وندے ماترم بل: کب آیا؟ کب پاس ہوگیا؟ کوئی خبر نہیں!!

از: افتخاراحمدقادری

ہندوستان کی پارلیمانی سیاست میں کچھ فیصلے ایسے سامنے آتے ہیں جو ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ قومی، سماجی، آئینی اور سیاسی بحث کا مستقل موضوع بن جاتے ہیں۔ وندے ماترم بل بھی انہی معاملات میں شامل ہے۔ اس بل کی منظورہ کے بعد پورے ملک میں مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف ردِعمل عمل سامنے آیا۔ کسی نے اسے قومی وقار کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا تو کسی نے اسے حب الوطنی کے فروغ کا ذریعہ بتایا جبکہ بعض حلقوں نے اس پر یہ سوال اٹھایا کہ آخر ایسا حساس قانون اتنی خاموشی سے کیسے پارلیمنٹ سے منظور ہوگیا کہ عام شہری کو اس کی مکمل تفصیلات تک معلوم نہ ہو سکیں۔ یہی سوال سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں اور علمی مجالس تک زیرِ بحث رہا کہ آخر کب یہ بل پیش ہوا؟ کب اس پر بحث ہوئی اور کب منظوری کا مرحلہ مکمل ہوگیا؟

حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ قومی علامات اور قومی شناخت سے وابستہ چیزوں کے احترام کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہر خودمختار ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر قومی پرچم، قومی ترانہ اور دیگر قومی علامات کے احترام کے لیے قانون موجود ہے تو قومی نغمے کے احترام کو بھی قانونی حیثیت دینا ایک فطری پیش رفت ہے۔ حکومت کے نزدیک اس اقدام کا مقصد کسی مخصوص مذہب، طبقے یا برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔ حکمران جماعت کے رہنماؤں نے بھی یہی استدلال پیش کیا کہ قومی جذبات سے وابستہ امور کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف اس بل پر کئی بنیادی سوالات بھی اٹھائے گئے۔ آئینی ماہرین نے یاد دلایا کہ ہندوستان کا آئین شہریوں کو اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ سپریم کورٹ بھی مختلف مقدمات میں یہ واضح کر چکی ہے کہ حب الوطنی کا اظہار صرف ایک مخصوص طریقے سے نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہری اپنے ضمیر اور آئینی حدود کے مطابق اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاملے میں قانونی سختی اس حد تک بڑھ جائے کہ اختلاف کی گنجائش ہی باقی نہ رہے تو اس سے نئے آئینی مباحث جنم لے سکتے ہیں۔ وندے ماترم کے حوالے سے اختلاف آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اس نغمے کی تاریخی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کی تحریک میں اس نے بے شمار لوگوں کو جوش و ولولہ عطا کیا۔ لیکن اس کے بعض ابتدائی اشعار کے مذہبی پس منظر پر شروع ہی سے مختلف مذہبی طبقات کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آتے رہے۔ اسی اختلاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں مختلف حکومتوں نے ایسا راستہ اختیار کیا جس میں قومی احترام بھی برقرار رہے اور مذہبی آزادی بھی متاثر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ وقتاً فوقتاً سیاسی بحث کا حصہ بنتا رہا۔

اس نئے قانون یا ترمیم کے بعد سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوا کہ آیا اس سے واقعی قومی یکجہتی میں اضافہ ہوگا یا معاشرے میں نئی تقسیم پیدا ہوگی۔ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب قانون موجود ہوگا تو قومی علامات کی توہین کے واقعات میں کمی آئے گی اور نئی نسل کے اندر قومی شعور مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے نزدیک سخت قانون بعض اوقات نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بر خلاف ناقدین یہ دلیل دیتے ہیں کہ محبت اور احترام کو قانون کے ذریعے زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے شہریوں کے دلوں میں موجود اعتماد، مساوات اور انصاف کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی قانون کو ایک مخصوص طبقہ اپنے خلاف سمجھنے لگے تو اس کے مثبت نتائج محدود اور منفی اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر ایسا قانون جو مذہبی یا تہذیبی حساسیت سے تعلق رکھتا ہو، اسے وسیع تر اتفاقِ رائے کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔

سیاسی اعتبار سے بھی اس بل کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق قومی شناخت سے متعلق موضوعات ہمیشہ انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایسے فیصلے حکمران جماعت کے حامی ووٹروں میں مثبت پیغام دیتے ہیں اور قومی جذبات کو سیاسی حمایت میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا اس قانون کا وقت محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے سیاسی حکمتِ عملی بھی کار فرما ہے۔ ملک اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی چیلنجز، زرعی مسائل، صنعتی ترقی، صحت، ماحولیات اور دیگر کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں جب قومی سطح پر روزگار، تعلیم اور معیشت پر زیادہ توجہ کی توقع کی جا رہی ہو تو قومی علامات سے متعلق قانون سازی کو بعض حلقے ترجیحات کی تبدیلی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی مسائل کا حل بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قومی احترام کا تحفظ۔ دوسری طرف حکومت کے حامی اس اعتراض کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ذمہ دار حکومت کو بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر معیشت پر بھی کام ہو رہا ہے اور قومی شناخت سے متعلق قانون سازی بھی کی جا رہی ہے تو ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے نزدیک قومی وقار اور ترقی دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

اس قانون کا ایک ممکنہ فایدہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ قومی علامات کی توہین کے معاملات میں اب قانونی وضاحت پیدا ہوگی اور عدالتوں کے سامنے ایسے مقدمات میں یکساں معیار اختیار کیا جا سکے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر قانون کی تشریح وسیع انداز میں کی گئی تو معمولی نوعیت کے تنازعات بھی فوجداری مقدمات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں عدالتوں پر بوجھ بڑھے گا اور غیر ضروری قانونی تنازعات پیدا ہونے کا اندیشہ بھی موجود رہے گا۔ سماجی سطح پر اس قانون کے اثرات کا دارومدار اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر ہوگا۔ اگر اسے صرف قومی احترام کے تحفظ تک محدود رکھا گیا اور اس کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا تو ممکن ہے اس کے منفی اثرات کم رہیں۔ لیکن اگر اس قانون کو سیاسی اختلافات یا سماجی دباؤ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو اس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ قانون کی اصل روح ہمیشہ انصاف، مساوات اور اعتدال پر قائم رہنی چاہیے۔

مسلمانوں سمیت بعض مذہبی اقلیتوں کے درمیان اس قانون کے حوالے سے جو خدشات پائے جاتے ہیں، ان کا حل صرف سیاسی بیانات سے ممکن نہیں بلکہ آئینی یقین دہانی، عدالتی نگرانی اور منصفانہ عمل درآمد سے ہی نکل سکتا ہے۔ اگر حکومت یہ واضح کرے کہ قانون کا مقصد کسی شہری کے بنیادی حقوق کو محدود کرنا نہیں بلکہ صرف قومی احترام کو یقینی بنانا ہے تو بہت سے خدشات خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ اس میں ایک اہم پہلو میڈیا کا کردار بھی ہے۔ ایسے حساس معاملات میں میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر دینا نہیں بلکہ صحیح تناظر فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر آدھی معلومات عوام تک پہنچیں اور مکمل قانونی صورت حال واضح نہ کی جائے تو افواہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں غیر مصدقہ معلومات چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں، اس لیے ذمہ دار صحافت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ضروری ہے کہ قومی جذبات اور آئینی آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔

ہندوستان کی اصل طاقت اس کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی گوناگونی میں ہے۔ یہی تنوع اس جمہوریت کی پہچان بھی ہے۔ اگر قومی اتحاد کے نام پر اختلافِ رائے کی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے تو جمہوری روایت کمزور ہو سکتی ہے، اور اگر قومی علامات کی توہین کو آزادیٔ اظہار کے نام پر جائز قرار دیا جائے تو قومی احساسات مجروح ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اعتدال ہی بہترین راستہ ہے۔ آخرکار یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وندے ماترم بل کو صرف جذبات کی عینک سے نہیں بلکہ آئینی، قانونی، سیاسی اور سماجی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اسے قومی وقار کا معاملہ قرار دیتی ہے، جبکہ ناقدین اسے آئینی آزادیوں اور سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں پرکھ رہے ہیں۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ قانون قومی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے یا نئی قانونی اور سماجی بحثوں کا دروازہ کھولتا ہے۔ تاہم ایک جمہوری معاشرے میں ہر قانون کی کامیابی کا اصل معیار یہی ہے کہ وہ انصاف، مساوات، آئین کی روح اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان متوازن تعلق قائم رکھ سکے۔

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔