امریکی تعلیمی نظام حیرت انگیز ہے

معذور بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے بھی سرکاری اخراجات پر بہترین اہتمام کیے جاتے ہیں

از:- ڈاکٹر غلام زرقانی

چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ

آگے بڑھنے سے پہلے عرض کردوں کہ میں برسوں سے امریکی تعلیمی نظام کی ستائش کرتارہاہوں۔ہمارے بچے یہاں کے اسکولوں سے تعلیم یافتہ ہیں ۔ اس لیے میںنے یہاں کے تعلیمی نظام کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔بلکہ میں ایسےوالدین کو بھی جانتاہوں ، جن کے بچے بڑی عمر میں برصغیر پاک وہند سے امریکہ آئے اور انھیں اپنی عمر کے مطلوبہ معیارکے مطابق درجات میں داخلہ ملا۔ ابتدامیں انگریزی زبان سے ناشناسی کی وجہ سے مشکلات ومصائب کے کٹھن مراحل سے گزرے، لیکن جلد ہی وہ کلاس کے اچھے طلبہ وطالبات میں شامل ہوگئے ۔ بلاشبہ یہ کمال طلبہ وطالبات کی محنتوں سے زیادہ یہاں کے طریقہ تعلیم کا ہے اور یہاں کی معلمین ومعلمات کا ہے ۔ فرض کیجیے کہ ایک ایسا بارہ سالہ بچہ جو ہندوستان کے ایسے دیہات سے ہو، جسے اسکول میں پڑھنے کا موقع تک نہ ملا ہو،وہ جب امریکہ آتاہے ، تواسے عمر کے اعتبار سے چھٹے درجے میں داخلہ مل جاتاہے۔ نہ انگریزی سے شغف، نہ حساب وجغرافیہ سے تعلق ، نہ سائنس اور تاریخ سے کوئی وابستگی، تاہم یہ حیرت انگیز امر نہیں ہے ، تواور کیا ہے کہ دوتین سالوں کے اندر اندر اس کا شمار صف اول کے طلبہ وطالبات میں ہونے لگے ؟

بہر کیف، جو بات میں کہنے جارہاہوں وہ میرے لیے حیرت بالائے حیرت کا درجہ رکھتی ہے ۔چونکہ ہائی اسکول تک کی تعلیم یہاں لازمی وضروری ہے اور ہر بچے کا بنیادی حق ہے ، اس لیے جگہ جگہ سرکاری اسکول بنائے جاتے ہیں ، جہاں علاقے کے بچے مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔یہ تمام اسکول حکومتی امداد سے چلتے ہیں۔اسکول کی امداد کے لیے ہر صاحب خانہ سے سالانہ تعلیمی ٹیکس لیا جاتاہے۔ تاہم یہاں کثرت سے پرائیوٹ اسکول بھی ہیں ، جہاں دولت مند لوگ اپنے بچوں کو داخل کراتے ہیں ۔ اس طرح چند ایسے اسکول بھی ہیں ، جہاں مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم وتربیت کا اہتمام بھی ہوتاہے ۔ ایسے اسکولوں کو یہاں ’اسلامی اسکول ‘ کہا جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ رحمت سے ۲۰۱۰ء؁ میں ہم نے اپنی تنظیم کی نگرانی میں ’حجاز اکیڈیمی‘ نامی ایک اسکول کی بنیاد رکھی۔الحمد للہ دوچاربچوں سے شروع ہونے والا ’حجاز اکیڈیمی‘ آج صوبہ ٹیکساس کے چند اچھے اسلامی اسکولوں میں شمار کیا جاتاہے ، جہاں اس وقت دوسو طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔

اب اس حیرت بالائے حیرت کی تمہید سنیے ۔گذشتہ سال صوبہ ٹیکساس نے ایک نئی اسکیم شروع کی ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولوں میں پڑھاناچاہیں ، وہ اپنی پسند کے اسکولوں میں داخلہ کرواسکتے ہیں ، حکومت کی جانب سے ان کی فیس ادا کی جائےگی۔ حکومت کی جانب سے عام طلبہ کے لیے ہندوستانی روپئے میں فی کس سالانہ دس لاکھ اور معذور بچوں کے لیے سالانہ تیس لاکھ متعین کیا گیا۔ یعنی ایک بچہ جو معذور نہیں ہے ، وہ اگر کسی پرائیوٹ اسکول میں تعلیم حاصل کرے ، توحکومت کی طرف سے اسکول کو دس لاکھ سالانہ دیا جائے گااوربچہ معذور ہے ، توحکومت کی طرف اس کی تعلیم وتربیت پر سالانہ تیس لاکھ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔ اللہ کا شکرو احسان کہ ’حجاز اکیڈیمی ‘ بھی حکومت کی جانب سے متعینہ شرائط وضوابط پر پورااترا اور اسے بھی منظوری مل گئی ۔اس طرح مختلف مراحل طے کرنے کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات متذکرہ اسکیم سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔

ماہ اگست میں یہاں نیا تعلیمی سال شروع ہواہے ۔ میں بحیثیت بانی و چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن گاہے بگاہے انتظام وانصرام کے معائنے کے لیے ’حجاز اکیڈیمی ‘ جاتارہتاہوں ۔ عموما ایسا ہوتاہے کہ نئے تعلیمی سال کی ابتدا میںدوچاردنوں چھوٹے بچوں کی مائیں بھی درسگاہوں میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہیں ، تاکہ بچے بدک نہ جائیں اور قدرے آسانی کے ساتھ نئے ماحول سے آشنا ہوسکیں ۔ اس لیے جب ابتدائی ایام میں دوچار خواتین پر میری نگاہ پڑی ، تومیں نے یہی سمجھا کہ وہ بچوں کی مائیں ہوں گی ، لیکن جب میں نے تیسرے ہفتے بھی انھیں دیکھا،توپرنسپل سے پوچھ لیا کہ آخر اب تک یہ خواتین یہاں کیوں ہیں ؟ جوابا جو کچھ انھوں نے کہا، وہ سنتے ہی میں سکتے میں آگیا اور بہت دیر تک سرجھکائے محو حیرت رہا۔

حجاز اکیڈیمی کی پرنسپل صاحبہ نے مجھے بتایا کہ سرکاری سہولت کی وجہ سے اس سال ہمارے یہاں دو معذور بچوںنے بھی داخلہ لیا ہے ۔ وہ دیکھنے میں چاہے معذور نہ ہوں ، لیکن ذہنی طورپر ایسے نہیں ہیں ، جنھیں کسی بھی وقت نگاہوں سے دور رکھا جائے ۔ انھیں ہروقت انفرادی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی لیے ہر ایک بچے کے لیے حکومت کے خرچے پر تربیت یافتہ خواتین نگراں مہیا کرائی گئی ہیں ، جو ہر پل انھیں اپنی نگاہوں میں رکھتی ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسے بچوں پر عام بچوںکے مقابلے میں تین گنازیادہ خرچ کیا جاتاہے ۔یعنی ایک تواسکول کی فیس اور پھر نگراں کی تنخواہ ۔ خیال رہے کہ نگراں بھی ایسی نہیں ، جو عام خاتون ہوں، بلکہ ایسی ہیں، جنھوں نے معذور بچوں کی تعلیم وتربیت کے طریقے سیکھنے کےلیے سالوں تک کالج میں خصوصی تعلیم حاصل کی ہے۔

ہوسکے توتھوڑی دیر کے لیے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ سرزمین امریکہ میں ایک ایک فرد کی تعلیم وتربیت پر کس قدر توجہ دی جاتی ہے؟ ایک ایک بچے کے لیے ذہنی وجسمانی معیارکے مطابق اہتمامات وانتظامات کوئی آسان نہیں ۔ اور خیال رہے کہ ہمارے یہاں ایسے بچے داخل اسکول ہیں ، جو صرف ذہنی طورپر برائے نام معذور ہیں ، چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے میں انھیں کوئی تکلیف نہیں ہے، لیکن امریکہ میں توایسے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے بھی مخصوص ادارے ہیں ، جو چلنے پھرنے سے معذور ہیں اور بولنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے ۔ ایسے بچوں کے لیے باقاعدہ مخصوص بسیں ہیں ، جن کے اندر خود کار لفٹ کے ذریعہ بچے سوار ہوتے ہیں اور وقت مقررہ پر انھیں عملہ کی نگرانی میں واپس گھر پہنچایا جاتاہے۔

  • مرنے کے بعد ہمارا حساب وکتاب اور میموری چپس

صاحبو! کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے یہاں اگر کوئی معذور ہوگیا ہے، تواسے عام طورپر اضافی بوجھ سمجھاجاتاہے ؟ بہت ممکن ہے کہ اس عموم سے چند خانوادے مستثنیٰ قرار دیے جائیں ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ جسمانی معذور تو گھر میں قید رکھے جاتے ہیں اور ذہنی معذور وں سے علاقے کے لوگ سوالات کرتے ہیں اور اُن کے لایعنی جوابات پر قہقہے لگاتے ہیں ۔ اس طرح ساری زندگی انھیں مزے لینے کے لیے آسان کھلونا سمجھاجاتاہے ۔ ایک قدم آگے بڑھ کر کہنے دیجیے کہ علاقے میں کثرت سے ایسے معذور بچے بھی ملیں گے ، جنھیں والدین زدوکوب کرتے ہیں اور خاندان کے دوسرے رشتہ دار زجر وتوبیخ ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ معذور وں کے حوالے سے ہمارے طور طریقے اور مغربی سلوک میں کس قدر فرق ہے ؟ وہ نہ صرف اُن کی دلجوئی کرتے ہیں ، انھیں خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، بلکہ حتی الامکان کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ جس قدر ہوسکے وہ تعلیم وتربیت کے زیور سے بھی آراستہ ہوجائیں اور ہمارے یہاں عام طورپر معذور زندہ لاش سمجھ لیا جاتاہے ، جسے نہ کوئی پوچھتاہے ، نہ قریب آتاہے اور نہ ہی اس کی دلجوئی کی کوشش کرتاہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔