🖊️ شان محمد ندوی
ہندوستان میں بیرونی چندے کا مسئلہ ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ نظریاتی طور پر بیرونی چندے کی اجازت انسانی امداد، صحت، تعلیم، ماحولیات اور ثقافتی کاموں کے لیے دی جاتی ہے۔ لیکن اس کی آمد کو کنٹرول کرنا ہر ملک کے لیے ضروری ہے تاکہ بیرونی مداخلت کو روکا جا سکے۔
ہندوستان میں 1976 سے پہلے بیرونی چندے کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی قانونی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی کی حکومت نے محسوس کیا کہ بیرونی قوتیں ہندوستان کے جمہوری نظام کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ اسی پس منظر میں” غیر ملکی چندہ ضابطہ ایکٹ 1976“ نافذ کیا گیا۔ بعد میں 2010 میں ایک سخت قانون لایا گیا جس میں سیاستدانوں، ججوں، سرکاری ملازمین اور سیاسی جماعتوں پر بیرونی چندہ لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
اب حکومت” غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل 2026“ لے کر آئی ہے۔ یہ بل پچھلے مانسون اجلاس میں بھی پیش ہونا تھا لیکن عیسائی تنظیموں اور NGOs کے وسیع احتجاج کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس وقت لوگوں نے سمجھا کہ شاید حکومت اسے واپس لے لے گی، لیکن اب اسے دوبارہ غور کے لیے فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ حکومت اسے پاس کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
2026 کے بل کی سب سے خطرناک بات اس کا "Sledgehammer Effect” ہے۔ یعنی ایک چھوٹی سی خلاف ورزی پر پوری تنظیم کو ختم کر دینا۔ بل کے مطابق اگر کسی تنظیم کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ ہو جائے تو اس کے پاس موجود تمام بیرونی چندہ اور اس چندے سے بنائی گئی تمام جائیداد ایک نامزد اتھارٹی کے حوالے کر دی جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر جائیداد جزوی طور پر بھی بیرونی چندے سے بنی ہو تو پوری جائیداد ضبط ہو جائے گی۔ اس میں عبادت گاہیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ بل حکومت کو” لامحدود اختیارات“ دیتا ہے۔ "عوامی مفاد” کی بنیاد پر حکومت کسی بھی وقت کسی بھی تنظیم کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر سکتی ہے۔ لیکن "عوامی مفاد” کی کوئی واضح تعریف نہیں دی گئی۔ چونکہ حکومت ہی عوامی مفاد کی محافظ ہے، اس لیے وہ اپنے کسی بھی فیصلے کو اسی بنیاد پر جائز قرار دے سکتی ہے۔
بل کی ایک اور متنازعہ شق یہ ہے کہ اگر کسی فرد یا تنظیم پر "لالچ یا زبردستی کے ذریعے مذہبی تبدیلی” کا الزام ہو اور مقدمہ چل رہا ہو تو اس کا سرٹیفکیٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کسی تنظیم کو نشانہ بنانے کے لیے پولیس اسٹیشن میں اس طرح کی شکایت درج کروانا بہت آسان ہے۔ اس لیے اس شق میں (غلط استعمال کا بہت بڑا امکان) ہے، خاص طور پر اقلیتی مذہبی گروہوں کے خلاف۔
سب سے عجیب شق یہ ہے کہ اگر کوئی تنظیم خود رضاکارانہ طور پر اپنا سرٹیفکیٹ واپس کر دے تو بھی اس کے پاس موجود تمام غیر استعمال شدہ چندہ اور اس سے بنی جائیداد حکومت لے لے گی۔ اس کی کوئی منطقی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
بل کی (شق 16L) حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ جسے چاہے اس قانون سے مستثنیٰ کر دے اگر وہ اسے عوامی مفاد میں سمجھے۔ بظاہر یہ شق مناسب لگتی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ (آئین کے آرٹیکل 14) کے خلاف ہے جو "قانون کے سامنے مساوات” کی ضمانت دیتا ہے۔ اس شق میں نہ تو کوئی "قابلِ فہم بنیاد” بتائی گئی ہے اور نہ ہی تفریق اور مقصد کے درمیان کوئی "معقول تعلق” قائم کیا گیا ہے۔ استثنیٰ دینا مکمل طور پر حکومت کی مرضی پر ہے۔
ان تمام ترامیم کے مجموعی خاکے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست دراصل تعلیمی، ثقافتی، ماحولیاتی اور خیراتی شعبوں میں کام کرنے والی تنظیموں کو کسی گہرے تعصب کی بنیاد پر ختم کرنا چاہتی ہے۔
بظاہر FCRA 2026 کا مقصد بیرونی چندے میں شفافیت لانا ہے۔ لیکن اس کی شقیں اتنی سخت اور مبہم ہیں کہ یہ حکومت کو NGOs کو دبانے کا ایک طاقتور ہتھیار دے دیتی ہیں۔ "عوامی مفاد” اور "استثنیٰ” جیسی غیر واضح اصطلاحات قانون کے غلط استعمال کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون سازی کرتے وقت انفرادی آزادی اور آئینی اقدار کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ بیرونی فنڈز کا ضابطہ، جبر کی شکل اختیار نہ کر جائے۔