ملی تنظیموں کے دائرہ کار کی تخصیص

تحریر: مسعود جاوید

عید الفطر کا  چاند 🌙 اس کا جلوہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس کی اطلاع پانے کے لیے جو بیتابی ہوتی ہے اس کی مثیل نہیں!۔اس وقت لوگوں کو مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی ضرورت کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ لیکن تمام تر دعووں کے باوجود آج تک حقیقی معنوں میں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی وجود میں نہیں آئی ہے ۔ عید الاضحی کا چاند نظر آنے کے بعد نو دن کا وقفہ ہوتا ہے اس لئے لوگوں میں اتنا جوش خروش نہیں ہوتا ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ آج نہیں تو کل ” مطلع صاف ” ہو جائے گا پھر بھی ایک ہفتہ کی مہلت ہوگی ۔  

اس بار زیادہ تر ملی تنظیموں نے ذو الحجہ کے چاند کی رؤیت کا اعلان لیٹر پیڈ پر ٹائپ کر کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے اور اب بھی بعض تنظیموں کا خیال ہے کہ وہی مسلمہ ‘مرکزی’  رؤیت ہلال کمیٹی ہے۔ اب تک رؤیت ہلال کی بابت جو لیٹر پیڈی اعلان نظر سے گزرا ان میں دو نئے لیٹر پیڈ نظر آئے ” امارت شرعیہ ہند” دہلی اور ” ملی کونسل بہار” ۔

 بہار جھارکھنڈ اڈیشہ میں رؤیت ہلال کے اعلان کے تعلق سے امارت شرعیہ مرکزی دفتر پھلواری شریف پٹنہ کو سب سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔ برسہا برس سے یہ ادارہ دیگر امور یعنی دارالقضاء وغیرہ کے علاوہ،  اعلان رؤیت کی خدمات بھی تواتر کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔ چونکہ ان کے تحت تقریباً ہر ضلع میں دارالقضاء کے دفاتر قائم ہیں اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیگر نام نہاد ” کل ہند” اداروں کی بہ نسبت امارت شرعیہ کے پاس رؤیت کی تصدیق کے ذرائع و وسائل بہتر ہیں اور ان کے ذمہ داران اس کام کے لئے جانے جاتے ہیں۔‌

ملی کونسل کا اعلان دیکھ کر حیرت ہوئی اور ایسا لگا عنقریب مسلم مجلس مشاورت بھی اپنے لیٹر پیڈ پر رؤیت کا اعلان کرنا شروع دے گی ! اس لئے کہ مسلمانان ہند کو دو ہی اہم مسائل کا سامنا ہے پہلا چاند کے اعلان کے ساتھ ہی شیر خورمہ/سیوئیاں نئے جوڑے نئے جوتے چپل اور دوسرا سیلاب سے متاثرین میں راحت رسانی ریلیف کٹ کی تقسیم ! 

کاش یہ تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کار کی تخصیص کرتے؛ کامن سول کوڈ کا مسئلہ گرچہ بہت پرانا ہے پھر بھی ضرورت کے تحت بالخصوص انتخابات کے وقت اس کا جن باہر نکالا جاتا ہے ۔ کاش مسلم پرسنل لاء بورڈ اعلان کرتا کہ یہ ہمارا دائرہ کار ہے، ہم حکومت کے چوٹی کے ذمہ داروں اور اپوزیشن کے لیڈروں سے ملاقات کرنے  اور بوقت ضرورت  عدالت کے دروازے کو کھٹکھٹانے کے اہل ہیں۔

 ہم دہلی میں باضابطہ کل وقتی طور پر موجود ہیں۔اس طرح کے مشترک مسائل کے لئے ہم پوری طرح مستعد ہیں اس لئے جو بھی بات کی جانی ہے اسی پلیٹ فارم سے کی جائے۔ اس پلیٹ فارم سے بلا تفریق مسلک و مشرب ایک مشترکہ اور متفقہ موقف پیش کیا جائے گا۔ 

پارلیمنٹ سے سڑک تک ایک ہی موقف ہوگا۔ اس طرح کے اعلان کے بعد کسی ادارے کی طرف سے ایسا کوئی بیان نہیں آنا چاہیے کہ ہم احتجاج نہیں کریں گے یا ہم سڑکوں پر اتریں گے ۔ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے یہ بورڈ کی اعلیٰ قیادت کے صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے۔  اپنے قیمتی مشورے میڈیا کی بجائے بورڈ کے اعلیٰ ذمہ داروں تک پہنچانا چاہیۓ اور محاسبہ بھی ہونا چاہیے کہ اس بابت ابھی تک انہوں نے کیا کیا ہے۔   

اسی طرح بورڈ سے غیر واجب توقعات رکھنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ بورڈ کا دائرہ عمل مسلم پرسنل لاء یعنی شخصی قوانین نکاح،  طلاق، فسخ، عدت خرچ، رضاعت خرچ، وارث اور تقسیم میراث وغیرہ ہیں جو انگریزی استعمار کے دور سے ہی محمڈن پرسنل لاء اور ہندو پرسنل لاء کے نام سے نافذ العمل ہیں۔ اس لئے بورڈ سے اترکاشی یا کسی اور جگہ کے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملے میں بیان نہ  دینے اور ملی تنظیموں کے دائرہ کار میں مداخلت نہ  کرنے پر بورڈ پر لعن طعن نہیں کریں۔ 

نام کے اعتبار سے یہ کام ” کل ہند”مسلم مجلس مشاورت اور "کل ہند”ملی کونسل کا ہے کہ وہ ملی تنظیموں کے سربراہان کی خصوصی میٹنگ بلا کر ایک مشترکہ نمائندہ وفد تشکیل دے کر ، وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دیگر چوٹی کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کرے ،  میمورنڈم پیش کرے،  متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے اور پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس کر کے کسی بھی خطے میں بود و باش اختیار کرنے اور تجارت کرنے کی دستور ہند میں دی گئی ضمانت کے خلاف مخصوص عناصر کی جانب سے خلاف ورزی کے خلاف اپنی بات رکھتے اور میڈیا کے توسط سے انصاف پسند شہریوں تک اپنی بات پہنچاتے۔ 

یہ کام جمعیت علماء، جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث کا ہے کہ اس مسئلہ پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور حالات کی سنگینی پر غور وفکر کریں اور بلا تفریق مسلک و مشرب ایک جوائنٹ کوارڈینیشن کمیٹی تشکیل دیں ۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: