نوجواں مسلم: مواقع اور چیلنجز

تحریر: ڈاکٹر سعد الحلبوسی

اردو ترجمہ: محمد رافع ندوی

ــــــــــــــــــــــــــ

آج نوجوان اس بدلتے زمانے کی دہلیز پر کھڑا ہے، جہاں اس کے سامنے مواقع بھی ہیں اور چیلنجز بھی۔ آج سے پہلے دنیا نے کبھی اس قدر زبردست امکانات و وسائل کا سیل بے اماں نہیں دیکھا، آج دنیا مٹھی میں ہے، علوم و معارف تک رسائی آج ایک چھوٹی سی اسکرین پر محض چند کلک سے ممکن ہے، جس کے ذریعے دنیا کی ترقی یافتہ اور قدیم یونیورسٹیوں اور مکتبات کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں، آج کسی دور افتادہ دیہات اور قصبے میں بیٹھا ہوا نوجوان دنیا کے عظیم دانشوروں اور اساتذہ سے نہ صرف کسب فیض کرسکتا ہے بلکہ کسی ایسے ابتدائی پلان کی شروعات بھی اس کے لیے دشوار نہیں جو لاکھوں لوگوں کے سامنے ہو، ایسا موقع آج سے پہلے دنیا نے کبھی نہیں دیکھا، آج ٹیکنالوجی اور تکنیک کے دروازے چوپٹ کھلے ہوئے ہیں اور قوموں کے درمیان کی سرحدیں اور رکاوٹیں معدوم ہو چکی ہیں۔

البتہ ساری دنیا کے سامنے یہ کھلے ہوئے دریچے صرف خیر وبہبود ہی کی شعاعوں ہی سے دنیا کو منور نہیں کرتے، یہ خطرناک ڈھلوانوں کا کردار بھی رکھتے ہیں اس لیے کہ جہاں ٹیکنالوجی نوجوانوں کو تعلیم و تعلم کے مواقع فراہم کرتی ہے؛ وہیں عزلت گزینی اور تباہی کی کائناتوں کی طرف بھی کھینچ کر لے آتی ہے جو بسا اوقات اپنے اعزہ واقارب، اپنے خاندان، اپنی ذات اور خدا سے بھی ان کا رشتہ کاٹ دیتی ہیں۔

آج نوجوانوں کو بے شمار مواقع حاصل ہیں، دنیا نے اصحاب فکر کے سامنے اپنے دروازے کھول دیے ہیں، نوجوان عقلوں کے سامنے دروازے وا ہیں کہ وہ ہر جگہ کامیابی کی کہانیاں رقم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: حب الوطنی اور مذہبی منافرت کا بیانیہ

امت کے دشمنوں کو خوب پتا ہے کہ اس امت کو کمزور کرنے کا راستہ صرف ہتھیار کے میدان سے ہوکر نہیں جاتا بلکہ فکروشعور، تجدید اور ترقی کے میدانوں میں موجود ہے، اس لیے کہ اگر نوجوان نسل اپنی صلاحیت پر اپنا اعتماد کھو دے تو وہ تن بے روح کی طرح رہ جاتا ہے جس کو ہانکنا اور جس کے ساتھ کھیلنا آسان ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہوش مندانہ اور مؤمنانہ تربیت کی ضرورت آج بے پناہ بڑھ گئی ہے، وہ دانشمندانہ تربیت جو نوجوانوں میں شعور بیدار کرے اور مغرب کی اندھی تقلید اور ماضی کی گم گشتہ راہوں میں کھو جانے سے ان کو محفوظ رکھے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا دین اسلام نوخیز نوجوانوں کے شانوں پر آگے بڑھا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنائے گئے تو نوجوانوں کی ایک چیدہ ٹیم آپ کے ارد گرد موجود تھی، حضرت علی ابن ابی طالب کی عمر 10 سال سے متجاوز نہ ہوئی تھی جب آپ ہجرت کی رات حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے تھے، حضرت مصعب ابن عمیر نے مکے کی عیش و عشرت کو اس لیے تج دیا تاکہ دعوت کا نور لے کر مدینے کی طرف کوچ کریں، اسامہ بن زید 20 سال کے نہیں تھے جب انہوں نے اسلامی لشکر کی سپہ سالاری کی ذمہ داری نبھائی۔

نوجوانوں کو اس شخص کی ضرورت ہے جس پر وہ یقین کریں نہ کہ اس شخص کی جو انہیں اپنے مفاد اور مصالح میں صرف کر لے، نوجوانوں کو حقیقی اداروں اور تنظیموں کی ضرورت ہے جو انہیں دنیا کی قیادت کے لیے تیار کریں اور انہیں عمل اور ساجھے داری کے مواقع مہیا کریں، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ نوجوانوں کو حاشیے پر لے آنا اور دیوار سے لگا دینا؛ یہ ساری امت کے حق میں بڑا جرم ہے، ذمہ داری خاندان، اسکول، یونیورسٹی، مسجد اور ریاست سے بیک وقت شروع ہوتی ہے، خاندان وہ پہلا مدرسہ ہے جو اقدار کی تخم ریزی کرتا ہے، مدرسہ فکر کی صیقل گری کا کام انجام دیتا ہے، اور یونیورسٹی عقل کے آفاق اور ذہن کے گوشوں کو وا کرتی ہے، مسجد روح کی سیرابی کا فریضہ انجام دیتی ہے اور ریاست انہیں اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے اور اعتماد اور بھروسہ عطا کرتی ہے، جب یہ تمام عناصر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو امت جسد واحد کی مثال بن کر عالم کے افق پر نمودار ہوتی ہے۔

تجربات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جو ہوش و خرد کا حامل ہوگا مستقبل اسی کا ہوگا، ہوش و خرد کا مطلب یہ نہیں کہ بہت زیادہ معلومات اکٹھی کر لی جائیں، بلکہ ہوش و خرد سے مراد وہ نور بصیرت ہے جو تعمیری اور تخریبی عناصر، اصل ونقل اور حقیقت اور وہم کے درمیان خط فاصل کھینچ دے، ہوش مند نوجوان اپنی زندگی کا مطالعہ ناقدانہ نظر سے کرتا ہے، وہ علوم و معارف کی فتوحات اور عقائد و مسلمات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ترقی کی راہ قدیم وجدید کے مابین خوب صورت توازن سے نکلتی ہے۔

وہ قوم جو اپنے نوجوانوں کو اپنے دامن میں پناہ دیتی ہے، ان کے دلوں میں امید و آرزو کے بیج بوتی ہے، ان کے سامنے علم و عمل کا راستہ کھول دیتی ہے، وہی قوم زمانے میں زندہ وپائندہ رہتی ہے اور زمانے میں تجدیدی اور محیر العقول کارنامے انجام دیتی ہے۔

وہ قوم جو اپنے شاہینوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتی، ان کی بلند توقعات کا خون کرتی ہے؛ وہ بہت جلد ان کے جواں حوصلوں کو سلب کرکے انہیں مفلوج اور بوڑھا کردیتی ہے۔

آج اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے دلوں میں اعتماد بحال کریں، ان سے کہ دیں کہ تمہارے سامنے تمہارا مستقبل ہے جس کے لیے تمہیں متحرک ہونا ہی ہوگا، تمہاری امت اس خیر کی امین ہے جو اسے نئے عزم کے ساتھ دنیا پر چھا جانے اور ترقی کی راہوں پر دور نکل جانے کے لیے مہمیز کرتا ہے، تم اس کا انتظار نہ کرو کہ کل کو تمہارے لیے تراشا جائے گا بلکہ تم خود اپنا کل اپنے ہاتھوں اور اپنی مرضی سے تراش لو ، تم ہی ہو جو کل کی تاریخ لکھو گے اور تم ہی ہو کہ ملبے کے نیچے سے ابھرتے ہوئے اپنے مستقبل کو آسمان کی بلندیوں تک لے جاؤ گے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔