از:- عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں
گذشتہ کچھ عرصے سے ایک عجیب بحث چل پڑی ہے کہ آخر بھارت میں شہریت کا حتمی ثبوت کیا ہے؟ اس بحث نے عام آدمی کو ایک نئی الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔
سب سے پہلے ووٹر کارڈ کو دیکھیے۔ عام طور پر لوگ اسے شہریت کی علامت سمجھتے ہیں، مگر ایس آئی آر کے معاملے میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ ووٹر کارڈ محض ووٹ ڈالنے کے حق کا ثبوت ہے، شہریت کا نہیں۔ پھر پین کارڈ کی باری آتی ہے، لیکن وہ بھی صرف ٹیکس دہندگان کی شناخت کے لیے ہے، نہ کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے۔
آدھار کارڈ، جو آج تقریباً ہر شخص کی بنیادی شناخت بن چکا ہے، اس کے بارے میں بھی حکومت نے خود ہی واضح کردیا ہے کہ یہ صرف شناخت کا دستاویز ہے؛ نہ یہ شہریت کا ثبوت ہے اور نہ مستقل رہائش کا۔
اب تازہ بحث پاسپورٹ کے بارے میں چھڑی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاسپورٹ بھی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں، بلکہ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے۔ ایسے میں ایک عام شہری کے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کون سی دستاویز پیش کرے؟
بعض لوگ برتھ سرٹیفکیٹ کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن یہاں بھی ایک سوال جنم لیتا ہے۔ اگر شہریت کی بنیاد والدین کی شہریت پر ہے تو پھر والدین اپنی شہریت کس دستاویز سے ثابت کریں گے؟ ووٹر کارڈ سے، آدھار سے، پاسپورٹ سے یا کسی اور کاغذ سے؟ جب ایک ایک کرکے تمام دستاویزات پر سوالیہ نشان لگا دیا جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا کوئ واضح اختتام نہیں ہے۔
اس لیے حکومت سے بجا طور پر یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر وہ کون سی دستاویز ہے جسے بلا تردد اور بلا چون و چرا شہریت کا حتمی ثبوت تسلیم کیا جائے؟
عوام کو اس معاملے میں واضح اور دوٹوک رہنمائی ملنی چاہیے۔ یہ تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ کبھ ایک دستاویز معتبر قرار دی جائے اور وہی دوسرے وقت اسی کی حیثیت مشکوک بنا دی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پہلے ہی کاغذات، دفاتر اور ضابطوں کے پیچیدہ نظام میں الجھا ہوا ہے۔ اگر ہر دستاویز کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ شہریت کا قطعی ثبوت نہیں، تو پھر شہری آخر کس بنیاد پر اپنی شہریت ثابت کرے گا؟
شاید وقت آ گیا ہے کہ اس الجھن کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کوئی واضح اور یکساں نظام یا طریقہ اختیار کیا جائے، یا پھر ایک ایسی دستاویز جاری کی جائے جس کی قانونی حیثیت غیر مبہم ہو۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ کل کو شہریوں سے یہ بھی پوچھا جائے کہ صرف اس ملک میں رہنا کافی نہیں، اس کے لیے بھی کوئی الگ سرکاری ثبوت درکار ہے۔
بلاشبہ سوال بہت سادہ ہے، مگر اسے اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ اگر یہی پیمانے ہر شخص پر یکساں طور پر لاگو کر دیے جائیں تو ممکن ہے بلکہ قوی امکان ہے کہ بہت سے بااختیار لوگوں کو بھی اپنی شہریت ثابت کرنے میں دشواری پیش آ جائے۔