مینج کرنا سیکھئے!

از:- محمد قمر الزماں ندوی

انسانی معاشرت اور میل جول میں اختلاف، کشمکش، کشاکش اور ٹکراؤ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں افراد، جماعتیں اور قومیں ایک دوسرے کے مقابل آتی رہی ہیں۔ ایسے مواقع پر عمومی طور پر دو رویے اختیار کئے جاتے ہیں: یا تو انسان جذبات کے زیرِ اثر آکر براہِ راست ٹکرا جاتا ہے، یا پھر گھبرا کر فوراً ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ بظاہر پہلا راستہ بہادری اور دوسرا بزدلی سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔

دانائی اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان دونوں انتہاؤں کے بجائے ایک تیسرا راستہ اختیار کیا جائے اور وہ ہے “مینج کرنا”، یعنی حالات کو سمجھ کر، جذبات سے اوپر اٹھ کر، براہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے مسئلے کو حکمت و دانائی کے ساتھ حل کرنا۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہر ٹکراؤ بہادری نہیں ہوتا، اور ہر پسپائی بزدلی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات براہِ راست مقابلہ نہ کرنا ہی اصل جرآت اور اعلیٰ ظرفی کی علامت ہوتا ہے۔ کیونکہ ٹکراؤ وقتی تسکین تو دے سکتا ہے، مگر اس کے نتائج اکثر خطر ناک اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، حکمت کے ساتھ راستہ بدل لینا، وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانا، یا معاملے کو مختلف زاویے سے حل کرنا ایک ایسی مہارت ہے جو بڑے لوگوں کا شیوہ اور اسوہ رہا ہے۔

قرآن مجید ہمیں بار بار صبر، تحمل اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کامیابی ہمیشہ جلد بازی یا جذباتی ردعمل میں نہیں، بلکہ سوچ سمجھ کر اٹھائے گئے قدم میں ہوتی ہے۔ اسی طرح سنتِ نبویؐ میں بھی ہمیں اس حکیمانہ طرزِ عمل کی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کئی مواقع پر براہِ راست ٹکراؤ سے گریز فرمایا، راستہ بدل لیا، یا وقتی طور پر مصلحت کو ترجیح دی، تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے اور مناسب وقت پر بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

یہ طرزِ عمل کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی حکمت عملی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان وقتی جذبات کے بجائے دور رس نتائج کو سامنے رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں، بلکہ بعض جنگیں نہ لڑنا ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

آج کے حالات، خصوصاً ہندوستان جیسے متنوع اور حساس معاشرے میں، اس اصول کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور نظریات کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر ہر اختلاف کو ٹکراؤ میں بدل دیا جائے تو امن و امان کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم معاملات کو مینج کرنا بھی سیکھیں ،یعنی اشتعال انگیزی سے بچیں، حالات کو سمجھیں، اور ایسے راستے تلاش کریں جو نقصان کے بجائے فائدہ پہنچائیں۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ “مینج کرنا” کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان حق اور سچائی سے دستبردار ہو جائے یا ناانصافی کو قبول کر لے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کو قائم رکھنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو زیادہ مؤثر، کم نقصان دہ اور زیادہ دیرپا ہو۔ کبھی خاموشی اختیار کرنا، کبھی لہجہ نرم کرنا، کبھی وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانا ،یہ سب حکمت عملی کے حصے ہیں، نہ کہ کمزوری کی علامتیں۔
عقل و شعور بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔ ایک سمجھدار انسان ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر کسی اقدام سے فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہو، تو وہ اس سے گریز کرتا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر جذبات کو عقل پر ترجیح دی جاتی ہے۔ معمولی اختلاف بھی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے، اور پھر بات بڑھتے بڑھتے ایسے مقام تک پہنچ جاتی ہے، جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔ اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں، اپنے معاشرے کو خوشگوار اور مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس رویے کو بدلنا ہوگا۔

ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اشتعال کا ردعمل دینا لازم نہیں، اور ہر میدان میں اترنا دانشمندی نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان یہ پہچان لے کہ کہاں بولنا ہے، کتنا بولنا ، کس لہجے میں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے، کہاں آگے بڑھنا ہے اور کہاں رک جانا ہے، کہاں مقابلہ کرنا ہے اور کہاں معاملہ کو مینج کرنا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “مینج کرنا” دراصل زندگی کی ایک اعلیٰ ترین مہارت ہے۔ یہ ہمیں نہ صرف غیر ضروری ٹکراؤ سے بچاتی ہے بلکہ ہمیں زیادہ مؤثر، باوقار اور کامیاب بناتی ہے۔ یہ حکمت، صبر اور دور اندیشی کا حسین امتزاج ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے اور معاشرے کو بھی امن و استحکام کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس اصول کو سمجھیں، اپنائیں اور اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ پیغام ہے جس میں خیر خواہی بھی ہے، دانائی بھی، اور ایک بہتر مستقبل کی ضمانت بھی۔

ایک صاحب دانا کی تحریر آج ہی اس عنوان سے نظر گزری ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ہدیئہ قارئین کردوں ۔

"معاملات میں لوگ عام طور پر دو طریقے کو جانتے ہیں۔ ایک ہے فریق مخالف سے ٹکرانا، اور دوسرا ہے، فریق ثانی کے مقابلے میں سرینڈر کرنا۔ عام طور پر لوگ ٹکرانے کو بہادری سمجھتے ہیں، اور سرینڈر کرنے کو بزدلی ۔ یہ دونوں طریقے غیر حکیمانہ ہیں۔ حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ آپ معاملے کو مینج کرنا سیکھیں۔ یعنی براہ راست مقابلہ کیے بغیر بالواسطہ انداز میں مسئلے کو حل کرنا۔

مثال کے طور پر رسول اللہ ایک بار سفر میں تھے۔ آپ کو خبر ملی کہ فریق مخالف کا ایک دستہ آپ کی طرف چلا آرہا ہے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ بِنَا عَلَى طَرِيقِ غَيْرِ طَرِيقِهِمُ الَّتِي هُمْ بِهَا ؟ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : فَسَلَكَ بِهِمْ طَرِيقًا وَعْرًا أَجْرَلَ بَيْنَ شِعَابٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَدْ شَقَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَأَفْضَوْا إِلَى أَرْضِ سَهْلَةٍ عِنْدَ مُنْقَطِعِ الْوَادِي (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 309) ۔ یعنی آپ نے کہا: کون ہے جو ہم کو اس راستے سے لے کر چلے، جو ان سے الگ راستہ ہو ۔ قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے کہا: میں، اے خدا کے رسول ۔ پھر وہ ان کو لے کر ایک دشوار راستے سے چلا۔ یہ ایک مشکل بھرا راستہ تھا۔ جب وہ اس دشوار راستے سے نکلے، اور یہ راستہ مسلمانوں کے لیے بہت مشقت والا تھا، وہ لوگ وادی کے خاتمے پر کھلے میدان میں پہنچ گئے۔

اس سنت رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو اپنا راستہ بدل دیجیے۔ ایسے موقع پر آپ ہرگز ایسا نہ کریں کہ اپنے راستے پر چلتے رہیں، یہاں تک کہ ٹکراؤ کی نوبت آجائے ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے راستے کو بدلیں۔ اپنے منصوبے کو نئے انداز سے مرتب کریں ۔ اس طریقے کو ری پلاننگ کہا جاتا ہے۔ ری پلاننگ کا یہ طریقہ ہر جگہ مطلوب ہے۔ گھر کے اندر بھی، اور گھر کے باہر بھی۔ چھوٹے معاملے میں بھی اور بڑے معاملے میں بھی۔ گھریلو معاملے میں بھی اور بڑے بڑے اجتماعی معاملات میں بھی”۔
(بحوالہ کتاب، حکمتِ اختلاف؛ صفحہ: ۹۵)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔