’’وندے ماترم‘‘ کو قومی ترانے کے مساوی درجہ، مرکزی کابینہ کی منظوری

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ’’وندے ماترم‘‘ کو قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے مساوی قانونی درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دے دی گئی۔ حکومت کے اس فیصلے کو ایک اہم سیاسی اور آئینی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق اب ’’وندے ماترم‘‘ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو قومی ترانے کو حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام ایکٹ 1971‘‘ میں ترمیم کی جائے گی۔ ترمیم نافذ ہونے کے بعد ’’وندے ماترم‘‘ کی توہین، اس کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے یا بے احترامی کرنے پر بھی قانونی کارروائی ممکن ہوگی۔

موجودہ قانون کے تحت قومی ترانے کی توہین پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ نئی ترمیم کے بعد یہی دفعات ’’وندے ماترم‘‘ پر بھی لاگو ہوں گی۔

واضح رہے کہ ’’وندے ماترم‘‘ بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ کا حصہ ہے، جو انیسویں صدی کے اواخر میں تحریر کیا گیا تھا۔ ناول کے بعض حصوں اور اس کے پس منظر کو لے کر طویل عرصے سے تنازعہ رہا ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق اس میں مسلمانوں کو حملہ آور اور مخالف کرداروں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ملک کے ایک طبقے، خصوصاً مسلم تنظیموں اور دانشوروں کی جانب سے ’’وندے ماترم‘‘ پر اعتراضات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم آزادی کی تحریک کے دوران یہ نغمہ انقلابی جذبے کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد ایک اہم علامتی اقدام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ کابینہ میٹنگ میں وزراء نے انتخابی کامیابی پر وزیر اعظم مودی کو مبارکباد پیش کی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔