تحریر: سمیع احمد
بہار کی سیاست میں نتیش کمار کی موجودہ حالت پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب اس مرحلے میں پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں اپنی ساکھ اور وقار کے زوال کا احساس بھی باقی نہیں رہا۔ ایک وقت تھا جب وہ اپنی شبیہ کو لے کر نہایت حساس تھے اور ذرا سی تنقید پر بھی ردِعمل ظاہر کرتے تھے، لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔
نتیش کمار کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو ان کی بار بار بدلتی ہوئی سیاسی وفاداریاں رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں الگ الگ اتحادوں کا حصہ بن کر اقتدار میں رہنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی وہ بی جے پی کے ساتھ نظر آتے ہیں تو کبھی اس کے خلاف محاذ بنا لیتے ہیں اور پھر وقت آنے پر اسی کے ساتھ کھڑے بھی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماضی میں جب بھی ان کی حکومت یا فیصلوں پر سوال اٹھتے تھے، وہ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ایک بااصول اور باوقار رہنما سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار میں بنے رہنے کی خواہش نے ان کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب نہ وہ استعفیٰ دینے کی روایت پر قائم ہیں اور نہ ہی عوامی ردِعمل کی پرواہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے حالیہ فیصلوں اور بیانات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اصولی سیاست اب ان کی ترجیح نہیں رہی۔ وہ کسی بھی سیاسی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں اپنے ماضی کے بیانات سے ہی کیوں نہ انکار کرنا پڑے۔ اس سے عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ان کی سیاست کا مرکز صرف اقتدار ہے، نہ کہ کوئی نظریہ یا اصول۔
نتیش کمار کی مسلسل سیاسی پلٹیاں انہیں ایک غیر مستحکم اور غیر قابلِ اعتماد رہنما کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ان کے قریبی ساتھی بھی اکثر ان کے فیصلوں سے حیران رہ جاتے ہیں، اور پارٹی کے اندر بھی غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
بہار کی عوام، جو کبھی انہیں ترقی اور بہتر حکمرانی کی علامت سمجھتی تھی، اب ان کی سیاست سے مایوس نظر آتی ہے۔ ان کی شبیہ ایک ایسے لیڈر کی بنتی جا رہی ہے جو صرف اقتدار کے لیے سیاست کرتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے کتنی ہی بار اپنے موقف سے کیوں نہ ہٹنا پڑے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب کوئی سیاستدان اپنی ساکھ اور وقار کھونے کے باوجود اس کا احساس بھی کھو دے، تو یہ نہ صرف اس کی ذاتی ناکامی ہوتی ہے بلکہ جمہوری نظام کے لیے بھی ایک تشویشناک علامت بن جاتی ہے۔