راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ

از:- محمد علم اللہ، لندن

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک مرتبہ پھر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اپنا پنجہ گاڑنے کی کوشش کی، جس پر وہاں کے طلبہ نے شدید احتجاج درج کرایا۔ اس موضوع پر قومی میڈیا میں کافی بحثیں ہوئیں اور گودی میڈیا کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ جامعہ میں بنیاد پرستوں کا پہرا ہے اور وہ دوسرے افکار کو پھلنے پھولنے نہیں دیتے۔ حالانکہ تاریخ کا ادنیٰ ذوق رکھنے والا طالب علم بھی جانتا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، سیکولر جمہوریت اور مذہبی ہم آہنگی کی تاریخ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک روشن اور پرجوش باب کی حیثیت رکھتی ہے۔

1920 میں عدمِ تعاون تحریک کے عروج کے دوران قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی برطانوی سامراج کی غلامانہ تعلیم کے خلاف ایک قومی بغاوت تھی۔ اس کے بانیوں نے ایک ایسا تعلیمی ادارہ تخلیق کیا جو نہ صرف مسلمان نوجوانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرتا بلکہ انہیں ہندوستان کی مشترکہ قومیت، سیکولر اقدار اور بین المذاہب ہم آہنگی کا حصہ بھی بناتا۔ اس کے برعکس، 1925 میں قائم ہونے والا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ایک ایسا نظریاتی اور تنظیمی ڈھانچہ ہے جو ہندوتوا کی بنیاد پر ہندو راشٹر کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ تصور اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو قومی دھارے سے الگ تھلگ کرنے والا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری قرار دینے والا ہے۔

28 اپریل 2026 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے زیرِ اہتمام یووا کمبھ پروگرام کے خلاف طلبہ تنظیموں جیسے این ایس یو آئی، اے آئی ایس اے اور دیگر ترقی پسند گروہوں نے جو زبردست احتجاج کیا، وہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں تھا بلکہ دو متضاد نظریاتی دنیاؤں کے درمیان گہرے تصادم کی عکاسی کرتا ہے۔ طلبہ نے درست طور پر نشاندہی کی کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے کے بجائے انگریزوں کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کیا، اور آج قوم پرستی کا جھوٹا کارڈ کھیل کر اپنی فرقہ وارانہ طاقت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

,

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بنیاد 1925 میں ڈاکٹر کے بی ہیڈگوار نے ناگپور میں رکھی تھی۔ اس وقت ہندوستان میں عدمِ تعاون تحریک، خلافت تحریک اور سول نافرمانی جیسی بڑی قومی تحریکوں کا دور دورہ تھا۔ ہیڈگوار ابتدائی طور پر کانگریس سے وابستہ رہے تھے، لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی تشکیل کے بعد تنظیمی طور پر آزادی کی کسی بڑی تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ تاریخی دستاویزات اور معتبر علمی مطالعات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ 1925 سے 1947 تک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بطورِ تنظیم آزادی کی جدوجہد میں غیر فعال رہا۔ اس نے ہندو مسلم اتحاد کی بجائے صرف ہندو معاشرے کی تنظیم اور نظم و ضبط پر توجہ مرکوز کی۔ فرانسیسی محقق کرسٹوف جافریلوٹ اپنی کتاب The Hindu Nationalist Movement in India میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو ہندو قوم پرستی کی مرکزی تنظیم قرار دیتے ہیں جو اکثریتی قوم پرستی کی بنیاد پر قائم ہے اور اقلیتوں کو ماتحت حیثیت دینے کی طرف مائل ہے۔ ان کی تازہ ترین کتاب Modi’s India: Hindu Nationalism and the Rise of Ethnic Democracy میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم نسلی قوم پرستی کی طرف لے جانے والی سوچ کی نمائندہ ہے۔

اس کے جانشین ایم ایس گولوالکر نے اپنی کتاب We; or, Our Nationhood Defined میں ہندو راشٹر کا ایک واضح تصور پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیںـ ’’ہندو استھان میں موجود غیر ملکی نسلوں کو لازماً ہندو تہذیب اور زبان اختیار کرلینی چاہئے، لازماً ہندو مذہب کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔ ہندو قوم کی بڑائی کے علاوہ ان کے ذہن میں کوئی بات آنی ہی نہیں چاہئے۔ یا پھر وہ ملک میں ہندو قوم کے تابع رہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں۔ کسی خاص قسم کے برتاؤ کی تو بات ہی کیا انہیں کسی بھی مراعت کا حق نہیں ہوناچاہئے۔ ان کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔ ہم ایک قدیم قوم ہیں، آئیے ہم غیر ملکی قوموں سے اسی طرح نمٹیں جس طرح قدیم قومیں غیر ملکی قوموں سے نمٹا کرتی ہیں۔‘‘

بصورت دیگر، گولوالکر کے مطابق: ’’ہماری نسلی حمیت ہمارے مذہب کی دین ہے اور ہمارا تمام تر تمدن ہمارے مذہب کی پیدا وار ہے۔۔۔نسلی پاکیزگی کی بقا کیلئے سیمیٹک نسل ۔یہودیوں۔ کا صفایا کر کے جرمنی نے دنیا کو چونکا دیا۔ یہ حرکت نسلی فخر کی مظہر ہے۔ جرمنی نے یہ بھی ثابت کردیا کہ مختلف نسلوں اور ثقافتوں کا آپس میں ضم ہو نا اور ایک قوم بن جانا نا ممکن ہے ۔ یہ ہمارے یاد رکھنے اور فائدہ اٹھانے کیلئے ایک سبق ہے۔ ‘‘
۔ مورخین جیسے جافریلوٹ اس نظریے کو یورپی فاشسٹ سوچ سے قریب قرار دیتے ہیں، خاص طور پر اس دور میں جب ہٹلر اور مسولینی کی نسلی برتری کی سوچ عروج پر تھی۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر برطانوی راج کے ساتھ تعاون کا تاریخی الزام بھی سنگین ہے۔ آزادی کے بعد 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے تناظر میں اس پر پابندی لگی، جو بعد میں ہٹا لی گئی۔ 1975 کی ایمرجنسی اور 1992 کے بابری مسجد انہدام جیسے واقعات میں بھی اس کی شمولیت یا اس سے منسلک عناصر کا کردار زیرِ بحث رہا۔ جافریلوٹ جیسے علمی محققین راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو نسلی قوم پرستی یا اکثریتی سیاست کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، جو اقلیتوں کو ماتحت حیثیت دیتا ہے۔ اس کی شاخیں فوجی مشق، نظم و ضبط اور ایک مخصوص نظریاتی تربیت دیتی ہیں، جو نیم فوجی نوعیت کی ہیں۔ اگرچہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ خود کو ثقافتی تنظیم کہتا ہے، مگر اس کا سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیمیں اسے براہِ راست سیاست میں فعال بناتی ہیں۔ یہ تعلیم، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں میں نفوذ حاصل کر کے ہندوتوا کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، اس کی بنیادی فکر فرقہ وارانہ تقسیم پر قائم ہے، جو سماج کو مسلسل قطبی بناتی رہتی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ فرقہ وارانہ تقسیم اور تشدد کی سیاست کو فروغ دیتا ہے۔ 1992 کے بابری مسجد انہدام، 2002 کے گجرات فسادات اور متعدد ہجومی تشدد کے واقعات میں سنگھ پریوار سے منسلک عناصر کا کردار بار بار سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور محققین اسے ایسی سیاست قرار دیتے ہیں جو اکثریتی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے اقلیتوں کو اندرونی دشمن کا درجہ دیتی ہے۔

ظاہر ہے کہ ایسے فلسفے کو ہندوستانی آئین کی سیکولر روح پر حملے کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ آئین سیکولرزم کو بنیادی اقدار میں شامل کرتا ہے، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سیکولرزم کو مسلم خوشامد کا نام دے کر اسے کمزور کرتا ہے۔ گولوالکر نے سیکولر ریاست کو قومی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اس کی ابتدائی قیادت میں یورپی فاشزم اور نازی ازم سے متاثر ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ ہیڈگوار اور گولوالکر کے دور میں مسولینی اور ہٹلر کے نظم و ضبط اور نسلی برتری کے تصورات کو ہندو نوجوانوں میں متعارف کرانے کی کوششیں کی گئیں۔ اگرچہ کچھ محققین اس موازنہ کو مکمل نہیں مانتے، مگر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی نیم فوجی ساخت، عدم برداشت اور اکثریتی بالادستی کا عنصر اسے فاشسٹ یا کلیت پسند رجحانات سے قریب کرتا ہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ تعلیم اور نوجوانوں پر خاص طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یووا کمبھ جیسے پروگراموں کے ذریعے یہ یونیورسٹیوں میں داخل ہو کر قوم کی تعمیر کا دعویٰ کرتا ہے، مگر حقیقت میں ایک تنگ اور مخصوص ہندوتوا نظریے کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو تکثیریت اور تنوع کی بجائے ایک یکساں ثقافتی سانچے میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سماجی ہم آہنگی کو مسلسل نقصان پہنچاتا ہے۔ گھر واپسی، لو جہاد اور حلال بائیکاٹ جیسی مہموں کے ذریعے مسلمانوں کو الگ تھلگ کیا جاتا ہے، جو مجموعی طور پر سماجی انضمام اور قومی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں قائم سچر کمیٹی رپورٹ جیسے مطالعات بھی بتاتے ہیں کہ ایسی فرقہ وارانہ سیاست اقلیتوں کو معاشی اور سماجی طور پر حاشیے پر ڈال کر پورے ملک کی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی شرحِ خواندگی قومی اوسط سے کم ہے، غربت کی شرح زیادہ ہے، بینک کریڈٹ تک رسائی محدود ہے اور سرکاری نوکریوں میں ان کی حصہ داری دیگر برادریوں سے نمایاں طور پر کم ہے۔ یہ طویل مدتی فرقہ وارانہ سیاست کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا، منطقی طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سماج کا ناسور ہے کیونکہ یہ تقسیم کی سیاست کو زندہ رکھتا ہے، تاریخی حقائق کو مسخ کرتا ہے، آئین کی سیکولر بنیادوں کو کمزور کرتا ہے اور نوجوان نسل کو تنوع کی بجائے نفرت کے بیج بو کر سماج کو طویل مدتی نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

اس کے برعکس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد اور اس کی روایت ایک روشن اور جامع قومیت کی مثال ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد 29 اکتوبر 1920 کو علی گڑھ میں رکھی گئی، جو بعد میں دہلی منتقل ہوئی۔ یہ عدمِ تعاون تحریک کا براہِ راست نتیجہ تھی، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ نے برطانوی غلامانہ تعلیم کے خلاف بغاوت کر کے ایک قومی ادارہ قائم کیا۔ اس کے بانیان آزادی کی جدوجہد کے سچے مجاہد اور قوم پرست تھے۔ مولانا محمد علی جوہر، جو خلافت تحریک کے عظیم رہنما اور کانگریس کے صدر بھی رہے، نے جامعہ کو قومی تعلیم کا مرکز بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ حکیم اجمل خان، مشہور طبیب اور قوم پرست رہنما، اس کے پہلے چانسلر تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور قومی تحریک سے جوڑا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن، جو دیوبند کے عظیم عالم تھے اور مالٹا جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، نے اس کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ اور بعد میں ڈاکٹر ذاکر حسین نے اسے مزید مضبوط کیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین، جو بعد میں ہندوستان کے صدر بنے، جامعہ کی روح تھے۔ مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی اس کی بھرپور حمایت کی۔

جامعہ کے بانیوں کا وژن بہت واضح تھا۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانا چاہتے تھے، بغیر مذہبی شناخت کو قربان کیے۔ محمد علی جوہر نے کہا تھا کہ جامعہ کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اندھا دھند پرانے راستوں پر نہ چلیں بلکہ آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیں اور ایک جمہوری، سیکولر ہندوستان کی تعمیر کریں۔ جامعہ کی تعلیم میں قوم پرستی کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور انسانیت پسندی کو بھی جگہ دی گئی۔ اس کی داخلہ پالیسی مرد، عورت، ہندو، مسلمان سب کے لیے کھلی تھی۔ یہ ملیہ، یعنی قومی یونیورسٹی تھی، جو تمام ہندوستانیوں کی تھی۔ جامعہ نے فنونِ لطیفہ، صحافت، سماجی علوم اور ترقی پسند تعلیم میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی روایت تکثیریت، بین المذاہب ہم آہنگی اور آزادی کی حفاظت کی رہی ہے۔ طلبہ کی احتجاجی تاریخ،چاہے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور شہریوں کا قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ہو یا دیگر جمہوری مسائل پر،اسی روایت کا تسلسل ہے۔ جامعہ نے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دیا اور تعلیم کو آزادی، انسانیت پسندی اور قومی انضمام کا ذریعہ بنایا۔ اس کے بانیان نے ثابت کیا کہ مذہبی شناخت اور قومی وفاداری میں کوئی تضاد نہیں ہو سکتا، اگر بنیاد سیکولر اقدار پر ہو۔

بانی جامعہ مولانا محمد علی جوہر رحمہ علیہ نے ہندوستانی مسلمانوں کے ۱۹ نومبر ۱۹۳۰ کو گول میز کانفرنس میں اپنی شہرہ آفاق تقریر میں ہندوستانی مسلمانوں کے اپنے ملک اور عالم اسلام سے متعلق کیسی جامع بات کہی تھی: ’’میرا تعلق برابر رقبوں والے دو دائروں سے ہے جو ہم مرکز نہیں ہیں۔ ایک دائرہ ہندوستان ہے اور دوسرا مسلم دنیا ہے۔ جب میں ۱۹۲۰ میں خلافت کے وفد کے قائد کی حیثیت میں انگلینڈ آیا تو میرے دوستوں نے مجھ سے کہا: ’آپ کو اپنی اسٹیشنری پر کوئی علامت چھپوانی چاہئے۔‘ میں نے اس کے لئے دو دائروں کا انتخاب کیا۔ ایک دائرے میں ’ہندوستان‘ لکھا تھا اور دوسرے میں اسلام کے لئے لفظ ’خلافت‘ تھا۔ بحیثیت ہندوستانی مسلمان ہم دونوں دائروں میں آتے ہیں۔ ہمارا تعلق ان دونوں دائروں سے ہے [۔۔۔] ہم ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم قوم پرست نہیں بہت زیادہ قوم پرست ہیں۔ اور بحیثیت مسلمان میں کہتا ہوں کہ: ’’خدا نے انسان بنایا اورشیطان نے اسے قوم بنادیا‘‘ قوم پرستی [لوگوں کو] تقسیم کرتی ہے اور ہمارا دین انہیں متحد کرتا ہے۔ کسی بھی مذہبی یا صلیبی جنگ میں ایسا ہالوکاسٹ نہیں ہوا جیسا آپ کی گزشتہ جنگ میں ہوا ہے اور وہ جنگ آپ کی قوم پرستی کی جنگ تھی نہ کہ میرے جہاد کی۔‘‘

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے فکر کے درمیان تضاد بنیادی اور ناقابلِ مصالحت ہے۔ سب سے بڑا تضاد قومیت کے تصور میں ہے۔ جامعہ جامع قومیت پر یقین رکھتی ہے، جہاں تمام مذاہب کے لوگ برابر حقوق کے ساتھ قومی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہندو راشٹر کا تصور پیش کرتا ہے، جہاں غیر ہندو بیرونی یا غیر ملکی عناصر ہیں جنہیں ہندو ثقافت میں ضم ہونا پڑے گا یا پھر ماتحت حیثیت قبول کرنی پڑے گی۔ ساورکر اور گولوالکر کی تعریف جامعہ کے بانیان کی سیکولر قوم پرستی سے براہِ راست متصادم ہے۔

آزادی کی جدوجہد میں کردار کا بھی واضح تضاد ہے۔ جامعہ اس جدوجہد کی پیداوار ہے، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے بطورِ تنظیم کوئی فعال حصہ نہیں لیا بلکہ ہندو مسلم اتحاد کو کمزور سمجھا۔ سیکولرزم بمقابلہ ہندوتوا کا تضاد بھی نمایاں ہے۔ جامعہ تکثیریت اور ہم آہنگی سکھاتی ہے، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سیکولرزم کو خوشامد قرار دے کر اکثریتی بالادستی کو فروغ دیتا ہے۔ تعلیم کے مقصد میں بھی فرق ہے۔ جامعہ تعلیم کو آزادی اور انسانیت پسندی کا آلہ بناتی ہے، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اسے نظریاتی تربیت کا ذریعہ بناتا ہے۔ اقلیتوں کے مقام کا تضاد بھی واضح ہے۔ جامعہ مسلمانوں کو قومی مرکزی دھارے میں لاتی ہے، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ انہیں خطرہ یا دوسرے درجے کا شہری قرار دیتا ہے۔ 28 اپریل 2026 کا یووا کمبھ پروگرام اسی تضاد کی زندہ مثال ہے۔ جامعہ انتظامیہ پر طلبہ کی تنقید جائز ہے کہ جب ترقی پسند پروگراموں کو روکا جاتا ہے تو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو جگہ کیسے دی جاتی ہے۔ طلبہ کا احتجاج جامعہ کی بنیاد کی حفاظت اور اس کی سیکولر میراث کی پاسداری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی فرقہ وارانہ سیاست ہندوستان کی سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ سماج کو مسلسل تقسیم کر کے ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیان جامعہ نے ایک اس عظیم ادارے کی شکل میں ایک ایسی میراث چھوڑی ہے جو تنوع میں وحدت، سیکولرزم اور قومی انسانیت پسندی کی علامت ہے۔ ایک سابق طالب علم کے طور پر، جامعہ کی اس عظیم روایت پر فخر ہے۔ یووا کمبھ جیسے پروگراموں کی مخالفت کوئی انتہا پسندی نہیں بلکہ قومی، سیکولر اور جمہوری اقدار کی حفاظت ہے۔ ہندوستان کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی تقسیم کی سیاست کو مسترد کیا جائے اور جامعہ جیسے اداروں کو اپنی بنیاد پر قائم رہنے دیا جائے۔ صرف اسی صورت میں ایک حقیقی، جامع اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔