امارت شرعيہ كا وجود اتنا كمزور نہيں

مفتی محمد نوشاد نوری  القاسمی  

استاذ عربی ادب ومفتی دار العلوم وقف ديوبند

پچھلے كچھ دنوں سے ، ايک احمقانہ عمل نے ،ا مت ميں تشويش پيدا كردی ہے، جھاركھنڈ كے ايک جلسے ميں جو دينی، اصلاحی اور تعليمی موضوعات پر منعقد ہوا تھا، كچھ لوگوں كو ’’طوطا اُڑ‘‘،’’ مينا اُڑ‘‘ كھيلنے كی سوجھی اور انہوں نے موقع كو غنيمت جان كراور لوگوں كی غفلت كو بھانپ كر، كھيل ميں رنگ بھرنے كي غرض سے ،’’امارت شرعيہ اُڑ‘‘كہہ ديا اور يہ سوچا كہ يہ كہتے ہی لوگ امارت شرعيہ كو اُڑاديں گے؛ مگر وائے رے خود فريبی كہ ايسا نہيں ہوا، امت مسلمہ غفلت ميں ہے، يہ بات تو معروف ہے، مگر اتنی بھی غافل نہيں كہ ہر بوالہوس كے جال ميں پھنس جائے، اجتماعی ضمير ميں زندگی كی ابھی بہت سی لہريں ہيں جن سے امت كا وجود الحمدللہ اپنے ملی تشخص اور امتياز كے ساتھ باقی ہے، اسی ليے اسی پروگرام ميں كھيلنے والوں كو مات دے دی گئی، منتظمين اجلاس نے بروقت براءت كا اظہار كيااور بروقت فتنے كا گلا گھونٹ ديا،اس طرح سے كہنا چاہيےكہ سازشی حضرات كے طوطے اڑگئے، يہاں پر جھاركھنڈ كی باشعور عوام اور ملی حميت اور عالمانہ وقار سے لبريز علمائے جھاركھنڈ كے موقف كی تعريف  ہونی چاہيے،جنہوں نےفتنہ كو بروقت بھانپا اور زبان وقلم سے اپنی اجتماعيت اور ملی قيادت پر اعتماد كا ثبوت فراہم كيا۔ 

مزيد كچھ باتيں: 

 اس موقع پر چند باتوں كا تذكره ميں ضروری سمجھتا ہوں :

  • (1)تنظيموں اور اداروں ميں اختلافات ہوجاتے ہيں اور بعض دفعہ بڑے سنگين نتائج تک پہونچا ديتے ہيں؛ مگر عام طورسے اس كی كچھ ظاہری وجوہات ہوتی ہيں، يہاں تو ايسا كچھ بھی نہيں ہے، نہ ظاہرًا اور نہ ہی باطنًا، اس ليے كہ موجوده امير شريعت دامت بركاتہم نے امارت كےتنظيمی ڈھانچہ ميں كوئی ايسی تبديلی ہی نہيں كي ، جس سے كسی صوبے يا علاقے كے افراد كو اعتراض كا موقع ملے، حضرت اميرشريعت سابعؒ كے زمانے ميں جو نائب امير شريعت اور قائم مقام ناظم امارت شرعيہ تھے ، تاحال وه اپنے انہيں عہدوں پر ہيں، يہی حال ديگر ذمہ داريوں كا بھی ہے، اس سلسلے ميں موجوده امير شريعت كی احتياط حد سے زياده بڑھی ہوئی ہے، وه تنظيمی ڈھانچے كو بعينہ باقی ركھ كر كام كرنا چاہتے ہيں، تاكہ كسی قسم كا خلفشار نہ ہو، ہاں اگر ايسا ہوتا كہ كسی صوبے يا علاقے كے صاحب منصب فرديا افراد كو عہدے سے ہٹاديا جاتا تو اختلاف اور اعتراض كی كوئی وجہ تھی؛ مگر يہاں تو سرے سے اس طرح كی كوئی بات ہی نہيں۔ 
  •  (2) تنظيمی ڈھانچے  كے علاوه ، ايمانداری كے ساتھ ان كاموں كو ديكھا جائے، جو صوبہ جھاركھنڈ ميں امارت شرعيہ كے پليٹ فارم سے انجام ديےگئے ہيں، تو اس سے باليقيں ہر منصف آدمی كو اندازه ہوگا كہ جھاركھنڈ ميں امارت كا مضبوط كام بھی ہے اور كام كےليے  حوصلہ مند اور مخلص افراد بھی ہيں، اس وقت جھاركھنڈ ميں 17 دار القضاء قائم ہيں،جن ميں كام كرنے والے افراد كو باضابطہ امارت سے تنخواہيں ملتی ہيں،  امارت كے كل گياره اسكولوں ميں سے چار اسكول جھاركھنڈ ميں ہيں،  پچھلے دوسالوں ميں ہی پانچ اسكول قائم كيے گئے  ہيں، جن ميں سے دو جھاركھنڈ  ميں قائم كيے گئے ۔ 
  • (3)انسان كے جوہر كو پركھنے كا اصل وقت ،آزمائش اور فتنہ كا وقت ہی ہوتاہے، كتنے لوگ بظاہر انتہائی باوقار اور سنجيده معلوم ہوتے ہيں؛ ليكن ذرا ان كی رائے سے اختلاف ہوا، يا كوئی مشكل گھڑی آئی تو آپے سے باہر ہوجاتے ہيں اور ملت كے اجتماعی مفادات كو بڑی بے دردی سے ،ذاتی مفادات كی چوكھٹ پر قربان كرديتے ہيں، اس وقت بھی اس كے كچھ نمونے مل جائيں گے، جب كہ يہی وقت تھا كہ وه اپنی عالمانہ ذمہ داری بھی اداكرتے اور ملی ذمہ داريوں كا بھی ثبوت فراہم كرتے۔ 
  • (4) ملی تنظيموں ميں امارت شرعيہ بہار اڈيشہ وجھاركھنڈ كا يہ امتياز رہا ہے كہ ان كے اكابرين نے امارت كے اصول وضوابط نيز امارت كے دائره كار كی ايسی عمده ، معقول اور عملی شكل بنائی ہے كہ كسی بو الہوس كے ليے اس پر شبخوں مارنا آسان نہيں ہے، یہی وجہ ہے كہ امارت شرعيہ عوام كے دلوں ميں رہتی ہے، جو وابستگی ان تين صوبوں كی عوام كو امارت شرعيہ سے ہے ، اس كي نظير وطن عزيز ميں ناياب ہے، يہ عوامی اعتماد امارت كی روح ہے اور يہ اخلاص وجاں نثاری اور ملی كاز كےليے ہمہ وقت تازه دم رہنے كی بركت ہے، جو اكابرين امارت كا امتياز بھی رہا اور امارت كا ملی ورثہ بھی ، ايسے ميں اللہ تبارک وتعالے كی ذات سے قوی اميد ہے كہ سازش كے دريا كے  غوطہ زن حضرات بھی اور ساحل كے تماشائی بھی ، كبھی كامياب نہيں ہو سكيں گے ان شاء اللہ، ہاں اپنی رسوائی كے كچھ اسباب ضرور مہيا كراديں گے،ماضی ميں ملت ميں بعض افرادايسے گزرے جن كے ماتھے پر تفريق امت كا داغ ہے، انہوں نے بڑی كوشش كی كہ سفيد پوشی، كثرت ِسجود، اعتكاف اور طواف سے اس داغ كوكسی طرح دھوليا جائے؛ مگر ملت سے غداری كا داغ اتنا گہرا ہوتا ہےكہ اسے كسی طرح دھويا نہيں جاسكتا ، بھلا دنيا كے كسی كارخانے ميں ايسا صابون يا پاؤڈر بنا ہے جو مير جعفر اور مير صادق كے داغ كو دھوسكے؟؟؟  
  • (5) كيا اہل علم كو يہ بتانے كی ضرورت ہے كہ ’’ہماری نمائندگی ‘‘، ’’ہمارے لوگ‘‘، ’’ہمارا علاقہ‘‘ اور اس طرح كی تعبيرات كا سِرا ، اس مذموم تعصب سے ملتا ہے، جس كی بيخ كنی اسلام كے اہم ترين مقاصد ميں سے ايک ہے،اگر ’’ہم‘‘ اور ’’ہمارا‘‘كے نعرے ، اداروں اور تنظيموں كا حصہ بن جائيں تو نہ كوئی اداره چل سكتا ہے اور نہ ہی كوئی تنظيم باقی ره سكتی ہے، اس ليے امت كے اجتماعی مفاد ميں ہميں تعصب كی ڈفلی بجانے سے گريز كرنا چاہيے ، اللہ تعالے سے دعا ہے كہ امارت شرعيہ كو شرور وفتن سے محفوظ ركھے اور اسے مزيد استحكام اور ترقيات عطا فرمائے آمين۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: