کولکاتا/چنئی: بھارت میں اسمبلی انتخابات کے تحت مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں متعدد نشستوں پر ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ انتخابی عمل سخت سکیورٹی کے درمیان جاری ہے اور پولنگ مراکز پر بڑی تعداد میں ووٹروں کی شرکت دیکھنے کو مل رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے والے اس مرحلے میں کئی اہم حلقے شامل ہیں، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ خاص طور پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے، جبکہ اقلیتی ووٹروں کا کردار بھی فیصلہ کن مانا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تمل ناڈو میں سیاسی منظرنامہ سہ رخی مقابلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہاں بنیادی طور پر تین بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں، جس کی وجہ سے انتخابی لڑائی مزید دلچسپ اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ریاست میں حکمراں جماعت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے اور اپوزیشن اس موقع کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ریاستوں کے نتائج نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اسی لیے ان انتخابات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔