از:- محمد غمر فراہی
ترنمول گانگریس کے وہ باغی سیاستدان جنھوں نے اپنی پارٹی سے بغاوت کی ہے انہیں صحیح معنوں میں غدار کہنا مناسب نہیں ہے ۔ہاں انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے جو غیر قانونی فائدے اٹھاۓ ہیں وہ فائلیں مرکزی حکومت کی ایجنسیوں کے ہاتھ لگ چکی ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ کبھی بھی قانون کے سخت شکنجے میں کسے جا سکتے تھے انہیں اسی طرح یہ قدم اٹھانا پڑا جیسے کہ مہاراشٹر میں کچھ سال پہلے یہ ڈرامہ ہو چکا ہے ۔تصویر میں ان کی باڈی لینگویج سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ خوشی خوشی یہاں آئے نہیں ہیں بلکہ آنے پر مجبور کئے گئے ہیں۔اس بات کو یوں سمجھ لیں کہ جب کسی ایک شخص کو کچھ شرپسند کہیں سنسان علاقے میں گھیر لیں اور اس سے کہیں کہ جئے شری رام بول نہیں تو تیری ماب لنچنگ کر دیں گے تو وہ شخص اس وقت کیا کرے گا ؟
وہی کرے گا جو طاقت ور بھیڑ کا تقاضہ ہے یا پھر بہت جرأت ہے تو قتل ہونے کے لئے تیار ہو جائے گا ۔اس تصویر میں یوسف پٹھان پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ ایک مسجد کے مؤذن کے صاحبزادے ہیں وہ چاہتے تو جتنی دولت اور شہرت قدرت نے انہیں عطا کی بھی وہ بہت تھی ۔وہ اتنے میں ہی قناعت کر کے پرسکون زندگی گزار دیتے مگر ھل من مزید کی کیفیت نے انہیں بھی سیاست میں قدم رکھنے پر مجبور کر دیا ۔کہتے ہیں اسی سیاسی اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوۓ وہ بھی کسی زمین جائیداد کے معاملے میں حکومت کی نظر میں آ گئے ہیں ۔ان کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو ملک کی موجودہ فرقہ پرست جماعت کی پیش کش کو تسلیم کرتے ہوۓ اپنی جائیداد بچائیں یا پھر اپنی مسلمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ۔اصل میں اس طرح کی اصولی بحث کرتے ہوۓ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم جس لبرل اور سیکولر ملک میں رہ رہے ہیں یا یہاں جو لادینی نظام رائج ہے یہاں سرے سے جدید مکاتب میں سچائی اور ایمانداری کی تعلیم اور تربیت کا کوئی نظم ہی نہیں ہے ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکولوں اسمبلیوں اور پارلیمنٹوں کی شروعات جن گن من اور وندے ماترم کے ترانوں سے ہوتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ صرف زبان سے دیس بھگتی کے حق میں کلمات ادا کر دینے سے یا کسی خدا اور بھگوان کے نام سے حلف اٹھا لینے یا اللہ اکبر کا نعرہ لگا دینے سے کسی کے ایمان کی کیفیت بدل جاتی ہے کیا ۔
ایسا ہوتا تو مسلمان روز پانچ بار مؤذن کی اذان سن کر بڑا والا مومن بن جاتا اور خود مؤذن قلندر بن جاتا مگر ایسا ہو نہیں پا رہا ہے ۔بھارت کا موذن بھی کم و بیش شرک اور بدعات میں ملوث قوموں کی طرح بدعنوانی میں غرق ہے ۔وجہ بالکل صاف ہے کہ لوگوں کی تربیت کے لئے اچھے ماحول اور معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یا رہنے کے لئے مجبور ہیں وہ شرابیوں، چوروں ، لٹیروں ،سود خوروں اور زانیوں کا معاشرہ ہے ۔نوے فیصد بڑے کاروبار جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پر قائم ہیں بلکہ یوں کہیں کہ business management میں اگر آپ اچھا جھوٹ نہیں بول سکتے تو اپنے پروڈکٹ کی اچھی مارکٹنگ نہیں کر سکتے ۔کمیشن خوری کا یہ حال ہے کہ فارما کمپنیاں ڈاکٹروں کو out dated دوانیاں بیچنے کے لئے بھی اچھے پیکیج کی پیشکش کرتی ہیں باقی اسپتالوں میں جو دھاندلیاں ہوتی ہیں اگر آپ نے میڈیا کلیم نہیں کرایا ہے تو زندگی بھر کی جمع پونجی ایک بیماری میں ہی لوٹ لی جاتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ پھر آپ صرف اذان پکار کر امامت کر کے یا مدرسوں میں درس و تدریس کا کام انجام دے کر مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیرات اور جلسے جلوس میں آنے والے ہزاروں کروڑ کے اخراجات تو پورا نہیں کر سکتے ۔اس کے لئے چندے تو بہرحال عام تاجروں اور سیاستدانوں سے ہی لئے جارہے ہیں اور کہیں سے کوئی تحقیق بھی نہیں کی جاتی کہ یہ رقم حلال کی ہے یا حرام کی ۔بلکہ سب کچھ معلوم ہوتے ہوۓ بھی مسجدوں اور مدرسوں کے ذمہ داران ان سرمایہ داروں کی دہلیز پر کثرت سے قطار میں کھڑے پاۓ جاتے ہیں جہاں سے انہیں زکواۃ اور عطیات کی موٹی رقم ملتی ہے جبکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کی تجارت مشتبہ ہے اور ان سرمایہ داروں نے اپنے کاروبار کی ترقی کے لئے جانے کتنوں کا گلا کاٹا ہے کتنوں کی زمینیں ہڑپی ہیں اور چوری کا مال بیچا ہے ۔بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارت میں ایسے سیکڑوں مدارس اور مسجدوں کے اخراجات ایسی ہی مشتبہ رقومات سے پوری کی جاتی ہیں ۔کئی بار یہ بات بحث میں آئی تو کہا جاتا ہے کہ پھر تو مشکل ہے مدرسے اور مسجدوں کا تعمیر کیا جانا ۔الحمدللہ پہلے سے کہیں زیادہ مسجدیں تعمیر ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں اور مدرسے بھی بن رہے ہیں لیکن کیا ان مدرسوں سے کوئی ایک بھی علی میاں ندوی ر ع جیسا عالم پیدا کیا جا سکا یا پیدا ہونے کی امید ہے ؟ بلکہ جن سے امید کی جارہی تھی کہ یہ علی میاں کے جانشین ہو سکتے ہیں ان کی شبیہ بھی داغدار ہو چکی ہے ۔ایسے میں ایک موذن کے بیٹے سے کسی قومی غیرت اور اخلاقی جرآت کے مظاہرے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ؟؟
اچھی اور صحت مند فصل کے لئے اچھی آب و ہوا اور زرخیز زمین درکار ہوتی ہے !
شاید میں اپنی بات کہہ سکا !