مایوس کن اور تشویشناک حالات کا حل؛ تعلیم ہے

دین ہمارا اساس ہے اسے نظر انداز کر کے ہم اپنے معاشرے بالخصوص نئی نسل کی حقیقی اور مکمل تعمیر وترقی نہیں کر سکتے ہیں۔ دراصل دین اور دنیا میں تفریق زوال کی اہم وجہ ہے۔ اسی لئے تعلیم کا ہدف فقط تعلیم اور روزگار کا وسیلہ ہی نہیں تربیت بھی ہونا چاہیے۔‌ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں کی چال ڈھال سے دینی تربیت جھلکنا چاہیے بالعموم مسلمانوں کے اخلاق اور معاملات دین اسلام کا متعارف کرانے والے ہوں اسے یقینی بنانے کے لئے ہر حلقہ میں کام کرنا چاہیے۔

مایوس کن اور تشویشناک حالات کا حل؛ تعلیم ہے Read More »

پاکستان میں تشدد، آرمی ہیڈ کوارٹر میں گھسے مظاہرین

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے حالات خانہ جنگی کی طرف بڑھتے جارہے ہیں۔ مظاہرین گرفتاری کے خلاف پرتشدد مظاہرے پر اتر آئے ہیں۔ وہیں پاکستان تحریک انصاف پارٹی سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب شرپسندعناصر بدھ کو لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچے اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا۔

پاکستان میں تشدد، آرمی ہیڈ کوارٹر میں گھسے مظاہرین Read More »

کچھ باتیں دینی مدارس کے ذمہ داروں سے

یہ شوال کا مہینہ ہے، عام طور پر ہمارے مدارس میں رمضان المبارک کی طویل تعطیلات کے بعد عیدالفطر کے پہلے عشرے میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز قدیم داخلوں کی تجدید اور جدید طلبہ کے داخلوں کی تکمیل سے ہوتا ہے، دل چاہا کہ اس موقع پر کچھ باتیں مدارس کے تعلق سے ہوجائیں، قارئین کرام اس تحریر کو اس جذبہ سے پڑھیں کہ اس کا لکھنے والا مدارس ہی کا پروردہ ہے اور اس نے مدارس کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے،

کچھ باتیں دینی مدارس کے ذمہ داروں سے Read More »

حفاظ پلس + ڈاکٹر ۔ حفاظ + انجنیئر مہم کے تناظر میں

ہمارے یہاں ہی نہیں پورے ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں مولویوں کا ایک طبقہ ہے جسے دین کے تعلق سے غیر مولویوں کی کوئی بھی پہل برداشت نہیں۔‌دعوت دین کے کام کرنے والوں کی اصلاح اور ان کے دائرہ کار کو بالموعظة الحسنة یعنی اچھے ناصحانہ انداز میں سمجھانے کی بجائے ایسا لہجہ اور اسلوب تحریر اختیار کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے دین کا کاپی رائٹ صرف ایسے مولویوں کے پاس ہے۔

حفاظ پلس + ڈاکٹر ۔ حفاظ + انجنیئر مہم کے تناظر میں Read More »

سیمانچل کے مدارس: دردو کرب کے آنسو

ہزاروں اجلاس ہوۓ،کم سنوں کو علاقائی اداروں میں تعلیم وتربیت کا پاٹھ پڑھایا گیا،ملک کے حالات،راستے میں گھٹے واقعات اور مختلف پیش آنے والے معاملات سے آگاہ کیا گیا،پمفلٹ اور اشتہار سے گارجین کو ہدایت کی گئی،مگر واہ رے بے حِسی واہ نہ ہم ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی سننے کے لیے،اگر کچھ عقل وشعور والے ماں بھی جائیں تو ہمارے بیچ کے کمیشن خور سر سبز باغ دکھاکر انھیں بے وقوف بناجاتے ہیں،ایک بچے پر پانچ ہزار کا بزنس پھر تیس پینتیس بچوں پر بیس پچیس کے ٹکٹس کا دھندہ بھی زوروں پر رہتا ہے،نتیجہ شعبان میں آۓ دن دیکھنے کو ملتا ہے سال بھر میں نورانی قاعدے کی چند تختیاں وہ بھی کافی کمزور،املا،نقل،ہندی، انگلش اور حساب کا کیا کہنا؟

سیمانچل کے مدارس: دردو کرب کے آنسو Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔