نئی دہلی: اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہلی میں دوبارہ انتخابات کرا دیے جائیں اور بی جے پی کو 10 سے زیادہ نشستیں مل جائیں تو وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں سے مبینہ شراب پالیسی معاملے میں انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے لیے مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں مقدمہ چلانے کے لیے بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔
کیجریوال نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کارروائی کی گئی جس کا مقصد عام آدمی پارٹی کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پوری سیاسی زندگی کی بنیاد ایمانداری پر رہی ہے، لیکن بدعنوانی کے الزامات لگا کر انہیں اور ان کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کیا گیا۔ کیجریوال نے کہا کہ وہ اس وقت تک خاموش رہے جب تک عدالت سے انہیں راحت نہیں مل گئی۔
دہلی کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں سڑکوں کی حالت خراب ہے، اسپتالوں میں دواؤں کی کمی ہے، محلہ کلینک بند کیے جا رہے ہیں اور آلودگی کا مسئلہ بھی سنگین ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو اپنی مقبولیت پر یقین ہے تو دہلی میں دوبارہ انتخابات کرا لیے جائیں۔
کیجریوال نے کہا کہ اگر انتخابات میں بی جے پی کو 10 سے زیادہ نشستیں مل جاتی ہیں تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔