از:- ودود ساجد، ایڈیٹر روزنامہ انقلاب
یوپی میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سری دھرن کی ڈویزن بنچ نے بریلی کے گاؤں محمد گنج کے مسلمانوں کو ایک ذاتی پلاٹ پر نماز ادا کرنے نہ دینے کے تعلق سے بریلی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا لیکن اس کے باوجود ایک مبہم سے معاہدہ کا حوالہ دے کر محمد گنج گاؤں کے مسلمانوں کو اس پلاٹ پر جمعہ کی نماز ادا کرنے نہیں دی گئی۔ ادھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سہ رکنی بنچ نے مسلمانوں اور دیگر جماعتوں کی ان عرضیوں کو انتہائی سخت تبصروں کے ساتھ مسترد کردیا جو مسلمانوں کے تعلق سے آسام کے وزیر اعلیٰ کی ہرزہ سرائیوں کے خلاف دائر کی گئی تھیں ۔
بظاہر ان دونوں واقعات کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن فی الواقع ایسا لگتا ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کا باہم ربط ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے ایک سنگین معاملہ کے تعلق سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے رویہ پر بہت سے قانونی اور سماجی حلقوں کو سخت تشویش ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور سیاسی لیڈروں کے ذریعہ نفرت انگیزی کے خلاف دائر عرضیوں پر جو رویہ اختیار کیا گیا اس سے انصاف کے طالب طبقات بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔
آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما کی کھلی مسلم مخالف حرکتوں کے خلاف دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ کا اختیار کردہ موقف بھلے ہی قانونی طریقہ کار کے اعتبار سے درست ہو لیکن دوران سماعت وکلاء کے دلائل کے خلاف جسٹس سوریہ کانت کے تبصروں کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف عرضی گزاروں کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے کر انہوں نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا ہے لیکن عرضی گزاروں کی نیت پر شبہ کرتے ہوئے انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ نہ صرف یہ کہ آئینی التزام کے منافی ہے بلکہ اس نے کئی سنگین سوالات بھی کھڑے کردئے ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ایک عرصہ سے مسلمانوں اور خاص طور پر آسام کے مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر افشانی کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں میڈیا اور اپنے پارٹی ورکروں کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’میائوں کو ہر طرح سے جان بوجھ کر پریشان کرو تاکہ وہ آسام کو چھوڑ کر چلے جائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی (بی جے پی) میائوں کی براہ راست مخالف ہے اور ہم اسے چھپاتے نہیں۔ انہوں نے اپنے ورکروں کو اس بات کیلئے اکسایا کہ وہ ووٹر لسٹ میں میائوں کے ناموں کے اندراج کے خلاف بڑے پیمانے پر اعتراضات داخل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلمان رکشہ والے کا کرایہ پانچ روپیہ بنتا ہے تو اسے چار روپیہ دو۔ دوسرے واقعہ میں بی جے پی کے میڈیا سیل نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ بندوق سے مسلم شناخت والی تصویروں پر نشانہ لگارہے ہیں۔
ان دونوں واقعات کے خلاف متعدد جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے سپریم کورٹ سے آئین کی دفعہ 32 کے تحت رجوع کیا تھا۔ اس ضمن میں یوٹیوب پر چیف جسٹس کی عدالت میں ہونے والی کارروائی تفصیل سے دیکھی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس اگر ان عرضیوں پر سماعت نہیں کرنا چاہتے تھے اور عرضی گزاروں کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دینا چاہتے تھے تو وہ یہ بات محض دو جملوں میں کہہ کر عرضی کو مسترد کرسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے جس طرح وکلاء کے ساتھ ردوقدح کی اس نے انصاف کے طالب طبقات کو مضطرب کردیا۔ انہوں نے سیاسی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ الیکشن سے پہلے اس عدالت کو سیاسی جنگ کا میدان بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے آسام کے وزیر اعلی کے بیان اور حرکتوں کی حساسیت اور سنگینی کا ادراک کرنے کی بجائے عرضی گزاروں کی نیت کو ہی مشکوک بناڈالا۔
وکلاء نے کہا کہ ہم آسام کے وزیر اعلی کے بیانات اور نفرت انگیزیوں کے خلاف اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ لے کر آئے ہیں اور ہمیں تردد ہے کہ ہائی کورٹ اسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کے خلاف ایسا حکم پاس کرے گی۔ لیکن چیف جسٹس نے ایک نہیں سنی۔ ماہرین قانون کا خیال ہے کہ چیف جسٹس کا یہ رویہ بلاشبہ نفرت انگیزیوں پر روک نہیں لگائے گا بلکہ اس سے شرپسندوں کو مزید حوصلہ ملے گا۔ اس کا ایک ثبوت بریلی کے محمد گنج گائوں میں مل گیا جہاں حکومت کے حلف نامہ اور حکام کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس کے باوجود پرائیویٹ پراپرٹی پر جمعہ کی نماز ادا کرنے نہیں دی گئی۔
گزشتہ 8 فروری کے مضمون میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ کے سامنے آنے والے ایک مقدمہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ریاست اتر پردیش میں عیسائیوں کی مختلف تنظیموں نے ریاست بھر میں اپنی پرائیویٹ جائیدادوں میں عبادت گزاری کیلئے ریاستی پولیس سے پیشگی اجازت طلب کی تھی۔ لیکن پولیس اور انتظامیہ نے ایک عرصہ تک نہ ان درخواستوں کا نپٹارہ کیا اور نہ ہی عرضی گزاروں کو کوئی اطمینان بخش جواب دیا۔ اس کے خلاف عیسائی تنظیموں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جسٹس سری دھرن کی ڈویزن بنچ نے جب حکومت سے جواب طلب کیا تو حکومت نے جواب داخل کرکے کہا کہ عرضی گزاروں پر اپنی پرائیویٹ جائیدادوں میں عبادت گزاری پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
گزشتہ 27 جنوری کو جسٹس اتل سری دھرن نے اپنے فیصلہ میں لکھوایا کہ:’’ریاستی حکومت کی طرف سے جوابات آگئے ہیں‘ ان میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ عرضی گزار پر اپنے نجی مقامات پر مذہبی پروگرام منعقد کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذہب اور دوسرے امور میں حکومت اور اس کے تمام اداروں کے ذریعہ پوری ریاست میں ہر شہری اور تمام شہریوں کو اسی طرح کا بلا امتیاز یکساں قانونی تحفظ حاصل ہے۔‘‘ عدالت نے یہ واضح کیا کہ اگر منتظمین کو یہ اندازہ ہو کہ شرکاء کی تعداد بڑھ کر سڑک پر یا عوامی جگہ تک آسکتی ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ پولیس کو بھی پیشگی مطلع کردیں۔ عدالت نے فیصلہ میں اپنی طرف سے بھی لکھا کہ:’’عرضی گزار کو اپنی سہولت کے مطابق اپنی نجی پراپرٹی میں حکومت سے اجازت لئے بغیر عبادت گزاری کا مکمل حق حاصل ہے۔‘‘ اس سلسلہ میں عدالت نے دستور کی دفعہ 25 کا بھی حوالہ دیا۔
مذکورہ فیصلہ کے نتیجہ میں بریلی کے گاؤں محمد گنج کے طارق خان نے جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ کے سامنے اپنا معاملہ پیش کیا اور درخواست کی کہ حکام کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں ذاتی پراپرٹی میں نماز پڑھنے میں کوئی روکاوٹ پیدا نہ کریں۔ طارق خان کے وکیل راجیش کمار گوتم نے بنچ کو بتایا کہ اس کے موکل اور دوسرے کئی نمازیوں کو ریشما خان کے خالی پڑے پلاٹ میں پولیس کی اجازت کے بغیر نماز ادا کرنے کیلئے 16 جنوری کو ضلع پولیس نے حراست میں لیاتھا۔ اس کے بعد دفعہ 151 سی آر پی سی کے تحت ان کا چالان کردیا گیا۔
دفعہ 151 دراصل کسی جرم کے سرزد ہونے سے پہلے پیش بند ی کے طور پر کی گئی گرفتاری سے متعلق ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پولیس نے ان مسلمانوں کو گائوں کے شرپسند وں کی شکایت پر ذاتی پلاٹ پر نماز ادا کرنے سے تو روک دیا اور حراست میں بھی لے لیا لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر ان مسلمانوں کو کس جرم کے تحت گرفتار کریں۔ لہٰذا ان کا چالان دفعہ 151 کے تحت کردیا گیا۔ یعنی ایک طرف تو نماز پڑھنے سے روک دیا گیا اور دوسری طرف چالان یہ کہہ کر کیا گیا کہ وہ کوئی جرم کرسکتے تھے اس لئے پیش بندی کے طور پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
عرضی گزار طارق خان نے عدالت کو بتایا کہ اس نے گزشتہ 28 جنوری کوضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی سے مل کر اور دو فروری کو بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک یہ درخواست کی کہ انہیں رمضان کے مہینہ میں اپنی ذاتی جائیداد پر نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن عدالت کے اتنے واضح حکم کے باوجود حکام نے اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ لہٰذا جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ نے بریلی کے ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریا کو ذاتی پراپرٹی پر نماز ادا کرنے سے روکنے کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نےکہا کہ یہ واضح ہے کہ حکام نے عدالت کے 27 جنوری کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب اس معاملہ کی اگلی سماعت 11 مارچ کوہوگی۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ 11 مارچ کو اس مقدمہ کو شروع کے دس مقدمات میں سب سے اوپر رکھا جائے۔ اب نہیں معلوم کہ اس مقدمہ کا کیا حشر ہوگا۔ توہین عدالت کے نوٹس کے باوجود اور عدالت میں ریاستی حکومت کے اس حلف نامہ کے باوجود کہ ذاتی پراپرٹی میں عبادت گزاری پر کوئی پابندی نہیں ہے‘ محمد گنج گائوں کے مسلمانوں کو انتظامیہ اور پولیس نے نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی۔ کہا گیا کہ برسوں پہلے یہاں کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا کہ گائوں میں نہ کوئی مسجد بنائے گا اور نہ مندر۔ اب اسی معاہدہ کی آڑ لے کر یہاں مسلمانوں کو اپنے ذاتی مکان میں بھی باجماعت نماز اداکرنے سے روکا جارہا ہے۔
اس ضمن میں الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل سید فرمان نقوی نے کہا ہے کہ "اولاً تو یہ معاہدہ ہی درست نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کوئی فریق اپنے حقوق کے خلاف کیسے معاہدہ کرسکتا ہے۔ یہاں تویہ معاہدہ دونوں ہی فریق کے مذہبی حقوق کے خلاف ہے۔ دوسرے اس طرح کے کسی معاہدہ کا اطلاق عدالت کے سوا کوئی اور نہیں کرا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن تو اس گروپ کے خلاف ہونا چاہئے تھا جو لوگوں کے حقوق میں مداخلت کر رہا ہے لیکن حکام نے انہی کے خلاف ایکشن لے لیا جن کے آئینی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔ اب چونکہ بریلی کے حکام نے مزید توہین عدالت کا ارتکاب کرلیا ہے تو مجھے امید ہے کہ عدالت اس پر کوئی سخت رویہ اختیار کرے گی۔”
بعض ذارئع سے معلوم ہوا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ سے اس طرح کے مقدمات لے کر انہیں سروس معاملات دیدئے گئے ہیں۔ ان کی عدالت میں اس وقت دو مقدمات بہت اہم ہیں۔ ایک یوپی میں بلڈوزر گردی کا اور دوسرا ذاتی پراپرٹی پر نماز ادا نہ کرنے دینے کا۔ لیکن اب وہ اس طرح کے مقدمات نہیں سن سکیں گے۔ لیکن ماہرین قانون کا خیال ہے کہ بلڈوزر کے تعلق سے ہمیر پور کے فہیم خان اور نماز کے تعلق سے بریلی کے طارق خان کے دونوں مقدمے انہی کی عدالت میں سنے جائیں گے۔ان میں بریلی کے حکام کے خلاف جاری توہین عدالت کے نوٹس کی مزید سماعت 11 مارچ کو ہوگی۔ ان کی بنچ تبدیل ہونے کے باوجود مذکورہ دونوں مقدمے انہی کے سامنے اس لئے پیش کئے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھوادیا تھا کہ ان کی مزید سماعت کی جائے گی۔
بہرحال یہ بات تو اب واضح ہوگئی ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے معاملات سیاست اور عدالت کے درمیان ’جھول’ رہے ہیں۔ نفرت کی سیاست یکطرفہ طور پر اپنا زور لگارہی ہے۔ جبکہ عدلیہ میں بھی دو طرح کے عناصر کے باوجود ایک ہی طرح کے عنصر کا زور ہے۔ لیکن یہ تو وقت ہے۔ وقت کبھی ٹھہرتا نہیں ہے۔ وقت ضرور بدلے گا۔ قرآن کی زبان میں خدا کا وہ وعدہ ضرور پورا ہوکر رہے گا جس میں کہا گیا ہے کہ بے شک اس کی گرفت بہت سخت ہوگی۔