نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے جیل میں قید سابق طالب علم رہنما عمر خالد کی کتاب پر ہونے والے مباحثے کے لیے آڈیٹوریم کی بکنگ منسوخ کردی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کے لیے ’نامکمل معلومات‘ فراہم کیے جانے کو وجہ بتایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق عمر خالد کی کتاب ’Fractured Communities‘ پر 10 اگست کو جے این یو میں مباحثے کا پروگرام طے تھا۔ یہ پروگرام سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک منعقد ہونا تھا، جس کے لیے آڈیٹوریم بک کرایا گیا تھا۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے بعد میں اس بکنگ کو منسوخ کردیا۔
جے این یو انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ آڈیٹوریم کی بکنگ کے لیے جمع کرائی گئی درخواست میں پروگرام سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ اسی بنیاد پر بکنگ منسوخ کی گئی۔
عمر خالد جے این یو کے سابق طالب علم اور ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ ستمبر 2020 سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
عمر خالد کی آنے والی کتاب ان کے ڈاکٹریٹ کے تحقیقی کام پر مبنی ہے۔ ان کی جیل میں طویل قید اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کے معاملے پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
جے این یو میں آڈیٹوریم کی بکنگ منسوخ کیے جانے کے واقعے نے ایک بار پھر یونیورسٹی میں آزادیٔ اظہار، طلبہ کی سرگرمیوں اور سیاسی و فکری مباحثے کے حوالے سے بحث کو نمایاں کردیا ہے۔