔ مسئلہ ڈیجیٹل بنانا نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ڈیجیٹل بنانا اور اصل کو ختم کرنا ایک ہی عمل سمجھ لیا جائے۔ یہاں قانون اور اخلاق کا فرق بھی سامنے آتا ہے۔
۲۰۲۵ میں امریکی عدالت نے انتھروپک کے مقدمے میں قانونی طور پر خریدی گئی کاغذی کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کرکے مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کے معاملے کو مخصوص حالات میں ’’منصفانہ استعمال‘‘ کے دائرے میں قرار دیا۔ عدالت نے قانونی طور پر حاصل کی گئی کتابوں کو پرنٹ سے ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے مواد کے درمیان فرق رکھا۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ کبھی کبھی پورے معاملے کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے جیسے عدالت نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی کو کتابیں چوری کرکے تباہ کرنے کی اجازت دے دی ہو، جبکہ قانونی صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
انتھروپک کے خلاف ایک الگ معاملہ ان لاکھوں کتابوں سے متعلق ہے جو کمپنی نے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی ڈیجیٹل لائبریریوں سے حاصل کی تھیں۔ اس مقدمے میں کمپنی نے ۲۰۲۵ میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا، جسے جولائی ۲۰۲۶ میں امریکی عدالت نے حتمی منظوری بھی دے دی۔ اس رقم کو قانونی طور پر خریدی گئی کاغذی کتابوں کی اسکیننگ پر عائد جرمانہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ بنیادی طور پر غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے مواد سے متعلق حقوقِ اشاعت کے دعووں کا تصفیہ تھا۔
لیکن قانونی فرق کے باوجود اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ فرض کیجیے ایک کتاب قانونی طور پر خریدی گئی، اسے اسکین کیا گیا اور پھر اصل کاپی ختم کردی گئی۔ قانونی سوال شاید یہاں ختم ہوجائے، مگر ایک اور سوال وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ کیا کسی چیز کو خرید لینے سے ہمیں اس کے تاریخی وجود کو ختم کرنے کا اخلاقی حق بھی مل جاتا ہے؟ یہ سوال صرف کتاب کے بارے میں نہیں۔ کسی پرانی تصویر کو خرید لیا جائے تو کیا اسے جلا دینا معمولی بات ہوجائے گی؟ کسی خاندان کا خط کسی کے ہاتھ لگ جائے تو کیا اس کی ڈیجیٹل نقل بناکر اصل پھینک دینا اس کے تمام معنی ختم کردے گا؟ کسی بزرگ کی ڈائری اسکین ہوجائے تو کیا اس کے کاغذ پر موجود سیاہی، لکھائی، داغ اور زمانے کی گواہی بے معنی ہوجائے گی؟ ایک قدیم مخطوطہ اپنے اندر صرف الفاظ نہیں رکھتا۔ اس کا کاغذ، اس کی جلد، اس کی لکھائی، اس کے حاشیے اور اس کا سفر بھی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں۔
اسی لیے نایاب کتاب اور عام کتاب میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی نئی کتاب کی لاکھوں نقلیں موجود ہیں تو اس کی ایک کاپی ضائع ہوجانے کا نقصان اپنی جگہ، لیکن اگر کسی قدیم کتاب کے دنیا میں چند ہی نسخے باقی ہوں تو ہر نسخہ خود ایک تاریخی شہادت بن جاتا ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ہمیشہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی کتاب مستقبل میں نایاب ہونے والی ہے۔ آج کوئی کتاب کسی سیکنڈ ہینڈ دکان کے ایک کونے میں معمولی قیمت پر پڑی ہوسکتی ہے، پچاس سال بعد شاید اس کے دو نسخے رہ جائیں۔ آج کسی مقامی تاریخ کی کتاب کو کوئی خاص اہمیت نہ دے، کل کوئی محقق اسی کتاب سے ایک پورے علاقے کی سماجی تاریخ لکھ دے۔ اسی لیے کتب خانے اور آرکائیو قائم کیے جاتے ہیں۔
۲۰۲۶ میں برطانیہ، آئرلینڈ اور آسٹریلیا کے بعض سیکنڈ ہینڈ کتاب فروشوں کی طرف سے غیر معمولی بڑے آرڈرز کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ بعض آرڈرز میں بظاہر بے تعلق کتابیں شامل تھیں؛ کہیں پرانی زرعی کتابیں، کہیں مقامی تاریخ، کہیں کھیلوں کی سوانح اور کہیں ایسے عنوانات جن کی عام تجارتی طلب بہت کم تھی۔ بعض کتاب فروشوں نے شبہ ظاہر کیا کہ شاید ان کتابوں کی خریداری کا تعلق مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا حاصل کرنے سے ہو۔ آسٹریلیا میں بھی بعض کتاب فروشوں نے ایسے آرڈرز کا ذکر کیا، جبکہ متعلقہ کاروباری اداروں نے کہا کہ وہ استعمال شدہ کتابیں خرید کر دوبارہ فروخت کرتے ہیں اور خود انہیں ڈیجیٹل شکل نہیں دیتے۔
مصنوعی ذہانت کو ڈیٹا کی بھوک ہے اور یہ بھوک ابھی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ کتابیں اس لیے اہم ہیں کہ وہ انسانی تحریر کا نسبتاً صاف اور مرتب شدہ ذخیرہ ہیں۔ کسی کتاب کے پیچھے ایک مصنف ہے، پھر مدیر، ناشر، پروف ریڈر اور قاری ہیں۔ دوسری طرف مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والا مواد تیزی سے انٹرنیٹ پر بڑھ رہا ہے۔ مشینیں انسان کے بنائے ہوئے مواد سے سیکھ رہی ہیں، پھر خود نیا مواد پیدا کررہی ہیں اور وہ مواد دوبارہ اسی دنیا میں شامل ہورہا ہے۔ ایسے میں پرانی انسانی تحریر سے بنے ذخیرے کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے۔
انسان نے صدیوں لگا کر علم لکھا، محفوظ کیا اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچایا۔ اب مشینیں اسی انسانی علم سے سیکھ رہی ہیں، مگر خطرہ یہ ہے کہ انسانی علم ایک صنعتی نظام میں خام مال بن جائے۔ کتاب اب کتاب نہیں، صرف متن ہے؛ مصنف اب مصنف نہیں، تربیتی مواد کا ذریعہ ہے؛ حاشیہ اب حاشیہ نہیں، قابلِ تجزیہ معلومات ہے۔ کارکردگی اور رفتار کی زبان میں یہ سب منطقی دکھائی دے سکتا ہے، مگر تہذیب صرف کارکردگی سے نہیں چلتی۔
مجھے اپنے گھروں کی وہ پرانی کتابیں یاد آتی ہیں جن کے پہلے صفحے پر کسی دادا، نانا، استاد یا طالب علم کا نام لکھا ہوتا ہے۔ بعض کتابوں میں پرانے خط رکھے ہوتے ہیں، کہیں کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر، کہیں کسی اخبار کی کترن اور کہیں کسی سفر کا ٹکٹ۔ کتابیں صرف اس لیے نہیں بچائی جاتیں کہ ان کے اندر لکھی ہوئی بات دوبارہ پڑھی جاسکتی ہے۔ انہیں اس لیے بھی بچایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہماری زندگی کا کوئی حصہ بندھا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک پرانی کتاب کو پھینکتے ہوئے آدمی کبھی کبھی یوں رک جاتا ہے جیسے وہ کاغذ نہیں بلکہ اپنے ماضی کا کوئی ٹکڑا پھینک رہا ہو۔
ڈیجیٹل نقل بہت قیمتی ہوسکتی ہے اور بعض اوقات اصل متن کو بچانے کا بہترین ذریعہ بھی، لیکن وہ اصل کے تمام معنی اپنے اندر نہیں لے جاتی۔ ایک مخطوطے کی تصویر اس کی تحریر محفوظ کرسکتی ہے، مگر اس کاغذ کی عمر نہیں۔ ایک اسکین مصنف کے الفاظ بچا سکتا ہے، مگر اس کتاب کا سفر نہیں۔ ایک پی ڈی ایف کتاب کے متن کو دنیا بھر میں پہنچا سکتی ہے، مگر اس کے داغ، حاشیے اور مالک کی انگلیوں کے نشان اپنے ساتھ نہیں لے جاتی۔ مٹی کی تختیوں سے پاپائرس تک، پاپائرس سے کاغذ تک، کاغذ سے چھاپے ہوئے صفحات تک، پھر مائیکروفلم، کمپیوٹر، ڈیجیٹل ذخیرے اور اب مصنوعی ذہانت تک، ذرائع بدلتے رہے ہیں۔ لیکن انسان کی بنیادی خواہش وہی رہی: جو کچھ میں جانتا ہوں، اسے اپنے ساتھ دفن نہیں ہونے دینا۔
آج ہمارے پاس انسانی تاریخ کے بے شمار متون کو محفوظ کرنے کی طاقتور ٹیکنالوجی موجود ہے، اور اسی وقت ہم یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ اصل کتابوں کو رکھنے کی ضرورت باقی ہے یا نہیں۔ ہمارے پاس پہلے سے بہتر اسکینر، زیادہ گنجائش رکھنے والے ذخیرے، طاقتور کیمرے اور مصنوعی ذہانت موجود ہے۔ پھر اگر ہم یہ کہیں کہ چونکہ کتاب کا اسکین بن گیا ہے، اس لیے اصل کتاب اب قابلِ تلف ہے، تو یہ ترقی کا عجیب تصور ہوگا۔
یہاں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آتی ہے: ’’نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ‘‘، یعنی قلم کی قسم اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔ ایک دوسری جگہ فرمایا: ’’الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘‘، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔ قرآن نے قلم اور تحریر کی طرف جس انداز سے توجہ دلائی ہے، اس میں انسانی علم کے سفر کی ایک گہری معنویت محسوس ہوتی ہے۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان آیات کا مطلب یہ نہیں کہ ہرکاغذی کتاب ہمیشہ محفوظ رہے گی؛ ان کا اصل مضمون قلم اور تحریر کی عظمت ہے۔ لیکن آج کی دنیا کو دیکھتے ہوئے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ انسان نے اپنے علم کو آگے پہنچانے کے ذرائع بدل دیے، مگر اپنی بات اگلی نسل تک پہنچانے کی خواہش نہیں بدلی۔
اگر ہم قرآن کی بات کو کاغذی کتاب یا قلم پر محمول نہ کریں، تب بھی کیا ڈیجیٹل دنیا ابدی ہے؟ سرور خراب ہوسکتے ہیں، کمپنیاں ختم ہوسکتی ہیں، فائلوں کے فارمیٹ متروک ہوسکتے ہیں، پاس ورڈ گم ہوسکتے ہیں اور ڈیٹا مراکز بجلی اور بنیادی ڈھانچے کے محتاج ہیں۔ آج جو فائل ایک لمحے میں کھل جاتی ہے، ممکن ہے سو سال بعد اسے پڑھنے والی ٹیکنالوجی ہی باقی نہ ہو۔ اس کے برعکس ایک کاغذی کتاب، اگر مناسب حالات میں محفوظ ہو، کسی خاص تکنیکی نظام کی محتاج نہیں۔ دونوں کے اپنے خطرات ہیں۔ دانش مندی شاید دونوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔
کتاب کو اسکین کیا جائے، ضرور کیا جائے۔ اسے دنیا بھر کے قارئین تک پہنچایا جائے، ضرور پہنچایا جائے۔ محققین کو اس تک رسائی دی جائے، ضرور دی جائے۔ مصنوعی ذہانت کو اس کے متن سے سیکھنے کا قانونی اور اخلاقی راستہ بنایا جائے، اس پر بھی سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔ لیکن اگر کتاب نایاب ہے، اس کی کاغذی کاپی منفرد ہے یا اس کی تاریخی و ثقافتی اہمیت ہے تو اسے صرف اس لیے کاٹ دینا کہ مشین نے اس کا متن محفوظ کرلیا ہے، ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر دوبارہ غور ہونا چاہیے۔
مصنفین کا مسئلہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ ایک انسان اپنی زندگی کے کئی سال ایک کتاب لکھنے میں لگا دیتا ہے اور پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کتاب کسی ایسے نظام کو سکھانے کے لیے استعمال ہورہی ہے جس سے اربوں ڈالر کی صنعت بن رہی ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے کتابوں کے استعمال پر لائسنسنگ اور معاوضے کے نئے طریقوں پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی متن کا حقوقِ اشاعت سے آزاد ہوجانا اور اس کی ہر کاغذی کاپی کا بے قیمت ہوجانا ایک ہی بات نہیں۔
مصنوعی ذہانت کے زمانے میں ممکن ہے بچہ کتاب پڑھنے کے بجائے اس کا خلاصہ پوچھے اور چند لمحوں میں جواب حاصل کرلے۔ یہ سہولت اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، مگر کتاب صرف معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ کتاب کے ساتھ بیٹھنا، ایک صفحے پر رک جانا، ایک جملہ دوبارہ پڑھنا، کسی بات سے اختلاف کرنا، حاشیے پر اپنی رائے لکھ دینا اور کئی سال بعد اسی کتاب کو دوبارہ کھول کر یہ محسوس کرنا کہ اس دوران ہم خود کتنے بدل گئے ہیں، علم کا حصہ ہے۔ مشین شاید ہمیں جواب دے دے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمیں وہ خاموشی بھی دے جس میں ہم اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں۔
مجھے اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا نہیں کہ مشین کتاب پڑھ رہی ہے۔ اگر کوئی مشین لاکھوں کتابوں سے سیکھ کر انسان کو علم تک زیادہ آسان رسائی دے تو اس سے بہتر استعمال کیا ہوسکتا ہے؟ دکھ اس امکان سے ہوتا ہے کہ کہیں ہم کتاب کو پڑھنے کے قابل بنانے کے لیے اسے زندہ رکھنے کے بجائے اس کے جسمانی وجود کو غیر ضروری سمجھنا شروع نہ کردیں۔
یہ بھی درست ہے کہ کتابیں مصنوعی ذہانت کے آنے سے پہلے بھی ضائع ہوتی رہی ہیں۔ پرانی کتابیں ردی میں جاتی رہی ہیں، کتب خانے بند ہوتے رہے ہیں، جنگوں میں کتابیں جلیں، نمی اور کیڑوں نے کتابوں کو کھایا اور بازار نے بہت سی کتابوں کو غیر ضروری سمجھ کر ان سے نجات حاصل کی۔ نایاب کتابوں کے کاروبار میں بھی بعض اوقات کتابوں کو کاٹ کر ان کے اندر موجود تصویری صفحات یا نقشے الگ فروخت کیے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے کتاب کے مادی وجود کو نقصان پہنچنے کی پوری تاریخ کو صرف مصنوعی ذہانت سے جوڑ دینا درست نہیں۔ لیکن ہمارے زمانے کی ذمہ داری اس لیے زیادہ ہے کہ اب ہمارے پاس انتخاب موجود ہے۔ ہم کتاب کو ڈیجیٹل بھی کرسکتے ہیں اور اصل کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں۔ ماضی میں شاید کسی کتاب کو بچانا دشوار تھا؛ آج ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جو متن کو محفوظ کرنے کے ساتھ اصل کتاب کو بھی باقی رکھ سکتی ہے۔
اگر اس کے باوجود ہم صرف سہولت یا رفتار کے لیے اصل کو ختم کریں تو سوال ضرور اٹھے گا کہ کیا یہ واقعی ترقی ہے؟ ہر چیز کو تیز کردینا ترقی نہیں۔ ہر چیز کو سستا کردینا ترقی نہیں۔ ہر چیز کو ڈیٹا میں بدل دینا بھی ترقی نہیں۔ کچھ چیزوں کی قدر اس لیے ہوتی ہے کہ انہیں دوبارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ چیزیں اس لیے محفوظ رکھی جاتی ہیں کہ وہ آنے والی نسل کے لیے کسی ایسے سوال کا جواب بن سکتی ہیں جو آج ہمارے ذہن میں بھی نہیں۔ کتاب انہی چیزوں میں سے ایک ہے۔
اس لیے اگر مصنوعی ذہانت کا زمانہ ہمیں انسانی کتابوں کے ایک نئے ذخیرے کی طرف لے جارہا ہے تو ہمیں نہ اندھی مخالفت کرنی چاہیے اور نہ اندھی خوشی۔ ہمیں سوال پوچھنے چاہییں: کتاب کہاں سے آئی، کس نے خریدی، کس مقصد سے خریدی گئی، کس نے اسکین کی، اصل کا کیا ہوا، مصنف کا حق کیا ہے، نایاب نسخے کا تحفظ کیسے ہوگا اور اس پورے عمل سے انسان کو کیا حاصل ہورہا ہے۔ یہ سوال مصنوعی ذہانت کے خلاف نہیں ہیں؛ یہ مصنوعی ذہانت کو انسان کے حق میں استعمال کرنے کے سوال ہیں۔
اور اسی جگہ ریختہ کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ریختہ واقعی اردو کتابوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کسی اے آئی کمپنی کو فراہم یا فروخت کررہی ہے تو اس بارے میں وضاحت ہونی چاہیے۔ یہ کوئی معمولی تجارتی معاملہ نہیں کہ چند لوگ آپس میں طے کرلیں اور بات ختم ہوجائے۔ اردو کا ادبی سرمایہ صرف کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں۔ مصنفین نے لکھا، ناشروں نے شائع کیا، قارئین نے خریدا، خاندانوں نے کتابیں سنبھالیں اور ایک پوری تہذیب نے اس ادب کو زندہ رکھا۔ کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے اگر ان کتابوں کو اسکین کرکے محفوظ کیا ہے تو یہ قابلِ قدر کام ہے، لیکن اس سے اسے یہ خودکار حق نہیں مل جاتا کہ وہ اس پورے ادبی سرمائے کو اپنی مرضی سے کسی تیسرے فریق کے حوالے کردے۔
اس لیے اردو کے مصنفین، ادیبوں، ناشروں، محققین، کتاب فروشوں اور قارئین کو ریختہ سے سوال ضرور کرنا چاہیے۔ الزام لگانے سے پہلے ثبوت مانگنا چاہیے، مگر سوال پوچھنے سے بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔ ریختہ کو واضح کرنا چاہیے کہ اس کے پاس موجود کتابوں کا ڈیٹا کس مقصد کے لیے محفوظ ہے؛ اسے کن اداروں یا کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے؛ کیا اس کے لیے کوئی تجارتی معاہدے ہوئے ہیں؛ ان معاہدوں کی نوعیت کیا ہے؛ اور جن مصنفین اور ان کے ورثا کی تحریریں اس ذخیرے کی بنیاد ہیں، ان کے حقوق کے بارے میں اس کی پالیسی کیا ہے۔ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے دور کرنا ریختہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی معاہدہ ہے تو اسے شفاف بنانا چاہیے۔ اور اگر واقعی ایسا کوئی معاملہ نہیں تو ریختہ کو صاف لفظوں میں اس کی تردید کرنی چاہیے۔
امریکہ میں مصنفین نے جب سوال اٹھایا تو معاملہ عدالت تک گیا۔ مقدمات ہوئے، دستاویزات سامنے آئے، معاہدوں اور مواد کے استعمال پر بحث ہوئی اور قانونی فیصلے اور تصفیے سامنے آئے۔ اردو دنیا کو بھی اپنے حقوق کے لیے اتنا ہی بیدار ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہماری کتابیں ہیں، کسی نے اسکین کرلی ہیں، اب وہ کہیں بھی استعمال ہوتی رہیں۔ اردو کے مصنفین کو بھی پوچھنا چاہیے: ہماری کتابیں کہاں جارہی ہیں؟ کس کے پاس جارہی ہیں؟ کس مقصد کے لیے استعمال ہورہی ہیں؟ اور اس سارے عمل میں ہمارا حق کہاں ہے؟
مصنوعی ذہانت ہماری بنائی ہوئی چیز ہے۔ اسے ہم نے بنایا ہے، اس لیے اس کے استعمال کے اصول بھی ہمیں ہی طے کرنے ہوں گے۔ اگر وہ کسی قدیم مخطوطے کو پڑھنے میں ہماری مدد کرتی ہے، کسی نابینا انسان کے لیے کتاب کو آواز میں بدل دیتی ہے، معدوم ہوتی زبان کے متن کو محفوظ کرتی ہے یا دنیا کے مختلف کتب خانوں میں بکھرے ہوئے علم کو ایک محقق کے سامنے چند لمحوں میں لے آتی ہے تو یہ ٹیکنالوجی کا اچھا استعمال ہے۔ لیکن اگر اسی عمل میں کتاب کو محض خام مال سمجھا جانے لگے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
کتاب الماری میں برسوں خاموش رہتی ہے۔ پھر ایک دن کوئی اسے اٹھاتا ہے اور دو سو سال پہلے مر جانے والا مصنف اچانک اس سے بات کرنے لگتا ہے۔ ایک شاعر چند مصرعوں سے ہمارے اندر کچھ بدل دیتا ہے۔ ایک مورخ ہمیں اپنے زمانے کی غلطیاں دکھاتا ہے۔ ایک ناول نگار کسی کردار کے ذریعے ہمارے دل کا کوئی بھولا ہوا گوشہ دکھا دیتا ہے۔ کتاب مرنے والوں اور زندہ لوگوں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔
ایک نسل لکھتی ہے، دوسری پڑھتی ہے، تیسری اسے دوبارہ سمجھتی ہے۔ ذرائع بدلتے رہتے ہیں، مگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آنے والی نسلیں ایک دن ہم سے پوچھ سکتی ہیں کہ جب تمہارے پاس انسانیت کے لکھے ہوئے علم کو محفوظ کرنے کی اتنی طاقت تھی تو تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ کیا تم نے اسے زیادہ لوگوں تک پہنچایا؟ کیا تم نے اسے محفوظ کیا؟ کیا تم نے مصنفین کو ان کا حق دیا؟ کیا تم نے نایاب کتابوں کو بچایا؟ یا تم نے یہ سمجھ لیا کہ چونکہ مشین نے اسے پڑھ لیا ہے، اس لیے کتاب اب ختم کی جاسکتی ہے؟
اس لیے مصنوعی ذہانت کو روکنا شاید حل نہیں۔ اس کے لیے اصول بنانا حل ہے۔ کتابوں کو ڈیجیٹل کرنا روکنا نہیں چاہیے؛ بلکہ اسے زیادہ منظم اور محفوظ بنانا چاہیے۔ لیکن ڈیجیٹلائزیشن کو کتاب کی تباہی کا مترادف بھی نہیں بننے دینا چاہیے۔ نایاب اور منفرد کتابوں کے لیے خصوصی تحفظ ہونا چاہیے، مصنفین اور ناشروں کے حقوق کے لیے واضح نظام ہونا چاہیے، مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں سے ڈیٹا حاصل کرنے کے طریقوں میں شفافیت کا مطالبہ ہونا چاہیے اور کتاب فروشوں، کتب خانوں اور آرکائیوز کو اس بحث میں شریک کرنا چاہیے۔
جو چیز ڈیجیٹل کی جاسکتی ہے، ضروری نہیں کہ اسے تباہ بھی کیا جائے۔ جو چیز خریدی جاسکتی ہے، ضروری نہیں کہ اسے ختم کرنے کا حق بھی مل جائے۔ اور جو چیز ڈیٹا بن سکتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ صرف ڈیٹا ہی ہو۔ مشین کو کتاب پڑھنے دیں، اس سے سیکھنے دیں، اسے دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچانے دیں، لیکن کتاب کو صرف اس لیے نہ ماریں کہ مشین نے اسے پڑھ لیا ہے۔