مدارس میں طلبہ کی تعداد کم کیوں ہوتی جارہی ہے ؟

از:- محمد قمر الزماں ندوی

جنرل سکریٹری/مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ

شوال المکرم یوں تو عربی سال و تقویم کا دسواں مہینہ ہے ،لیکن برصغیر ہندوپاک کے مدارس عربیہ کے لئے یہ نیا تعلیمی سال ہوتا ہے،اس مہینے میں مدارسِ اسلامیہ لمبی تعطیل کے بعد کھلتے ہیں اور نئے اور پرانے داخلے شروع ہوجاتے ہیں اور وسط شوال یا شوال کے اخیر عشرہ میں اکثر مدارسِ میں تعلیم کا آغاز ہوجاتا ہے۔جن مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے اور جہاں نظم و نسق اور سہولیات بہتر ہوتے ہیں یا جو شہری علاقوں میں ہوتے ہیں، وہاں ہفتہ عشرہ میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوجاتی ہے۔لیکن جو مدارس دیہات اور انٹییر علاقے میں ہوتے ہیں وہاں شوال کے بعد تک داخلے ہوتے رہتے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے بعد صورت حال کافی بدل گئی ہے ،مدارس میں طلبہ کا قحط ہے ،ہر طرف سے شور ہے اور آواز آرہی ہے کہ مدارس کی طرف طلبہ کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،ذمہ داران مدارس بہت ہی فکر مند ہیں ۔ اس کی وجوہات پر غور کررہے ہیں۔

میری نظر میں اس کی بہت سی وجوہات ہیں ،جن میں سے چند یہ ہیں:

لاک ڈاؤن میں مدارس اسلامیہ میں تقریباً تعلیمی انقطاع رہا ،صرف پانچ چھ فیصد مدارس میں آن لائن تعلیم کا نظم رہا ۔مدارس سے طلبہ کا ربط ٹوٹ گیا۔
اس لئے طلبہ نے اپنا رخ اور اپنی لائن بدل لی وہ کام کاج میں مشغول ہوگئے یا اسکول کی طرف رخ کرلیا، جس کی وجہ سے اس درمیان کے جو طلبہ مدارس میں زیر تعلیم تھے، وہ تقریباً مدارس سے علیحدہ ہوگئے ۔
لاک ڈاؤن میں اکثر مدارس کے اساتذہ کے ساتھ جو سلوک ہوا اور معاشی اعتبار سے جو ان کی حالت رہی اور جس طرح ایک بڑی تعداد کو در بدر بھتکنا پڑا اس سے بھی طلبہ میں منفی اثرات پڑے ہیں ،میں نے خود ایک بڑی تعداد اساتذہ کی دیکھی ہے، جنہوں نے اپنا میدان بدل دیا اور وہ تجارت میں لگ گئے ،بعض تو ٹھیلے پر سبزی فروخت کرنے یا آٹو چلانے پر مجبور ہو گئے۔

مدارس کی سندیں اور ان کی ڈگریاں حکومت کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے اور نہ اس کی اہمیت کو منوانے کی طرف کبھی سنجیدگی سے توجہ دی گئی ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ مدارس سے عالم اور فاضل کرنے کے بعد بھی حکومت کی نظر میں آپ ناخواندہ ہیں ،اگر آپ پاسپورٹ بنواتے ہیں تو ان اسناد اور ڈگریوں کے بعد بھی آپ کا شمار مزدوروں اور ناخواندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔

جب مدارس اسلامیہ کی طرف سے یہ اعلان آنے لگا کہ طلبہ ہائی اسکول کرکے ہی مدارس میں آئیں اور خود مدارس میں ہائی اسکول کے نصاب کی بات ہونے لگی، تو طلبہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ جب ہائی اسکول کرنا ہی ہے ،تو گارمنٹ اسکول میں کیوں نہ کریں ۔ اس وجہ سے بھی طلبہ کا رجحان اسکول کی طرف بڑھ گیا۔
یوپی میں ہی اکثر بڑے مدارس ہیں ،جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ پڑھنے آتے ہیں ،پچھلے کچھ سالوں سے یہاں کی جو صورت حال ہے، اور خصوصاً امن عامہ کی جو صورت حال ہے بہار بنگال جھارکھنڈ منی پور اور آسام کے لوگ اپنے بچوں کو یہاں تعلیم کے لئے بھیجنے سے گھبرا رہے ہیں۔

حفظ کرنے کے بعد طلبہ کا رجحان عالم بننے سے ختم ہوتا جارہاہے ،جگہ جگہ شاہین گروپ کی شاخیں قائم ہورہی ہیں اور انہیں حفظ پلس کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے تو اب بھلا وہ مدارس کی طرف کہاں آئیں گے اور ادھر کا رخ کیا کریں گے۔۔۔؟

مدارس اسلامیہ میں اکثر جگہ نظم و نسق اور خورد و نوش میں افرا تفری کا ماحول ہے ،اعتدال و توازن کی کمی ہے، جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی فکر نہیں ہوتی، اس لئے امیر گھرانے کے طلبہ ادھر کا رخ بہت کم کرتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس صرف غریب یتیم و نادار اور محتاج بچوں کے لئے ہے ۔۔
رمضان المبارک کے مہینے میں جب نئی نسل مدارس کے اساتذہ کو چندہ کرتے دیکھتے ہیں اور ان کی پریشانی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ایک بھاینک تصویر نظر آتی ہے کہ اگر مدارس میں تعلیم حاصل کرینگے تو انجام یہی ہوگا کہ سال بھر پڑھاؤ اور رمضان المبارک میں اپنی تنخواہوں کا انتظام خود ہی کرو اور اب تو بچوں کا بھی چندہ کرو۔اس کی وجہ سے بچے ہمت ہار رہے ہیں اور مدارس سے ان کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے۔

مدارس کا داخلی انتشار ،اساتذہ کا بار بار جگہ کی تبدیلی اور اساتذہ کرام کا خود اپنے بچوں اور اپنی اولاد کو مدارس میں نہ پڑھانے کا رجحان سے بھی غلط پیغام لوگوں میں جارہا ہے کہ اساتذہ جب خود ان مدارس سے مطمئن نہیں ہیں، تو ہم کیسے مطمئن ہوں گے۔

قدیم نصاب تعلیم پر ضد اور اصرار اور اس کے اندر مناسب اور مفید تبدیلی نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،منطق و فلسفہ کو نصاب میں اب بھی پہلے کی طرح شامل رکھنا اور اس کی جگہ پر نئے مضامین کو شامل نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،ہم نے دنیا کے تمام شعبوں میں جدید سہولیات اور اسباب و وسائل کو اختیار کر لیا چاہے وہ طب کا میدان ہو خورد و نوش اور دیگر میدان ہو ، لیکن ہم نے مدارس میں نئے اور مفید اسباب و وسائل اور ذرائع کو استعمال نہیں کیا نیز نصاب تعلیم کو اپڈیٹ نہیں کیا ۔قرآن و حدیث کے مضامین تو وہی رہیں گے قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں آئے گی لیکن ان علوم کی تدریس میں جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کا استعمال از حد ضروری ہے، جو خلاف شریعت بھی نہیں ہے

فقہ اسلامی میں میں بھی ہم تبدیلی کی بات نہیں کر رہے ہیں لیکن جو قدیم کتابیں اس فن کی پڑھائی جاتی ہیں، ان میں بعض تو آج کے طلبہ کے لئے بہت ہی مشکل ہیں ،مثلا بعض مدارس میں ابھی بھی کنز الدقائق جیسی گنجلک عبارت والی کتاب داخل نصاب ہیں حسامی اور نور الانوار ،نخبہ جیسی کتابیں بھی،، جب کہ اس فن کی بہترین جدید کتابیں آچکی ہیں ۔ اسی طرح نور الایضاح کی جگہ الفقہ المیسر کو داخل نصاب نہ کرنا سمجھ سے پرے ہے ،جبکہ یہ کتاب موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مادیت اور دنیا پرستی کے اس دور میں جہاں ہر شخص دنیا کی ہوڑ اور دوڑ میں ایک دوسرے سے مقابلے میں ہے اور منافست کا جذبہ تیز سے تیزتر ہے ، مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ بھی حالات سے متاثر ہوئے ہیں،الشیطن یعدکم الفقر کا شیطانی حربہ اور وسوسہ بھی اس کے سامنے ہے ،جس سے ان کا سامنا ہے۔

انہیں مدارسِ اسلامیہ میں رہ کر اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے، اس لئے باتوفیق اور دینی مزاج رکھنے والے طلبہ کے علاوہ اکثر طلبہ کالج اور یونیورسٹی کی طرف رخ کررہے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں کی ڈگریوں اور اسناد سے ہمیں سرکاری ملازمت نہیں مل سکتی، ہمارے لئے صرف مکتب اور مدرسہ میں تدریس ہی آخری راہ ہے اور وہ مدارس کے اساتذہ کو مدارس کی زندگی سے غیر مطمئن پاتے ہیں اور اساتذہ سے اپنی بے سروسامانی اور پریشانی کا تذکرہ کرتے سنتے ہیں ،تو وہ اس راہ کی طرف آنے کو تیار نہیں ہوتے ،یاد رہے کہ پہلے کے حالات اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے ایک زمانے میں درس نظامی ایک کامیاب نظام تعلیم تھا،شاہان مغل کے دربار میں معقولات و منقولات کے علماء اپنے علوم کی بنا پر نوازے جاتے تھے ،اسی نصاب تعلیم کے فارغین مملکت کا حصہ بن جاتے تھے ،یعنی اس نظام و نصاب کے فارغین اپنی دینی و دنیاوی امور کی قیادت کررہے تھے ،لیکن حالات کا رخ بدلا، زمانے نے نئی کروٹ لی اور دین و دنیا کی تفریق قائم ہوگئی ،ایک طرف لارڈ میکالے کا نظام تعلیم اپنا سکہ جمانے میں کامیاب رہا ، جس کے نتیجہ میں و اذا رآوا تجارة او لھوا انفضوا الیھا وترکوک قائما کا منظر اہل دل کے لئے پریشان کن ہوگیا ،تو دوسری طرف مدارس کا وہ نظام قائم ہوگیا ،جس کی محدود افادیت و نافعیت سے کسی کو انکار نہیں ،لیکن امت کی مجموعی ضرورت ان سے پوری نہیں ہوتی ،بلکہ نظام تعلیم کی اس تفریق سے امت کا سرمایہ جس طرح استعمال ہونا چاہیئے اور اس کے نتیجہ میں قوم کا مستقبل جس طرح روشن ہونا چاہیے نہیں ہو پا رہا ہے۔اس کا اعتراف ہم سبھی کو ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ مدارس اسلامیہ میں ماضی کی طرح وحدانی نظام تعلیم کو پھر سے نافذ کیا جائے اس کےبغیر صورتحال پر قابو پانا ناممکن ہے ۔۔جہاں تعلیم کا نظام ایسا مرتب کیا جائے کہ ثانویہ کی تکمیل کیساتھ ہائی اسکول بھی بچہ کرلے کہ اگر وہ تعلیم ترک بھی کردے اور کسی آفس یا کمپنی میں کام کرنے لگے تو وہ آفس کے میدان کا بھی اچھا جان کار ہو اور وقت پر وہ امامت اور خطابت کے فرائض بھی انجام دے لے ۔ (مستفاد تعلیم و تربیت،ص،29)

مدارس اسلامیہ کے دفتری نظام میں بھی کمی اور نقص کی وجہ سے طلبہ کا رجحان مدارس سے کم ہوا ہے ،یہاں کے دفتری نظام میں یا تو اس قدر لچک اور بے اصولی ہے کہ کوئی ریکارڈ اور نظام ہی نہیں ہے، وقت پر اگر آپ کو ٹیسی یا دیگر کاغذات کی ضرورت پڑ جائے تو ان کے پاس کوئی ریکارڈ ہی نہیں ،جدید آلات اور کمپیوٹر نظام سے آفس و دفتر کو منظم کیا ہی نہیں، جو وقت کی ضرورت ہے،اس کا نہ ہونا ایک بہت بڑی کمی اور نقص ہے، تو دوسری طرف بہت سے بڑے مدارس میں دفتری نظام کو اتنا سخت کردیا گیا ہے اور وہاں کے عملہ کا سلوک اور برتاؤ طلبہ کیساتھ اس قدر سخت اور منفی ہے کہ وہ یہاں کے نظام سے بدظن ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی اولاد کو مدارس کی چہار دیواری سے قریب نہیں ہونے دیتے ۔جبکہ سرکاری اسکولوں میں دفتری نظام میں بہت حد تک سہولت اور رعایت رہتی ہے ۔
مثلا سرکاری دانشگاہوں ،محکموں اور شعبوں میں ایسا نظام ہوتا ہے کہ اگر نام اور تاریخ پیدائش کے اندراج میں کوئی بھول چوک ہو جائے اور اس کے پاس کوئی ریکارڈ سرکاری اور دفتری موجود ہے تو اس میں تبدیلی ہو جاتی ہے لیکن مدارس دینیہ میں اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں برتی جاتی اور جو درج ہوگیا اس میں تبدیلی کی کوئی معقول اور شرعی وجہ کے بعد بھی گنجائش نہیں ہوتی، گویا قلم اٹھا لیا گیا اور روشنائی خشک ہوگئی ،اس سلسلے میں مدارسِ عربیہ کے منتظمین کو غور کرنا چاہیے اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق اگر کچھ تبدیلی طالب علم کرائے تو اس کی صورت ہونی چاہیے ،الحمد للہ بہت سے مدارسِ دینیہ نے اس بارے میں حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے رویے کو بدلا ہے اور نظام میں تبدیلی کی ہے۔

ادھر چند سالوں سے مشاہدہ یہ ہےکہ اکثر مدارسِ اسلامیہ کے منتظمین انگریزی علوم و فنون اور عصری تعلیم گاہوں سے مرعوب نظر آرہے ہیں اور آئے دن مدارس کو اسکول کے طرز پر ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں ،اس کے لئے مہنگی فیس رکھنے لگے ،گارجئین اور سرپرست حضرات یہ سمجھنے لگے کہ اتنی مہنگی تعلیم اگر ہم مدارس میں دلائیں گے تو اس سے بہتر ہے کہ اسکول ہی میں بچے کا داخلہ کرادو ،دین سیکھنے کے لئے اور دینی تربیت کے لیے تبلیغی جماعت میں وقفہ وقفہ سے بھیجتے رہیں گے ۔

مدارس اسلامیہ میں ہاسٹل کا نظام بہت فرسودہ ہے ،جدید آلات و سائل سے استفادہ نہ کے برابر ہے ،خورد و نوش کا نظام جس انداز و معیار کا ہونا چاہیے نہیں ہوتا ،گرمی سردی اور مچھر سے بچاؤ کے لئے بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا ،جس کی وجہ سے مالدار گھرانے کے طلبہ مدارسِ عربیہ کا رخ کم کرتے ہیں ،مہمان خانہ اور دفتر تو بہت خوبصورت اور پرکشش ہوتا ہے، لیکن ہاسٹل ،باتھ روم اور باورچی خانہ بالکل صاف ستھرا نہیں رہتا۔

بعض ادارے میں تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کم رہتی ہے ،صرف طلبہ کی تعداد بڑھانے کے چکر میں داخلہ پر داخلہ لیتے رہتے ہیں تاکہ چندے میں دقت نہ ہو ،طلبہ کی صحیح تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے جب یہ طلبہ گھر پہنچتے ہیں اور ان کے والدین بچوں میں دینی مزاج اور ماحول نہیں پاتے ہیں تو وہ بدظن ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے بچوں کو مدارس نہیں بھیجتے۔

مدارس میں پورے سال کا کوئی نظام ، شیڈول اور ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا ،پہلے سے پورے سال کا نظام اور خاکہ تیار نہیں کیا جاتا ،چھٹی اور تعطیل کی تفصیلات پہلے سے ترتیب نہیں دی جاتی ،عین موقع پر فیصلہ لیا جاتا ہے ،اسی طرح کوئی لیسن پلان نہیں ہوتا کہ کس انداز سے پڑھانا ہے روزانہ کس مقدار میں اور کتنا پڑھانا ہے ،تعلیم کے ایام کتنے دن میں تقسیم کرنے ہیں ،ہر مہینے کتنی تعلیم ہونی ہے ،یہ چیزیں واضح نہیں ہوتیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی پلانگ کی جاتی ہے ۔ بقر عید تک صرف چار صفحے پڑھائی ہوئی اور اس کے بعد نصاب کو جلدی جلدی پورا کردیا گیا ۔

مدارس اسلامیہ میں طلبہ کو ان کا ہدف اور ان کی منزل کا پتہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے سامنے کوئی منصوبہ ہوتا ہے ،اس لیے ان کے اندر شوق ،لگن اور یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مدارس میں طلبہ کی تعداد دن بدن گھٹی جارہی ہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔