نیٹ، کیوٹ اور سی بی ایس ای تنازعات پر تشویش؛ 6 جون کے احتجاج میں شرکت کا اعلان
نئی دہلی: معروف ماہرِ تعلیم، ماحولیاتی کارکن اور میگسیسے ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک نے ملک کے تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے تو وہ 6 جون کو نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوں گے۔
سونم وانگچک نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک میں نئی تعلیمی پالیسی سمیت متعدد مثبت منصوبے موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران نیٹ (NEET)، کیوٹ (CUET) اور سی بی ایس ای (CBSE) امتحانات سے متعلق سامنے آنے والے تنازعات نے تعلیمی نظام کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور طلبہ کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور باوقار ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے تعلیم کے شعبے کو مستحکم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کا بھارت آج کے طلبہ کے ہاتھوں میں ہے، اس لیے تعلیمی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور معیار کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وانگچک نے زور دے کر کہا کہ امتحانات میں بار بار پیدا ہونے والی بے ضابطگیاں محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ملک کے مستقبل سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ اور تعلیمی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں مختلف طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، سوالیہ پرچوں کے افشا اور جانچ کے عمل میں خامیوں کے خلاف متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں 6 جون کو نئی دہلی میں ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔