کیا MIM کابانی کوئی اسلام دشمن مرتد ہے؟

از:- محمد اشرف قاسمی

دارالافتاء: مہدپور، اجین، ایم پی

سری چن بسویشور (صدیق حسین)ایک مرتدِ جائر اور اسلام دشمنوں کا آلہ کار رہا ہے، اس کے ماننے والے آج بھی حیدرآباد وغیرہ میں موجود ہیں۔اس کے عقیدے ونظریات اورفتنہ سامانیوں کے تعلق سے حضرت مولانا محمد عبدالقوی صاحب (ناظم ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد) نے”چن بسویشور اپنی تحریرات ونطریات کے آئینہ میں”(مطبوعہ:ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد) میں تفصیلی وتحقیقی معلومات پیش کی ہیں۔ مولانا عبدالقوی صاحب نے کتاب کےآخر میں ازصفحہ 300 تا304 عام فہم انداز میں بڑی جامعیت کے ساتھ "عقائدِ اسلام” تحریر فرمایا ہے۔ جسے ہر مسجد، مدرسہ اور مکتب میں پڑھنے و پڑھانے کا اہتمام ہوناچاہئے۔

سری چن بسویشور (صدیق حسین) جیسے مرتدِجائر کے بارے میں زیرِ مطالعہ میری اس تحریر کی بنیاد مولانا عبدالقوی صاحب کی یہی کتاب ہے۔

سری چن بسویشور (صدیق حسین )نے اپنی خودنوشت سوانح "نشاۃ الاخری” میں اپنی پیدائش1303ھ م1886ء بمقام بالم پیٹ ضلع ورنگل تحریر کیا ہے۔اس نے مرزاغلام احمد قادیانی ملعون کی کتابوں سے استفادہ اور اس کے گمراہ وبے دین خلیفہ بشیرالدین کے دستِ دجل پر بیعت اور محمدعلی لاہوری قادیانی کی شاگردی کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کیا ہے۔

1924ءمیں مقام” گدگ”میں کسی شیطانی الہام یا دماغی اختلال کی بنیاد پر اس نے اپنا رخ ہندوؤں کی طرف موڑ لیااور ہندوؤں کے موعود اوتار "سرچن بسویشور”ہونے اعلان کیا۔ اس کے بعد”خاتم النبیین” کا عنوان اختیار کر کے مسلمانوں کوشکار بنانا شروع کیا۔
اس کے کچھ اعتقادات درج ذیل ہیں:

  • 1۔اللہ تعالٰی غیب سے شہود میں، شہود سے غیب میں منتقل ہوتا ہے۔جب ضرورت ہوتی ہے انسانی شکل دھار لیتا ہے،چنانچہ وہ(سری چن بسویشور) خود بھی اللہ تعالٰی کا مظہر ہے،اللہ تعالی پورےجاہ وجلال کے ساتھ بہ لباسِ چن بسویشور جلوہ فرماہے۔ اور اولیاءِ امت اطفال اللہ یعنی اللہ کی اولاد ہیں۔ نعوذ باللہ
  • 2۔انبیاء علیھم السلام جب ضرورت ہوتی ہے دنیا میں آتے رہتے ہیں،خود ان(چن بسویشور )کی خانقاہ میں تمام انبیاء کا اجتماع ہوتا رہتا ہے۔ان کے مریدین میں تین سو اٹھارہ افراد تو ایسے ہیں جو بالفعل کسی نہ کسی اوالعزم نبی کے مثیل بن کر ظہور پذیر ہوئے۔
  • 3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پر اللہ کہلاتے ہیں، زمین پر نبی کے نام سے موسوم ہوتے ہیں۔ اللہ اور محمد ایک ہی حقیقت کے دو روپ یادونام ہیں۔ آپ ہرتیرہ سوسال کے بعددنیا میں تشریف لاتے اور اس کے بگاڑ کی اصلاح کرتے ہیں۔چنانچہ چن بسویشور انہیں کاظہور ہے۔ نعوذ باللہ

جذبات کے ساتھ کھلواڑ

2جولائی2000ءکوشہر ٹمکور میں”ویراشیوا "شادی محل میں دیندار انجمن کی جانب سے” کل مذاہب امن کانفرنس”کے نام سے ایک جلسہ منعقدہوا اور خاص طور پر ہندوؤں اورعیسائیوں کواس جلسہ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،حیدرآباد سے آئے ہوئے مقررین نے جلسہ سے خطاب کیا،اپنی تقریرمیں انہوں نے حضرت فاطمہ زھرا رض کو”پاروتی دیوی”کا اوتار اور حضرت علی رض کو”گنیش ” کااوتار قرار دیا۔ نعوذ باللہ
اس پرٹمکور کے مسلمانوں نےاس کے خلاف کارروائی کی۔ پھرجواب الجواب میں اس کے عقیدتمندوں نےسازش کے تحت دیوبندی بریلوی اختلافات کوفروغ دینے کے لیےدونوں جانب منسوب کرکے اپنی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اشتہارات وپمفلٹ خفیہ طورپر ایک دوسرے کے گھروں میں پہنچایا۔

اس کے بعدجذبات کے ساتھ کھلواڑکی مثال حضرت مولانا عبدالقوی صاحب کے قلم سے ذیل میں پڑھیں:
"۔۔۔۔۔بہرحال!یہ ایک خطرناک منصوبہ تھاجومسلمانوں کے دو بڑے دھڑوں کو آپس میں بھڑا کر، عوام اور انتظامیہ کی توجہ دوسری جانب ہٹا کر پورا کیاجانے والا اور اس کے بھیانک نتائج کومسلمانوں کے سر تھوپا جانے والاتھا، تاکہ یہ لوگ خود تو اپنے گرو کے حکم کے مطابق ہندوکشی اورمنادر شکنی کا شرف حاصل کریں اور ان کا خمیازہ مسلم نوجوان بھگتیں۔

اللہ کا کرنا یہ کہ اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ٹمکور سے بنگلور جانے والی شاہراہ پر ایک ماروتی کارکے اسپیڈ بریکر سے ٹکرا کر بے قابو ہوجانے کی وجہ سے اس میں رکھا بم بلاسٹ ہو گیا، جس سے اموات بھی ہوئیں، اس گاڑی میں سے قابلِ اعتراض مواد اورملک دشمن تحریرات دستیاب ہوئیں، کارمیں سوار لوگوں کاصورت شکل سے مسلمان ہونا، بلکہ متشرع مسلمان ہونا واضح تھا۔۔۔۔۔۔اس حادثہ کے بعدپولیس کوہدایت جاری کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحقیق کے بعدیہ لوگ چن بسویشوری ہی نکلے، نیزپتہ چلا کہ اس سے قبل مندروں اور چرچوں پرکیے گئے حملوں میں بھی انہی فسادیوں کا ہاتھ تھا۔ جولٹریچر ان کی کار سے دستیاب ہوا وہ ان کے باطل مذہب اور فاسد منصوبوں کا اس قدر واضح ثبوت تھا کہ انتظامیہ(محکمہ پولس) اسے دیکھنے کے بعد ماننے پرمجبور ہوئی کہ یہ انہی کے کارنامے ہیں،اس میں مسلمانوں کی کسی جماعت کا دخل نہیں ہے، اس لیے انتظامیہ نے شک کی سوئی مسلم نوجوانوں کی طرف سے ہٹا کر اسی گروہ کواس میں ماخوذ کیا۔”
(چن بسویشوراپنی تحریرات ونطریات کے آئینہ میں، ص13،مولاناعبدالقوی صاحب)

یہ ہیں چن بسویشور اور ان کے حواری جومسلمانوں اورغیر مسلموں کے جذبات سے کھیل کر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

مجلس اتحادالمسلمین کاقیام اورجذباتیت کااستحصال

"۔۔۔۔اتفاق سے متعدد ہندو پنڈتوں نے اپنے عقیدہ وپیشین گوئیوں کی روشنی میں خود کے”جگت گرو”ہونے کادعویٰ کیا، اسی دوران کسی سیاسی سازش کے تحت بمبئی میں ایک فلمی اداکار کوبڑے شدومد سے حقیقی "جگت گرو”بنانے کی کوششیں ہونے لگیں، تو موصوف (چن پسویشور) کوبڑی غیرت آئی اوربہت فکر ہوئی کہ میرے مقابلہ میں کوئی اورشخص چن بسویشور یاجگت گرو کاعہدہ چھین لینے میں کامیاب نہ ہوجائے،اس لیے انہوں نے فوراً ایک کتاب تصنیف کی اور پوری قوت سے ثابت کیا کہ جگت گرو کا عہدہ صرف اورصرف نبی اسلام حضرت محمد ﷺ ہی کا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ "سرورِعالم” آپ ہی کوکہاجاتا ہے، عالمی سیادت کے لیے۲۵۰صفات و صلاحیت کی ضرورت ہے،اور وہ یاتونبی کریم ﷺ میں پائی جاتی ہیں یاپھر نعوذ باللہ ان کے ظہورِثانی اور بروزِلاثانی”سری چن بسویشور”میں پائی جاتی ہیں۔اس کتاب نے مملکتِ آصفیہ کے ہندوؤں میں تہلکہ مچادیا، ہندوؤں نے مقدمہ دائرکر کے حکومت کی جانب سے اس کتاب کوضبط کروانے کی سفارش کی، چنانچہ اربابِ حکومت کی جانب سے اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ بعدمیں تحریک(چن بسویشوریوں)کے ذمہ داروں کی کوشش سے یہ پابندی برخواست توہوئی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ موصوف کی وہ تصویریں حذف کردی جائیں جوسرورِعالم،جگت گرو اور ورلڈٹیچر کے نام سے کتاب میں شامل کی گئی تھیں،اس رسالہ کا ان لوگوں نے بڑے فخرسے ذکرکرتے ہوئے اسےچن بسویشور کے لامثال کارناموں میں شمارکیا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ کتاب واقعی سرورِ عالم ﷺ کے ناموس کے تحفظ کے طورپرلکھی جاتی تونہ ہندو رہنماؤں کو اتنی تکلیف ہوتی اور نہ ہی ایک مسلم حکومت کی وزارتِ مذہبی کی جانب سے اس پر پابندی عائدکی جاتی۔بات دراصل یہ ہے کہ سرورِعالم اور جگت گروکے نام سے جس شخصیت کاموصوف دفاع کر رہے تھے وہ ان کی اپنی شخصیت تھی،اپنی علامات اور اپنی تصویریں لگالگا کر نبی کریم ﷺ کے ناموس کے درپردہ اپنا کام بھی نکالناچاہتے تھے۔ پھراس پابندی کابھی موصوف(چن پسویشور )نے برمحل استحصال کیا،وہ اس طرح کہ عام مسلمانوں کے’حبِ رسول‘ کو للکارناشروع کیا کہ ایک مسلم حکومت میں ہندوؤں کی یہ جرأت کہ انہوں نے سرورِ عالم کی تعریف پرپابندی لگوادی،اس کے بعدتوہم مسلمانوں کوڈوب مرنا زیادہ بہترہے۔

معتقدین کاخیال ہے کہ آپ (چن پسویشور)نے اس واقعہ کے حوالہ سے بعض سربرآوردہ شخصیتوں کوجمع کرکے فرقہائے اسلام کی”ایک متحدہ تنظیم”قائم کرنے کی تجویز رکھی تھی،جس کوتسلیم کرتے ہوئے حاضرین نے”مجلس اتحادالمسلمین”کی بِنا ڈالی اور ان کواس کاصدرتسلیم کرلیا، لیکن جب یہ مجلس سیاسی میدان میں اتری توانہوں نے اس سے اپنارشتہ منقطع کر لیا۔
(چن بسویشورص25و26)

اپنے ایک رسالہ”اعادہ اسلام”میں چن پسویشورلکھتا ہے:
"اے مسلمانوں! میں اللہ سے علم پاکرکہتاہوں وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ کی بشارت پرپھر وہی زمانہ آیاہے،اسی علم نے آج سے بارہ سال پیشتر فقیرکو مجبورکیا اس اسلامی ریاست میں ایک مجلس قائم کی جائے جواس کام کی ہو(یعنی غربت آنے کے ڈرسے مسلمانوں کی رہی سہی دولت بیت المال میں اکٹھی کرلی جائے اور اسی سے مبلغین پیدا کئے جائیں) وہ مجلس قائم ہوئی،جس کا نام اتحادالمسلمین رکھا گیا…… امید کہ ممبران اتحاد المسلمین بیدار ہوجائیں گے اور اس کے بانی کی تڑپ کی طرف عودکریں گے۔” (اعادہ اسلام ص:ص,از;چن بسویشور)
(چن بسویشوراپنی تحریرات ونطریات کے آئینہ میں ص106و207،تصنیف:حضرت مولانامحمدعبدالقوی صاحب ناظم ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد،مطبوعہ:ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد)

حضرت مولاناعبدالقوی صاحب نے چن پسویشور کے مجلس اتحادالمسلمین کابانی ہونے کے سلسلہ میں چن بسویشور کے دعوے کی تردید کی ہے۔
لیکن1تا3کتوبر2025م،مطابق8تا10ربیع الثانی1447ھ کو مباحثِ فقیہ جمعیت العلماءہند کے تحت منعقد ’’عالمگیری مسجد ہائی ٹیک سٹی حیدرآبادتلنگانہ میں سہ روزہ فقہی سیمینارمیں شرکت کے لیے حیدرآباد بندہ کی حاضری ہوئی، تو وہاں کے متعدد مقتدر علماء وخواص سے ملنے کا موقع ملا، اس سفرمیں بعض بڑے علماءکے بارے میں بتایاگیا وہ لوگ اس مجلس کے ذمہ داروں کے خوف سے کچھ ضروری باتیں صاف صاف کہنے ولکھنے سے پرہیزکرتے ہیں کہ کہیں مبادا ان علماء کے زیرِ انتظام مدرسوں اور دیگردینی وملی کوششوں کے خلاف کوئی پریشان کن جانچ نہ شروع کردی جائے پھر "اونٹ کوسوسال یہ ثابت کرنے میں لگ جائیں کہ وہ بلی نہیں بلکہ اونٹ ہے”۔

اس سے قبل بھی میں نےحیدرآبادکے کئی اسفارکیے ہیں، لیکن راقم الحروف نے صرف اسی سفر کو ضبط کیا ہے۔جس میں اوقاف کی بے تحاشا بربادی اور اس بربادی میں وہاں کے اپنے رہبروں کی ملی بھگت وغیرہ کی طرف اشارہ کیا۔ اپنے اس سفر نامے کے درج اقتباس پر بات ختم کرتا ہوں:
”سیمینارہال سے ہوٹل واپس ہوتے وقت گاڑی میں ڈرائیورـ جو تعلیم یافتہ معلوم ہوتے تھےـ سے میں نے پوچھاکہ: اس مسجد،مدرسہ وغیرہ کی کوئی تاریخ مل سکتی ہے؟؟؟“
اس پرڈرائیورنے انتہائی تلخ لہجے میں کہا:
‘ کہ اس کی کوئی تاریخ نہیں ہے، اگربکوئی تاریخ ہے تو اوقاف کو بیچنے کی ہے۔’پھرگاڑی سے آگے اور پیچھے اشارہ کرتے ہوئے بتایاکہ:

‘یہاں سے وہاں تک کئی کلو میٹرتک کی زمینیں وقف کی ہیں، اور اربوں مالیت کی ہیں، لیکن ان تمام زمینوں کو اوقاف کے مسلم ذمہ داروں نے اونے پونے میں فروخت کرکے صرف اپنی جیبیں بھری ہیں’۔“

چن پسویشور جیسے مرتدِ جائر سے بات شروع کرکے حیدرآباد میں اوقاف کی لوٹ ماربپر بات ختم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آج بھی مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ ہورہا ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس میدان کے ماہرین کہیں چن پسویشور کے تجربات کے مطابق مسلمانوں اور دیگر اقوام کے جذبات سے تو نہیں کھیل رہے ہیں؟؟؟

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔