از:- شاہدعادل قاسمی
پرنسپل یتیم خانہ ارریہ
بہار کا سرحدی ضلع "سوپول " جو کوسی ندی کی گود میں بسا ہوا ہے, اسی” سوپول” کے "پرتاپ پور” کے” مدہوبنی” گاؤں کا ایک مرد درویش کا خواب ہے جو شرمندۂ تعبیر ہوتا جارہا ہے,جہاں کے اینٹوں میں سلیقہ,درختوں میں قرینہ,عمارتوں میں نمونہ دور سے ہی نظر آتا ہے,جسے علم کا گلشن,سلیقے کا چمن اور اخلاص کا نشیمن بھی کہہ دیاجاۓ تو کوئ مبالغہ یا مضائقہ نہیں, قومی شاہراہ سے اسلامی عظمت و رفعت کے میناروں پرجب نگاہ ٹھہر جاۓ تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ کسی مست قلندر نے اخلاص کا ایساتاج محل تعمیر کیا ہے جہاں ان گنت شاہ جہاں اور نورجہاں قربان ہیں, جواب اخلاص کی تعبیر اور حسن تعمیر کی تصویر سے ذہن ودماغ نے یہ طے کرلیا کہ یہ مزاج یقینا کسی صاحب ذوق علم وفن سے ہم آہنگ آفتاب کا ہی ہوسکتا ہے جنھوں نے فروغ علم اور تزکیہ نفس کے لیے چمن کو پروان چڑھایا ہے,1989 میں قائم شدہ جامعۃ القاسم مفکر ملت حضرت مولانا ڈاکٹر محفوظ الرحمن عثمانی نور اللہ مرقدہ کی شبانہ روز محنت اور جہد مسلسل کا ثمرہ ہے, ایک ہمہ جہتی علمی وتربیتی مرکزیت حاصل ہونے میں صدیاں بیت جاتی ہیں مگر اس قلیل عرصے میں یہاں کی شاہ کار علمی اور تعمیری ترقی اس بات کی غماز ہیں کہ جہاں مخلصین کی بے لوث قربانیاں شامل ہیں وہیں کسی مستجاب الدعوات کی آہ سحر گاہی بھی کارفرما ہیں۔
سقوطٍ ہند کے بعد جب دلی کی علمی مراکز کا خاتمہ ہوا تھا تو ایسے وقت میں ملت اسلامیہ کی تعلیمی کمزوریا اندلس اور اسپین کے دہانے کھڑی تھیں, مسلمانوں کے کمزور استقامت پر تعلیمی سسٹم کا نفاذ نہایت مشکل ترین مرحلہ تھا ایسے دور میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی اور حضرت سرسید خان کی ہمت وجرآت کو سلام جنھوں نے دینی اور عصری علوم کی آبیاری کے لیےاپنے دامن تک کو پھیلایا جس کا نتیجہ آج سامنے ہے, بعینہ مولانا عثمانی نے جامعۃ القاسم کے ذرہ ذرہ میں اپنی جوانی اور جولانی کو رچایا بسایا ہے, جہاں ملک ہی نہیں بیرون ملک کی مقتدر شخصیات کی آمد ہوچکی ہیں, دیار محفوظ پر امام حرم کے ساتھ ساتھ امامٍ بہار (نتیش کمار) کی تشریف آوری بھی ہوچکی ہے,ایشیاء کے عظیم جامعات اور یونیورسٹیوں کے سربراہان قدم رنجہ فرما چکے ہیں,حزب مخالف کے نیتا اور لیڈر یہاں کے علمی خوشبوؤں سے معطر ہوچکے ہیں اور ان خوشہ چینوں میں آ ج میرا بھی شمار ہوچکا ہے_
بولتی تعمیر اور مہکتا علم سے جہاں چہار دیواریاں بھی قال اللہ اور قال الرسول کی صداؤں بلند ہورہی ہیں وہیں ہماری گاڑی کا رخ مرکزی دروازے کی طرف ہوگیا,دربان بھی بالکل تراشیدہ اور تربیت یافتہ تھا ,یکلخت لپکا اور گاڑی کے آگے بڑھتا رہا ,دومنزلہ عمارت کے عقب میں چار پہیہ پارکنگ کا نظم ہوا اور ہم دو ٹانگوں کا ٹھہراؤ بالائی منزل کے آغوش میں ہوا, خراماں خراماں ہمارا قافلہ شاہ کار تعمیر کی دیدار سے شرف یاب ہوا, ہاۓ اللہ یہ کسی مدرسے کا مہمان خانہ ہے یا کوئ شاہی دربار ہے؟ سبھی ماڈرن فیسلیٹز اور جدید تقاضوں سے لیس مہمان خانہ بانئ جامعہ کے ذوق جمیل کی شہادت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے, عثمانی صاحب اکابرین کے تئیں ہمیشہ کنسس اور چاق وچوبند رہے,کن کا مزاج کس رنگ میں ڈھلتا ہے وہ رنگ گھولتے ریے, اکابرین کی خاطر داری اور اپنی خندہ پیشانی سے گرم کو سرد اور سرد کو معتدل کرنے کا ہنر کوئ عثمانی صاحب سےسیکھے,چھوٹوں پر شفقت اور ماتحتوں سے کام لینے کا جذبہ کوئ عثمانی سے حاصل کرے,پتھر سے موم اور کوہ گراں کے مدمقابل ہونا کوئ عثمانی سے سیکھے یہی ہنر اور طریق کار نے عثمانی صاحب کو منفرد اعزاز عطاء کیا ہے جوآۓ دن بلندیوں پر گامزن ہوتے چلے گئے۔
دیدہ زیب علمی اور تربیتی مرکز کے مہمان خانہ سے اخلاص کا گنگناتا ماحول اور شعبہاۓ زندگانی کے مختلف میدانوں کے شہ سواروں سے کھچا کھچ مہمان خانہ اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کناں بھی تھا, ضیافت کدہ جدت اور جودت کا مظہر ہے,دفتر قادیان اور دفتر مغرباں کا انتظام ہے,باتھ ٹب, ٹیشو,شاور سب دستیاب ہیں,رفع حاجت اور دفع ضرورت کا مکمل انتظام ہے اور ان سب کی فراغت پر چاۓ واۓ ٹیبل پر استقبال کے لیے پلکیں بچھاۓ منتظر ہے ۔
جامعہ امام قاسم کے موجودہ روح رواں , حضرت عثمانی کے خاص تربیت یافتہ اور ہم سبھوں کے داعی مفتی انصار صاحب قاسمی مہمان خانہ کے شوبھا کو ترقی دے رہے ہیں,نیک نامی اور صالح مزاجی مفتی صاحب کی فیمس ہے , خلق واطوار کے حسین پیکر اور صلاحیت و صالحیت کے عظیم مجسمہ ہیں,دل پر زبان کو ناپ تول کر بولتے ہیں اور سنجیدہ کوششوں سے مشن عثمانی کو انجام دیتے ہیں,نبض پر گرفت مضبوط ہے اور مزاج شناسی پر عبور ہے جس کی بدولت ادارے کے خدوخال پر کامیاب میک اپ کررہے ہیں,کوڈ نے ملک کو کم اور ملت اسلامیہ کو زیادہ جھنجھوڑا ہے,ناگہانی آفت نے لعل وگوہر کو چھینا ہے اور انھیں درنایاب میں عثمانی بھی ایک بیش بہا سرمایہ ہیں جسے قدرت نے واپس بلا لیا,اچانک یہ حادثہ ایک ایٹم بم تھا جس کے زد میں ادارہ بھی آیا,حالات دگرگوں ہونے لگے,ہاتھ پاؤں پھولنے لگے,نظر بد کا سایہ منڈلانے لگا اور مشکلات سے معانقہ ہوا, ایسے دشوار کن حالات میں مفتی انصار صاحب قاسمی اسم بامسمی نکلے, مکہ سے ہجرت کے موقعے پر نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کے انصاریوں نے جو معاونت کی ہیں اسی سنت کو حضرت مفتی انصار قاسمی صاحب نے بھی زندہ رکھا ہے ,آپ نے مشکل وقت میں مشکل کشا پر ایمان رکھ کر عقد مواخاۃ کے فریضے کو بدرجہ اتم نبھایا ہے اور جامعہ کو ازڈھا اور اجگروں کے نوالے بننے سے بچایا ہے۔
جامعہ کے موجودہ مہتمم قاری ظفر اقبال مدنی صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر محفوظ الرحمن عثمانی صاحب کے فرزند ارجمند ہیں جو عمر کے کچے اور تجربے میں کمسن ہیں لیکن ذمہ داریوں نے انھیں کم عمر میں ہی بزرگ بنادیا ہے, ایک ایک گوشے اور ایک زاوئیے سے واقف ہیں, جامعہ کے معائنے پر آپ ہر شعبے کی جانکاری دیتے رہے,تعداد کتب اور اراضی مدرسہ کی نوعیت بتاتے رہے,مشن عثمانی اور تحریک عثمانی سے واقف کراتے رہے اس کامیاب ترقی پر کامیاب مہتمم کا خطاب دیا جاسکتا ہے۔
جامعہ کی خشت و سنگ کو سنوارنے میں شاہ جہاں شاد بھائ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے,قیام جامعہ سے آپ عثمانی صاحب کے دست راست اور مشیر کار رہے ہیں,سیاسی اور سرکاری گلیاروں کے بازی گر ہیں
اور جامعہ کی ایسی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہمہ وقت شانہ بشانہ رہے ہیں اور آج آپ بھی مہتمم صاحب کے ساتھ جامعہ کی فلاح وبہبود کے لیے ہم قدم ہیں
اخلاص کے خون جگرسے سینچا گیا چمن کی فضاء میں دعا کی تاثیر,خدمت کا جذبہ اورمحنت و مشقت کی خوشبو پنہاں ہے, ظاہری زیبائش اورباہری رعنائیوں تک ہی محدود نہیں سمجھا جاسکتا ہے بلکہ اس کی جڑیں خلوص اور شاخیں اخلاص سے مربوط ہیں,درس گاہیں,کتب خانہ,دارالاقامہ,دارالمدرسین,کمپیوٹر سیکشن اور دیگر دفاتر کی دید پر جہاں دلی طمانیت میسر ہوئ وہیں ادارے میں طلباء کی سہولت کے فلٹر پانی اور روٹی میکر مشین کی موجودگی سے غیر معمولی مسرت بھی ہوئ,بافیض اور باصلاحیت اساتذہ کرام کی ٹیم کا خلوص بھی لاجواب تھا,وافر مقدار میں طالبان علوم نبویہ وعصریہ کی تربیتی جھلک کا معائنہ لائق افتخار رہا,بچوں کی ڈسپلن اور نشست وبرخواست کی عمدگی قابل ستائش رہی۔قطار بند بچوں کی نگرانی میں اساتذہ کا انہماک اور مفوضہ فریضہ کی انجام دہی صدفی صد ان کا واجبی حق ہے, ہر فیلڈ کے علاقائ لوگوں کی ایک جم غفیر کی موجودگی ادارے کے طرف کی خود اعتمادی کی خصوصیت کو بتاتا ہے,ادارہ نے عوامی رشتہ کو مضبوط بنایا ہے اور عوام کا بھی ادارے کے تئیں بیداری اور فیض رسانی پر مکمل مطمئن ہے اور یہی ایک کامیاب ذمہ دار کی شناخت ہے۔
تعزیتی اجلاس اور دعائیہ نشست (بہ یاد حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی سابق مہتمم دارالعلوم ندوةالعلماء لکھنؤ۔حضرت مولانا ثمین اشرف قاسمی صاحب۔حضرت قاری شبیر احمد قاسمی صاحب )دراصل یاد رفتگان کی ایک کڑی ہے جہاں نقوش حیات سے روشنیاں حاصل ہوتی ہیں ,جو علمی اور اخلاقی پاور کو مزید تقویت دینے کاایک موثر وسیلہ ہے,ایسی نشستوں سے یہ ذہن میں تازہ رہتا ہے انسان ضرور موت کی ابدی نیند سوجاتا ہے مگر علمی نقوش کے ذریعہ وہ زندہ رہتا ہے,انسان کے وفات کا دوسرا نام پردۂ غیاب ضرورہے مگر ان کا علمی فیض ایک جاری چشمہ ہے جو نسلوں کو سیراب کرتا ٗرہتا ہے,تجدید عہد کا پیغام انھیں محفلوں سے میسر ہوتا ہے,خود عثمانی صاحب کا جلایا یہ چراغ ہے جہاں سے علمی شعائیں پھوٹ رہی ہیں جو ایک صدقہ جاریہ ہے۔
عثمانی صاحب کی دلی خواہش تھی کہ جامعہ ایک مایہ ناز یونیورسٹی ہو, اب ان کے اس سپنا کو مکمل کرنا ہی اصل خراج عقیدت ہوگی۔
فقط ادارے کے مشاہدے کے لئے سفر ہو یہ قطعا معیاری سوچ نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کوئ مسٹحکم فکر بلکہ ایسا موقع انسان کو کئ رنگوں سے واقف ہونے کا ملتا یے, ادارے کے راہداریوں سے ماصی کی علمی روایات اور مستقبل کی امید کو مجتمع کیا جاسکتا ہے,ایسے ادارے قوموں کی زندگی کے لیے مشعل راہ ہوتے ہیں, ایسے اداروں سے معاشرے میں۔
بھلائ,اچھائ,عدل,مساوات,یکسانیت,دیانت,امانت اور روحانیت کے چراغ روشن ہوتے ہیں ,جامعہ اسی امید کی روشن علامت ہے ایسے اداروں کے لیے ہمیں کمر بستہ ہونا چاہیئے۔