فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے، تو آپ ندوی نہیں ہیں !

(ندوہ کا مسلکِ اعتدال اور ابناءِ ندوہ کا فرضِ منصبی)

از:- محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

آج کا دور جہاں علمی ترقی، ذرائع ابلاغ کی وسعت اور معلومات کی فراوانی کا دور ہے، وہیں یہ زمانہ فکری انتشار، باہمی نزاعات، مسلکی شدت، شخصیت پرستی اور سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ کشمکش اور کشاکش کا بھی دور بن چکا ہے۔ بالخصوص دینی حلقوں میں یہ صورت حال نہایت تشویش ناک ہے کہ علمی اختلافات، فروعی مسائل اور اجتہادی آراء بھی ایسے انداز میں زیرِ بحث لائی جاتی ہیں کہ امت کی وحدت، علماء کا وقار اور دین کی اجتماعی مصلحت پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ زبانوں میں سختی، قلم میں تلخی اور دلوں میں دوری بڑھتی جا رہی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات تکفیر، تفسیق، تحقیر اور کردار کشی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، حالانکہ دینِ اسلام نے اختلاف کو اخلاق، انصاف اور اعتدال کے دائرے میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔

ایسے نازک دور میں ندوة العلماء لکھنؤ کی فکر، اس کا منہج اور اس کا اعتدال پسند مزاج پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ندوة العلماء محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری، علمی اور اصلاحی تحریک ہے، جس کی بنیاد امت کے شیرازے کو جوڑنے، باہمی نزاعات کو کم کرنے اور قرآن و سنت کی پاکیزہ تعلیمات کی روشنی میں امت کو اعتدال، وسطیت اور اجتماعیت کا راستہ دکھانے پر رکھی گئی تھی۔ اس کا نصب العین کسی نئے مسلک کی بنیاد رکھنا نہیں، بلکہ اسلام کے اولین اور خالص سرچشموں کی طرف رجوع، سلفِ صالحین کے فہم کو معیار بنانا، امت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا اور مختلف دینی طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

ندوہ کی پوری فکر اس قرآنی اصول ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ اور اس نبوی معیار «ما أنا عليه وأصحابي» کی عملی ترجمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ندوہ عقائد اور اصولِ دین میں سلفِ صالحین اور جمہور اہلِ سنت والجماعت کے منہج پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کو ضروری سمجھتا ہے، لیکن فروعی، اجتہادی اور فقہی مسائل میں امت کی وسعت، فقہ اسلامی کی گنجائش اور حالات و مصالح کو ملحوظ رکھتے ہوئے اعتدال اور حکمت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ نہ جمود اس کا شعار ہے اور نہ بے لگام تجدد؛ بلکہ اس کا امتیاز یہ ہے کہ وہ "قدیمِ صالح” کو محفوظ رکھتے ہوئے "جدیدِ نافع” سے بھی فائدہ اٹھانے کا داعی ہے، اور اپنے معروف شعار "خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدَرَ” اور "شعارنا الوحيد: إلى الإسلام من جديد” کی روشنی میں خالص اسلامی فکر کی تجدید کا علمبردار ہے۔

یہی اعتدال ندوہ کو تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ اس نے ایک طرف دینی روایت کی حفاظت کی اور دوسری طرف عصری تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا؛ ایک طرف اصول پر استقامت اختیار کی تو دوسری طرف امت کی اجتماعیت اور باہمی الفت کو ہر حال میں مقدم رکھا۔ اسی لیے ندوہ نے ہمیشہ رفعِ نزاعِ باہمی، حسنِ ظن، وسعتِ ظرف، اعتدالِ فکر اور امت کی وحدت کو اپنی دعوت کا بنیادی حصہ بنایا، اور خصوصاً صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ادب، محبت اور مشاجرات صحابہ کے سلسلہ میں سکوت کے مسلک کو اختیار کیا، اہل بیت اطہار سے محبت بھی دین کا حصہ سمجھا اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنے لئے مقتدیٰ اور آنکھوں کا سرمہ جانا۔
آج ہر اس شخص کے لیے جو خود کو ابنائے ندوہ میں شمار کرتا ہے، یہ محض ایک علمی نسبت نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری اور امانت ہے۔ اس کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ وہ اپنے قول، قلم، کردار اور بالخصوص سوشل میڈیا کے استعمال میں ندوہ کے اسی معتدل مزاج، وسیع النظر فکر اور اصلاحی منہج کا عملی نمونہ بنے۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں نہ بدلے، فروعی مسائل کو امت کی تقسیم کا ذریعہ نہ بنائے، شخصیات کے بجائے اصولوں کی دعوت دے، اور ہر حال میں امت کے اجتماعی مفاد، اتحاد اور خیرخواہی کو مقدم رکھے۔
حقیقت یہ ہے کہ ندوہ کا صحیح ترجمان وہی ہے جس کے اندر اعتدال، توازن، وسعتِ ظرف، اصول میں استقامت، فروع میں حکمت، سلفِ صالحین سے وابستگی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے حسنِ عقیدت، اور رفعِ نزاعِ باہمی کا درد موجود ہو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک حقیقی ندوی کی شناخت ہیں، اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج ملتِ اسلامیہ کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ذیل میں ایک پرانی تحریر ” قند مکرر،، کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس میں ندوہ کے مسلک اعتدال کو ظاہر کیا گیا ہے اور ندوہ کی فکر کی جامعیت و وسعت کو سمجھایا گیا ہے،امید کہ تمام قارئین اس سے استفادہ کریں گے اور رفع نزاع باہمی میں اپنا کردار ادا کریں گے اور غیر ضروری بحث و مباحثہ سے اپنے کو بچائیں گے ۔
م ق ن

ندوة العلماء در حقیقت ایک ہمہ گیر علمی، دینی، اصلاحی اور تعلیمی تحریک کی حیثیت سے قائم ہوا، یہ 1310 ہج مطابق 1892ء کی بات ہے ، اس تحریک کے بلند و عظیم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک تجربہ گاہ کے طور پر دار العلوم ندوة العلماء کا قیام اس کے چھ سال بعد 1316ھج مطابق 1898ء میں عمل میں آیا اور یہ تجربہ اتنا کامیاب اور بابرکت ثابت ہوا کہ بعد میں دار العلوم نے تحریک ندوة العلماء سے بھی زیادہ مقبولیت و شہرت حاصل کرلی ۔

بانیان ندوہ جس فکر پر مجتمع ہوئے تھے اور ان کی جو اساسی اور اولین ترجیح اور فکر تھی، وہ یہ کہ کوئی ایسا مرکزی ادارہ قائم کیا جائے، جس میں ہر خیال اور مسلک و مشرب کے لوگ بیٹھ سکیں ،اپنی کہیں دوسروں کی سنیں ،فروعی مسائل کے بجائے اصولی معاملات کی جانب توجہ قائم کریں اور باہم نبرد آزمائی کے بجائے مشترک مسائل میں متحد ہوکر قدم اٹھائیں ، رفع نزاع باہمی بھی اس تنظیم کا بنیادی مقصد تھا۔

۔ ندوہ کا مسلک یہ ہے کہ ایمانیات و عقائد میں تصلب ہو، ما انا علیہ و اصحابی اور اہل سنت والجماعت کے مسلک ہم سختی سے قائم و دائم رہیں ، البتہ فروعات اور فقہی مسائل کے اختیار میں ضرورت کے وقت لچک ہو ۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ندوہ حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رح( متوفیٰ 1176ھج)کے علمی و فکری اور کلامی و فقہی مدرسئہ فکر سے زیادہ قریب اور ہم آہنگ ہے ، اس لحاظ سے ندوة العلماء ایک محدود تعلیمی مرکز سے زیادہ ایک جامع اور کثیر المقاصد دبستان فکر اور مکتب خیال ہے ۔

جس طرح اس امت کا درجنوں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں امتیازات میں سے ایک امتیاز اعتدال، توازن اور وسطیت ہے، ندوہ بھی اپنی وسطیت اور فکری اعتدال و توازن میں عالم اسلام میں ممتاز و منفرد ہے ۔ اصلاح نصاب کا یہ داعی ہے اور قدیم صالح و جدید نافع کا ناشر اور مبلغ ہے ، اور دو انتہا کے درمیان ایک معتدل نظام و نصاب تعلیم کا علمبردار ہے ،،خذ ما صفا و دع ما کدر،، ،،دع ما یریبک الی ما لا یریبک ،،اور
،، شعارنا الوحید الی الاسلام من جدید،، اس کا شان امتیاز ہے ۔

آج کی اس مجلس چونکہ ہمیں صرف ندوة العلماء کا مسلک بتانا ہے، اس لیے ندوہ کا امتیاز و تفوق اور اس کے نصاب تعلیم پر ہم گفتگو کسی اور موقع پر کریں گے ۔

مختصر یہ کہ مولانا محمد علی مونگیری رح کو سب سے پہلے ندوہ کی ضرورت کا احساس ہوا، جو ان کی روشن ضمیری اور زمانہ شناسی کا نتیجہ تھا، انہیں کی صاحب اثر شخصیت تھی، جس کی بدولت ندوہ نے چہار دانگ عالم میں مقبولیت و محبوبیت حاصل کی ۔
نومبر 1975ء میں دار العلوم ندوة العلماء کا پچاسی سالہ کامیاب جشن تعلیمی منعقد ہوا تھا ، جس میں ہندوستان کے علاؤہ عرب و عجم کے ہزاروں علماء نے شرکت کی تھی اور ندوہ کی ہمہ گیر و ہمہ جہت خدمات کو سراہا تھا ۔ دار العلوم ندوة العلماء کے اس وقت کے روح رواں میر کارواں، ناظم ندوہ مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح نے ندوة العلماء کے مسلک اور مقاصد کی مختصر الفاظ میں وضاحت بہت ضروری سمجھی تھی، تاکہ کسی کے دل میں ندوة العلماء کی طرف سے کوئی شبہ اور ذہن میں الجھاؤ باقی نہ رہے، اور وہ آسانی کے ساتھ ندوہ کے مسلک اور اس کے کام اور پروگرام کو سمجھ سکے اور اس کی خصوصیات سے آگاہ ہوسکے ۔

مولانا کی اس تحریر کا ایک اقتباس ،،ندوة العلماء کا مسلک،، کے عنوان سے تھا:
اج اس وقت بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں بھی بعض لوگوں کے تفردات اور فکری بے راہ روی کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں ۔

اس لئے میں آج کی مجلس میں ندوة العلماء کا مسلک ، جس پر میں بھی قائم ہوں اور جو سارے فارغین ندوہ کا مسلک و مشرب بھی ہے، ذیل میں بہت واضح انداز میں پیش کر رہا ہوں ۔

،، دین و عقائد کے معاملہ میں ندوة العلماء کے مسلک کی بنیاد دین خالص پر ہے، جو ہر قسم کی آمیزش اور آلائش سے پاک ،تاویل اور تحریف سے بلند ،ملاوٹ اور فریب کی دسترس سے دور اور ہر اعتبار سے مکمل اور محفوظ ہے۔

دین کے فہم اور اس کی تشریح اور تعبیر میں اس کی بنیاد اسلام کے اولین اور صاف و شفاف سر چشموں سے استفادہ اور اس کی اصل کی طرف رجوع پر ہے ۔
اعمال و اخلاق کے شعبے میں دین کے جوہر و مغز کو اختیار کرنے ، اس پر مضبوطی سے قائم رہنے احکام شرعیہ پر عمل ، حقیقت دین اور روح دین سے زیادہ قربت اور تقویٰ اور صلاح باطن پر ہے ۔

تصور تاریخ میں اس کی بنیاد اس پر ہے کہ اسلام کے ظہور اور عروج کا دور اول سب سے بہتر اور قابل احترام دور ہے اور وہ نسل جس نے آغوش نبوت اور درسگاہ رسالت میں تربیت پائی اور قرآن و ایمان کے مدرسہ سے تیار ہوکر نکلی ،سب سے زیادہ مثالی اور قابل تقلید نسل ہے، اور ہماری سعادت و نجات اور فلاح و کامرانی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ کریں اور اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں ۔

نظریئہ علم و فلسفہ تعلیم میں اس کی اساس اس پر ہے کہ علم بذات خود ایک اکائی ہے، جو قدیم و جدید مشرق و مغرب کے خانوں میں تقسیم نہیں کی جاسکتی، اگر اس کی کوئی تقسیم ممکن ہے، تو وہ تقسیم صحیح اور غلط ، مفید اور مضر اور ذرائع اور مقاصد کے اعتبار سے ہوگی ،استفادہ اور افادہ اور ترک و قبول کے شعبے میں اس کا عمل اس حکیمانہ نبوی تعلیم پر ہے کہ حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے، جہاں، بھی وہ اس کو پائے وہ اس کا سبب سے زیادہ مستحق ہے ،نیز قدیم حکیمانہ اصول ،، خذ ما صفا و دع ماکدر،، پر ( جو صاف و نظیف ہو اس کو لے لو اور جو آلودہ و کثیف ہو اس کو چھوڑ دو)
اسلام کے دفاع اور عصرِ حاضر کی لادینی قوتوں کے مقابلے میں اس کی بنیاد اس ارشادِ ربّانی پر ہے:

"وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ”
(ان کے مقابلے کے لئے وہ تمام قوت تیار رکھو جو تم سے ممکن ہو۔)
دعوت الی اللہ، اسلام کے محاسن و فضائل کی توضیح، اور عقل و فکر کو اس کی حقانیت و صداقت پر مطمئن کرنے میں، اس کا طرزِ عمل اس حکیمانہ وصیت پر مبنی ہے:
"كَلِّمُوا النَّاسَ عَلَىٰ قَدْرِ عُقُولِهِمْ، أَتُرِيدُونَ أَن يُكَذَّبَ اللهُ وَرَسُولُهُ؟”
(لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق گفتگو کرو، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے؟)
عقائد و اصول میں جمہور اہلِ سنت کے مسلک کی پابندی، اور سلف صالحین کی آراء و تحقیقات کے دائرے میں محدود رہنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
فروعی اور فقہی مسائل میں اس کا مسلک یہ ہے کہ حتی الامکان اختلافی امور سے گریز کیا جائے، اور ایسے طرزِ عمل سے اجتناب برتا جائے جس سے باہمی منافرت بڑھے اور امت کا شیرازہ بکھر جائے۔
سلف صالحین کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے اور ان کے لیے عذر تلاش کیا جائے۔
اسلام کی اجتماعی مصلحت کو ہر انفرادی یا گروہی مصلحت پر مقدم رکھا جائے۔( ماخوذ از کتاب روداد چمن / تاریخ ندوة العلماء)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔