سیاسی مسائل کے حل کے لئے سیاسی حکمت عملی کی ضرورت

از:- مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

ہندوستان میں مسلمانوں کو جو مسائل درپیش ہیں ، وہ کوئی نئے نہیں ہیں ، بلکہ اکابر علماء کو اس کا احساس اسی زمانے میں ہوگیا تھا جب آزادی کی لڑائی باہمی اشتراک سے لڑنے کا منصوبہ بنایا ، یہی وجہ رہی کہ اس زمانے میں برادران وطن میں سے بڑے قائدین جو تحریک آزادی میں ان کے ساتھ تھے ، وہ ان سے بار بار سوال کرتے تھے کہ اس کی وضاحت کی جائے کہ جب ملک آزاد ہوگا تو کیسی حکومت بنے گی ؟ چنانچہ ان لوگوں نے اس کی یقین دہانی کرائی کہ جب ملک آزاد ہوگا تو یہاں سبھی کو حقوق دیئے جائیں گے ، اس میں آئین کی حکومت نافذ ہوگی اور جمہوری نظام قائم ہوگا ، جب ملک کا آزاد ہوا تو ملک کا نقشہ بدل گیا ، بدقسمتی سے ملک تقسیم ہو گیا ، مسلمان بہت کم تعداد میں رہ گئے ، پھر بھی تحریک میں شریک غیرمسلم مجاہدین آزادی نے مسلمانوں کی قربانیوں کے پیش نظر اپنی بات کی لاج رکھی اور جب ملک آزاد ہوا تو یہاں جمہوری نظام قائم کیا ، جس میں آئین کو بالادستی حاصل ہے ، اس وقت تحریک آزادی میں مسلم تنظیموں میں سے سرگرم دو تنظیمیں تھیں ، ایک جمعیت علمائے ہند اور دوسری آل انڈیا مومن کانفرنس ، حالات کو دیکھتے ہوئے تحریک آزادی میں شریک دونوں تنظیموں نے سیاست سے علاحدگی اختیار کر کے تنظیم کو سماجی اور رفاہی امور کو انجام دینے کا اعلان کیا ، کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ جمہوری نظام میں وہ اپنی سیاست کو بنیاد بنا کر اس ملک میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں ، اس لئے انہوں نے سیاست سے علاحدگی اختیار کرکے برادران وطن کے ساتھ مل جل کررہنے ،قومی یکجہتی کو عام کرنے اور مذہبی رواداری کو مضبوط کرنے پر زور دیا ، چنانچہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

آزادی کے بعد مسلمانوں کے سامنے بڑے بڑے سیاسی معاملات سامنے آئے ، مگر مسلمانوں نے ہر زمانے میں اپنے مسائل کے حل کے لئے حکمت عملی اختیار کی اور سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر مسلم مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب رہے۔
ایسا نہیں کہ ہمیشہ مسلمانوں کے لئے حالات سازگار رہے ، بلکہ ان کے ساتھ اکثر حالات ناموافق رہے ، اسی میں مسلمان زندہ رہےہیں اور حالات کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔

ہندوستان میں آزادی کے بعد مسلمانوں کے لئے حالات سازگار نہیں رہے ، مگر وہ حالات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے ، بلکہ حالات کا مقابلہ کیا ، ہر مسائل کے حل کے لئے الگ الگ حکمت عملی بنائی ، دین و شریعت کے تحفظ کے لئے مدارس و مکاتب قائم کئے، سماجی مسائل کے لئے ملی اداروں کو مضبوط کیا ، سیاسی حالات کے مقابلے کے لئے سیاسی لیڈروں سے رابطہ مضبوط کیا ، یہی وجہ ہے کہ نا سازگار حالات میں بھی وہ مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہے۔

موجودہ وقت میں مسلمان سب سے زیادہ سیاسی معاملات کی وجہ سے پریشان ہیں ، حکومت کی جانب سے ایسے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے مسلم سماج کے لوگ دشواریوں سے دو چار ہیں ، ان میں سے یو سی سی کا نفاذ ، تین طلاق کا جبری نفاذ ، وندے ماترم کے لازمی ہونے کا قانون ،ماب لنچنگ سے پریشانی ، اردو مادری زبان کے مسائل ، مدارس ، مساجد ، قبرستان ، اوقاف وغیرہ جیسے مسائل قابل ذکر ہیں ،ان میں سے بہت سے مسائل ایسے ہیں جو مسلم پرسنل لا سے متصادم ہیں ، جس کی ضمانت ملک کے آئین میں دی گئی ہے۔

مذکورہ مسائل پر ہم نے یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی ہے کہ ہم ان مسائل کے حل کے لئے قانون کا سہارا لیں گے اور عدالت سے فیصلہ حاصل کریں گے ، جبکہ یہ آخری شکل تھی ، اس سے پہلے ضرورت اس بات کی تھی اور ہے کہ سیاسی حکمت عملی تیار کی جائے ، کیونکہ مذکورہ بالا مسائل جو بھی ہیں ، تقریباً ان سبھی کا تعلق سیاست سے ہے ، اس لئے اس کو سیاست کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت تھی اور ہے ، چنانچہ اس کے حل کے لئے مندرجہ ذیل حکمت عملی تیار کی جائے ، جسے ماضی میں اختیار کیا گیا ، جس کا میں گواہ ہوں۔

  • (1) کوئی مسئلہ جذباتی بناکر حل نہیں ہوتا ہے ، اس لئے مسائل کو جذباتی نہ بنایا جائے ۔
  • (2) مسائل کو ملک کے آئین اور ملکی قوانین کے اندر حل کیا جائے۔
  • (3) مسائل کو حتی الامکان سیاسی بنانے سے بچا جائے۔
  • (4) نا امید ہو جانے پر ہی پریس کانفرنس کا سہارا لیا جائے۔
  • (5) بالخصوص ذمہ داروں کو اپنے لب و لہجہ کو اپیل کے دائرے میں رکھنا چاہیے۔
  • (6) حکومت وقت سے ٹکراؤ کے بجائے نزدیکی بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا جائے۔
  • (7) اس کے لئے حکومت سے قریب جو سیاسی لیڈران ہیں ، ان سے مدد حاصل کی جائے۔
  • (8) الگ الگ مسائل پر الگ الگ میمورنڈم تیار کئے جائیں۔
  • (9) سیاسی لیڈران سے میمورنڈم میں درج مسائل پر گفتگو کی جائے اور ان سے تعاون دینے کی اپیل کی جائے۔
  • (10) اہم اور با اثر شخصیات پر مشتمل وفد کی تشکیل کی جائے ۔
  • (11) مذکورہ مسائل میں سے جو مسائل جس محکمہ سے متعلق ہو ، وفد معاون لیڈران کی معیت میں ان کے وزیر سے اور افسران سے ملاقات کرے اور انہیں مسائل پر افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لئے راستہ ہموار کرے۔
  • (12) بہتر ہوگا کہ محکمہ کے وزیر یا وزیر اعلیٰ کو ادارہ میں دعوت دے کر بلایا جائے ، وقت لینے کی ذمہ داری پارٹی کے سیاسی لیڈران کو دی جائے ، جب وہ آئیں تو عوامی میٹنگ میں ان کے سامنے مسائل پیش کر کے ان سے حل کرنے کی درخواست کی جائے۔
  • (13) جب مسائل کے حل کی کوئی صورت نظر نہ آئے ، پھر عدالت کا سہارا لیا جائے اور قانونی چارہ جوئی کی جائے

میں نے اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ، اکابر علماء ، سیاسی لیڈران اور آفیسران کے کام کرنے کے انداز کو دیکھا ، جن سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ، مذکورہ بالا تحریر اسی کا خلاصہ ہے ، جسے میں نے پیش کیا ہے ، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو شر اور فتنہ سے حفاظت فرمائے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔