مسلکی آلودگی کے معاشرتی اثرات

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

آج مذہب و مسلک کے نام پر معاشرے میں جتنے بھی فرقے رائج ہیں اگر ایمان داری سے ان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام مسالک نے اسلام کے اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مفادات کے لحاظ سے اصول وضع کرلیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب مفادات پر زد آتی ہے تو معاشرے میں آلودگی ، کشیدگی اور مسلکی تشدد پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے مسلک و مشرب کے نام پر پیدا ہونے والی کشیدگی یا معاشرتی آلودگی حق و صداقت کے تئیں نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ہمیشہ مادی ترقی رہا ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے اس مسلکی تشدد اور مسلک کے نام پر وضع کردہ اصولوں کو اس طرح سے پروان چڑھایا گیا کہ عام فرد اسے ہی اصل دین سمجھ کر اتباع کرنے لگا ۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں عوامی سطح پر مسلک و مشرب کے نام جس طرح کی جنونیت پائی جاتی ہے وہ بہت ہی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس کے ہمیشہ مایوس کن اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔
اس لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مسلک کے نام پر جاری معاشرے میں تشدد یا اختلاف ایک طرح کا فتنہ بن چکا ہے ، لہٰذا اس پر قابو پانا نہایت ضروری ہے ۔

مسلکی اور فکری تشدد پر قابو پانے اور معاشرے میں اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کچھ ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کے حقیقی پیغام کو عوام تک پہچایا جائے ۔ مسلک کے بانیوں نے جو اصول اپنی فکر اور نظریہ کو سچ ثابت کرنے کے لیے یا دنیوی آسائش حاصل کرنے کے لیے اسلام کے نام پر وضع کیے ہیں ان سے ہر ممکن گریز کیا جانا چاہیے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس بات کا پتہ کیسے لگایا جائے کہ حقیقی اسلام کی تعلیمات کون سی ہیں ؟ کیوں کہ ہر مسلک والا خود کو حق پر سمجھتا ہے اور دوسرے کو غلط کہتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں قرآن و سنت اور عمل رسول کو دیکھنا ہوگا کہ اگر یہاں کوئی رہنمائی ملتی ہے تو ضروری ہے کہ ہم اسی پر عمل کریں۔ مسلکی نمائندوں کی تمام تشریحات کو پس پشت ڈال دیں ۔ ظاہر ہے قرآن و سنت ہمارے لیے بنیادی مصدر کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ہاں اگر کسی مسئلہ میں قرآن و سنت میں سکوت پایا جاتا ہے تو ہم دین کے دیگر ضروری مصادر کی طرف رجوع کریں گے ۔ اس طرح سے معاشرے کو ان مذہبی تشریحات سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے جو مسلک کے نام اور اپنے حلقہ کو بڑھانے کے لیے وضع کی گئی ہیں ۔ اس کو عملی جامہ اسی وقت پہنایا جاسکتا ہے جب کہ ہم معتدل فکر و نظر کے حامل ہوں گے ۔

مگر موجودہ صورت حال بالکل الگ نظر آتی ہے کہ ہم اپنے مسلک اور فکر کو لے کر بہت زیادہ متشدد نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ اعتدال کا رویہ اختیار کیا جائے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسلمات دین میں کسی بھی طرح کی مداہنت سے اجتناب ، فروعی مسائل میں توسع اور اختلافات میں آداب و احترام کی رعایت ملحوظ خاطر رہے ۔ اگر ہم اس منہج سے ہٹ کر کام کرتے ہیں تو پھر معاشرے میں مسائل پیدا ہوں گے جس سے معاشرتی آلودگی میں اضافہ ہوگا۔

برعکس اس کے اگر کوئی رواداری یا دلجوئی کی خاطر مسلمات دین میں مداہنت سے کام لے، فروعی مسائل میں تنگ نظری کا راستہ اختیار کرے اور اختلافی مسائل میں ادب و احترام کا دامن چھوڑ دے تو یقیناً یہ عمل کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے ۔ اس سے معاشرے کا توازن بگڑے گا اور جس طرح کی آلودگی یا باہمی پرخاش پیدا ہوگی وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ آج جو کچھ معاشرے میں دیکھنے کو مل رہا ہے اس میں اعتدال و توازن کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلک کے نام پر معاشرے میں آلودگی پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کے منفی نتائج سے ہمارا معاشرہ کہیں نہ کہیں متاثر ہوتا ہے ۔

مسلکی تشدد کے خاتمہ اور مسلکی آلودگی کے ازالے کے لیے معاشرے کو ان تقاریر اور خطبات یا مضامین و مقالات سے محفوظ رکھنا ہوگا جو نفرت سے آلودہ ہیں۔
آج معاشرے میں ایسے کئی نام نہاد مبلغ ہیں جن کا کام ہی مسلکی تشدد اور نفرت پھیلانا ہے ۔ اس کی وجہ در اصل یہ ہے کہ وہ نہ تو مذہب سے واقف ہیں اور نہ مذہبی تعلیمات سے ۔ حتیٰ کے انہیں تہذیب و شائستگی کے آداب تک پتہ نہیں ہیں ۔ چند پیسوں کے لیے وہ یہ سب کچھ کرتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ دین و مذہب کے نام پر ایسی ایسی باتیں گڑھ لی ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ۔

اس طبقہ نے مسلکی آلودگی ہی میں اضافہ نہیں کیا ہے بلکہ اسلام کا عالمگیر پیغام بھی بری طرح داغدار کیا ہے ۔ علی الاعلان یہ کہنا کہ ” فلاں مسلک کے لوگوں سے کسی بھی نوع کے تعلقات رکھنے سے عقیدہ خراب ہو جاتا ہے” کس طرح قابل قبول اور لائق برداشت ہوسکتا ہے ؟ کیا یہ رویہ معاشرتی آلودگی اور سماجی تشدد کو فروغ نہیں دیتا ہے ؟ یقیناً اس سے سماج کا امن و امان اور بقائے باہم تباہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح بزرگوں کی لکھی گئی کتابوں کو سب کچھ سمجھنا ان کو قرآن و حدیث پر ترجیح دینا بھی معاشرے کو آلودہ کرتا ہے ۔ یہ کس طرح کا رویہ ہے کہ ” ہمارے بزرگ نے جو کچھ لکھ دیا وہی درست ہے۔” اس کے خلاف کسی بھی حق اور سچ بات کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ یہ سوچ کسی ایک مسلک کے حامل میں نہیں ہے تقریباً تمام مسالک میں اس طرح کی سوچ نظر آتی ہے ۔ یہ تمام وہ مظاہر ہیں جن کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے ۔ ان تمام باتوں سے معاشرے کے ماحول میں جس طرح سے آلودگی اور ایک دوسرے کے لیے نفرت پیدا ہوتی ہے وہ کسی بھی حساس معاشرے کے لیے ٹھیک نہیں ہے ۔ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا یہی ہے کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جس کے اندر ان تمام باتوں اور افکار و نظریات کی رعایت کی جائے جن سے معاشرے میں امن و امان پیدا ہو ۔ سماجی فلاح و بہبود کی راہ ہموار ہو ۔ اعتماد و اعتبار کی فضاء بحال ہو ۔ اگر مسلک و مشرب کے نام پر واقعی کوئی علمی اختلاف ہے تو محض ارباب علم کے مابین رہے۔ عوام تک نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ پھر عقیدت و احترام کی وجہ غلو ہونے لگتا ہے۔ بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ ہمارے یہاں آج جتنے بھی مسلکی اختلافات ہیں وہ عوام میں زیادہ رائج ہیں ۔ اس لیے عوام کو مسلکی نفرت اور تشدد سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:

آخر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ معاشرتی آلودگی جن اسباب و عوامل سے معاشرے میں پھیلتی ہے ان میں مسلکی تشدد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس کی جڑیں معاشرے میں بہت مستحکم ہو چکی ہیں ۔ اس لیے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم عوام کے سامنے ان مسائل پر گفتگو کریں جو تمام مسالک میں یکساں ہیں ۔ تبھی جاکر مسلکی شدت پسندی کمی آئے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔