دین اور مسلمان
رمضان کا مہینہ آتے ہی اکثر دوست احباب پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ بھائی یہ زکواۃ کا کیا معاملہ ہے ۔ مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے کہ بھائی کب تک یہ معاملہ پوچھتے رہیں گے ؟ ۔جواب ملتا ہے کہ یہ تو معلوم ہے کہ ڈھائی فیصد نکالنا ہے لیکن ہمارے پاس نقد تو رہتا نہیں ہے اور جو تجارت میں ہے آپ تو جانتے ہی ہیں کہ وہ کب ملے گا اور ملے گا بھی یا نہیں اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ جہاں تک زیورات کی بات ہے اس کی زکواۃ تو ہم نکالتے ہی ہیں لیکن اپنی عورتوں سے کہتے ہیں کہ زیوارات اتنا ہی رکھیں جتنی ضرورت ہے کیوں کہ زیادہ زیورات رکھ کر اس کی زکواۃ ادا کرکے کیا فائدہ جب ضرورت ہوگی زیور خرید لیں گے ۔