از: حسان نواز علیمی
لیکچرر، دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، ملاپورم، کیرالا
کیرالا کی معروف دینی، فکری اور اصلاحی درسگاہ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت، مجاہدِ آزادی، مصلحِ ملت اور خاندانِ اہلِ بیت کے ممتاز فرد حضور قطب الزمان سید علوی مولیٰ الدویلہ ممبرمی رحمۃ اللہ علیہ کا 188واں سالانہ عرسِ مبارک آج باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے۔ یہ روحانی و علمی تقریبات 24 جون 2026ء تک جاری رہیں گی، جن میں ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے علماء، دانشور، طلبہ اور عقیدت مند شرکت کریں گے۔
اس مبارک موقع پر دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز اور تعلیمی مراکز میں خصوصی مجالس، دروس، محافلِ ذکر، علمی نشستیں اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام پروگراموں کا مقصد حضور ممبرمی تنگلؒ کی علمی، دینی، اصلاحی اور قومی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانا اور ان کے افکار و تعلیمات کو عام کرنا ہے۔
نئے ہجری سال کا آغاز اور عرسِ مبارک کی روحانی مناسبت: یہ امر نہایت خوش آئند اور بابرکت ہے کہ اس سال عرسِ مبارک کا آغاز نئے اسلامی سال 1448ھ کے پہلے دن یعنی یکم محرم الحرام سے ہو رہا ہے۔ اس مناسبت سے منعقدہ خصوصی مجالس میں مقررین نے نئے ہجری سال کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی سال کا آغاز ہمیں ہجرتِ نبوی ﷺ کی عظیم یاد دلاتا ہے، جو قربانی، استقامت، صبر اور دین کی سربلندی کا روشن پیغام ہے۔
علمائے کرام نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ بزرگانِ دین کے عرس محض یادگاری تقریبات نہیں ہوتے بلکہ یہ ایمان کی تجدید، اصلاحِ نفس اور روحانی ترقی کے اہم مواقع ہوتے ہیں۔ حضور سید علوی ممبرمی تنگلؒ کی یاد میں منعقد ہونے والا یہ عرس بھی ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے، اخلاص پیدا کرنے اور دین کی خدمت کے جذبے کو زندہ رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
یمن سے ملبار تک: علم و ہدایت کا درخشاں سفر: عرس کی تقریبات میں حضور ممبرمی تنگلؒ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ مقررین نے بتایا کہ آپ 23 ذی الحجہ 1166ھ کو یمن کے تاریخی اور علمی مرکز تریم، حضرموت میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ساداتِ کرام کے اس عظیم خانوادے سے تھا جس نے صدیوں تک دینِ اسلام کی خدمت اور اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔
بعد ازاں آپ دعوتِ دین کے عظیم مقصد کے تحت ہندوستان تشریف لائے اور کیرالا کے علاقے ملبار کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت معاشرہ جہالت، توہم پرستی اور مختلف سماجی برائیوں کا شکار تھا۔ آپ نے اپنی حکمت، اخلاص اور حسنِ کردار کے ذریعے لوگوں کے دل جیتے اور انہیں قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ آپ کی دعوتی کوششوں کے نتیجے میں علاقے میں علم، دینداری، اخوت اور سماجی انصاف کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
اصلاحِ معاشرہ اور سماجی مساوات کا پیغام: حضور ممبرمی تنگلؒ نے صرف مذہبی تعلیمات کی اشاعت ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ معاشرتی اصلاح کو بھی اپنی جدوجہد کا اہم حصہ بنایا۔ آپ نے ذات پات، طبقاتی تفریق اور اونچ نیچ کے خلاف آواز بلند کی اور انسانیت، مساوات اور بھائی چارے کے اسلامی اصولوں کو فروغ دیا۔
آپ کی تعلیمات کا اثر یہ ہوا کہ معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کو عزت و وقار ملا اور لوگوں کے درمیان محبت و اخوت کے رشتے مضبوط ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کو ملبار کی تاریخ میں ایک عظیم مصلح اور عوامی رہنما کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔
تحریکِ آزادی میں تاریخی کردار: حضور سید علوی ممبرمی تنگلؒ کی شخصیت کا ایک اہم اور روشن پہلو ان کا جذبۂ حریت اور استعمار دشمن فکر ہے۔ آپ نے برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد کے خلاف عوام میں شعور بیدار کیا اور انہیں آزادی کی قدر و قیمت سے آگاہ کیا۔
آپ کی مشہور عربی تصنیف "السيف البتار” نے اس دور میں غلامی کے خلاف بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب نے عوام میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا جذبہ پیدا کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ کی تحریک اور دعوت سے متاثر ہو کر ہندو اور مسلمان دونوں طبقات نے متحد ہو کر سامراجی قوتوں کا مقابلہ کیا۔ اسی بنا پر آپ کو ملبار کی آزادی کی جدوجہد کے ابتدائی معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کرامات، روحانی عظمت اور دور اندیشی: عرس کی مختلف نشستوں میں حضور ممبرمی تنگلؒ کی روحانی عظمت، تقویٰ، للّٰہیت اور کرامات کا تذکرہ بھی نہایت عقیدت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ عوام میں مشہور ہے کہ آپ کی دعاؤں کے طفیل مختلف وبائی امراض اور مصیبتوں سے نجات حاصل ہوئی اور بے شمار لوگوں نے آپ کی توجہات و دعاؤں سے روحانی فیض پایا۔
علمائے کرام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آپ محض ایک روحانی پیشوا ہی نہیں بلکہ ایک دور اندیش مفکر بھی تھے۔ آپ نے اپنے زمانے میں ہی آنے والے فکری اور تہذیبی خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے امت کو خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں مادیت، دین بیزاری اور اخلاقی زوال جیسے فتنے جنم لیں گے۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی کہ وہ قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، کیونکہ یہی ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
ممبرم شریف: عقیدت و محبت کا مرکز: حضور قطب الزمان سید علوی ممبرمی تنگلؒ کا وصال 7 محرم الحرام 1260ھ بمطابق 1844ء میں ہوا، مگر آپ کا فیضان آج بھی جاری ہے۔ کیرالا میں واقع ممبرم شریف آج لاکھوں عقیدت مندوں، زائرین اور طالبانِ حق کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں افراد حاضر ہو کر دعائیں کرتے اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام جاری یہ روحانی تقریبات 24 جون 2026ء کو اختتام پذیر ہوں گی۔ اختتامی اجلاس میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمِ اسلام کے استحکام، فلسطین سمیت مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
حضور سید علوی ممبرمی تنگلؒ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم، اخلاص، خدمتِ خلق، ظلم کے خلاف جدوجہد اور دین کی دعوت ہی وہ راستہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔
عجب مقام ہے اللہ کے فرستادوں کا
مٹے جو خود تو زمانے کو زندگی دے گئے