ارریہ/پورنیہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور معروف اسلامی اسکالر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے سیمانچل دورے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بورڈ کی صدارت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورۂ سیمانچل ہوگا، جس کے سبب پورے خطے میں خوشی اور جوش کی لہر دیکھی جارہی ہے۔
حضرت مولانا مختلف اضلاع میں ’’حالاتِ حاضرہ میں امتِ مسلمہ ہندیہ اور علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمائیں گے۔ پروگراموں کا انعقاد پورنیہ، کشنگنج، کٹیہار، ارریہ اور اتر دیناجپور میں کیا جائے گا، جہاں وہ علماء، ائمہ اور اربابِ مدارس کی رہنمائی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت سیمانچل کے مدارس مختلف انتظامی اور تعلیمی مسائل سے دوچار ہیں۔ مدارس سے حساب و کتاب اور دیگر دستاویزات کے حوالے سے متعدد مطالبات کیے جارہے ہیں، جس کے باعث علماء و منتظمین میں تشویش پائی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی آمد کو اہلِ مدارس کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جارہا ہے۔
اس دورے کی تیاریوں میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں مفتی عمیر انور مظاہری کا نام نمایاں ہے، جو مولانا رحمانی کے قریبی رفقاء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق 9 مئی کو سب سے پہلے ان کی آمد مفتی عمیر انور کے آبائی گاؤں صحن گاؤں میں ہوگی، جس کے بعد مادھے پور کٹیہار، اتر دیناجپور، کشنگنج اور آخر میں 11 مئی کو ارریہ میں اہم اجلاس منعقد ہوگا۔
ارریہ میں یہ پروگرام تاریخی درسگاہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ میں منعقد کیا جائے گا۔ جمعیت علماء ارریہ کے جنرل سکریٹری مفتی اطہر القاسمی کے مطابق یہ محض رسمی جلسہ نہیں بلکہ علماء، ائمہ اور مدارس کے ذمہ داران کے لیے ایک علمی و تربیتی ورکشاپ ہوگی، جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں دینی، فکری اور تعلیمی چیلنجز پر غور کیا جائے گا۔
پروگرام کے جائزے کے سلسلے میں آج علماء کے ایک وفد نے ارریہ کا دورہ کیا، جس میں مفتی شبیر احمد قاسمی، مولانا قربان قاسمی اور مولانا جہانگیر متین شامل تھے۔
منتظمین کے مطابق ضلع بھر سے تقریباً دو ہزار علماء و ائمہ کو مدعو کیا گیا ہے۔ پروگرام کا مقصد علماء اور دینی اداروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا، نئی تعلیمی پالیسی اور فکری چیلنجز کے تناظر میں رہنمائی فراہم کرنا اور ملت کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تیار کرنا ہے۔
جمعیت علماء ارریہ کے ذمہ داران نے امید ظاہر کی ہے کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا یہ دورہ نہ صرف سیمانچل بلکہ پورے خطے کے لیے فکری بیداری اور تعلیمی رہنمائی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔