تحریر: محمد ابو سیف صدیقی
پی جی ریسرچ اسکالر : دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا
کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور نوجوانوں کا مستقبل تعلیم سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی ملک میں وزیرِ تعلیم تبدیل ہوتا ہے تو سب سے زیادہ نظریں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی اس تبدیلی پر ہوتی ہیں۔ لوگ امید کرتے ہیں کہ شاید اب تعلیمی نظام میں بہتری آئے گی، امتحانات زیادہ شفاف ہوں گے، طلبہ کی مشکلات کم ہوں گی، اور برسوں سے چلے آ رہے مسائل کا کوئی مستقل حل نکلے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک وزیر کے بدل جانے سے پورا نظام بدل جاتا ہے؟ کیا صرف نئی تقرری سے وہ تمام خرابیاں ختم ہو جائیں گی جو برسوں سے تعلیمی اداروں کو کھوکھلا کرتی رہی ہیں؟ اگر حکومت وہی ہے، پالیسیاں بڑی حد تک وہی ہیں، فیصلہ ساز ادارے وہی ہیں اور انتظامی ڈھانچہ بھی وہی ہے، تو پھر آخر ایسی کون سی بنیاد ہے جس پر طلبہ یہ یقین کر لیں کہ اب ان کا مستقبل پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گا؟ یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت سے نفرت یا محبت کا نہیں بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں کتابوں، لائبریریوں، کوچنگ سینٹروں اور امتحانی مراکز کے درمیان گزار دی ہیں اور آج بھی اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کے تعلیمی نظام نے ایسے بحران دیکھے ہیں جنہوں نے صرف امتحانات کو متاثر نہیں کیا بلکہ لاکھوں خاندانوں کا سکون بھی چھین لیا۔ مختلف ریاستوں اور قومی سطح کے کئی اہم امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات سامنے آئے۔ کسی امتحان کو منسوخ کرنا پڑا، کسی کو دوبارہ منعقد کرنا پڑا، اور کہیں لاکھوں امیدواروں کی محنت ایک لمحے میں بے معنی ہو گئی۔ ایک طالبِ علم جب کسی امتحان کی تیاری کرتا ہے تو وہ صرف کتابیں نہیں پڑھتا بلکہ اپنی نیند، اپنی خواہشات، اپنے آرام اور اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ اس خواب پر قربان کرتا ہے کہ ایک دن اس کی محنت رنگ لائے گی۔ والدین اپنی محدود آمدنی کے باوجود کوچنگ فیس ادا کرتے ہیں، فارم بھرتے ہیں، سفر کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، اور ہر لمحہ اپنے بچے کے روشن مستقبل کی دعا کرتے ہیں۔ لیکن جب ایک پرچہ لیک ہو جاتا ہے تو صرف سوالات ہی باہر نہیں آتے بلکہ ان خاندانوں کے خواب بھی بکھر جاتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری امید اسی امتحان سے وابستہ کر رکھی ہوتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ امتحانات میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جب ایک طالبِ علم بار بار امتحان دے، ہر مرتبہ پوری دیانت داری سے محنت کرے، لیکن آخر میں اسے یہی خبر ملے کہ امتحان منسوخ ہو گیا، پرچہ فروخت ہو گیا یا کسی مافیا نے پورے نظام کو یرغمال بنا لیا، تو اس کے دل میں صرف مایوسی نہیں بلکہ پورے نظام سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہی بے اعتمادی آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور ناامیدی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بعض افسوس ناک واقعات میں نوجوانوں نے اپنی زندگی تک ختم کر دی۔ اگرچہ ہر خودکشی کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ امتحانی دباؤ، غیر یقینی مستقبل اور بار بار کی ناکامیوں نے بہت سے نوجوانوں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہے۔ کیا ایک ذمہ دار حکومت کے لیے یہ لمحہ فکر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ صرف اعداد و شمار ہیں یا ایک پوری نسل کی خاموش چیخیں؟
اب جبکہ نئے وزیرِ تعلیم کی تقرری ہوئی ہے، تو پورے ملک کے نوجوان ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں۔ کیا واقعی اب کچھ بدلے گا؟ کیا اب پیپر لیک مافیا کے خلاف ایسی کارروائی ہوگی کہ آئندہ کوئی طالبِ علم اپنی محنت ضائع ہونے کا خوف نہ رکھے؟ کیا امتحانی نظام مکمل طور پر شفاف، محفوظ اور جواب دہ بنایا جائے گا؟ کیا تقرریوں میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا؟ کیا سرکاری ادارے اس قابل بنائے جائیں گے کہ ہر طالبِ علم کو انصاف مل سکے؟ یا پھر حسبِ سابق صرف بیانات بدلیں گے، پریس کانفرنسیں ہوں گی، وعدے کیے جائیں گے، اور چند ماہ بعد ایک اور امتحان، ایک اور لیک اور ایک اور بحران سامنے آ جائے گا؟ آخر کب تک ہندوستان کا نوجوان اپنے مستقبل کو قسمت کے حوالے کرتا رہے گا؟ آخر کب تک والدین اپنی جمع پونجی اس امید پر خرچ کرتے رہیں گے کہ شاید اس بار ان کے بچے کی محنت ضائع نہ ہو؟
آج ضرورت صرف وزیر بدلنے کی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کو ازسرِ نو منظم کرنے کی ہے۔ اگر حکومت واقعی نوجوانوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتی ہے تو اسے سب سے پہلے اس مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔ ایک ایسا امتحانی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں پرچہ لیک ہونا ناممکن ہو، جہاں بدعنوان عناصر کو فوری اور سخت سزا ملے، جہاں ہر طالبِ علم کو یقین ہو کہ اس کی کامیابی صرف اس کی محنت پر منحصر ہے، نہ کہ سفارش، بدعنوانی یا کسی مافیا کی مرضی پر۔ جب تک یہ اعتماد بحال نہیں ہوگا، اس وقت تک صرف وزراء کی تبدیلی سے نہ طلبہ کا خوف ختم ہوگا، نہ والدین کی بے چینی، اور نہ ہی قوم کے مستقبل کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات۔
اس لیے آج ہم کسی شخصیت پر نہیں بلکہ ایک پورے نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ آخر ہندوستان کے نوجوان کب تک تجربات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟ کب تک ان کے خواب کاغذوں پر لکھے وعدوں کے محتاج رہیں گے؟ کب تک تعلیم سیاسی بحثوں کا میدان بنی رہے گی؟ کب تک ہر چند ماہ بعد ایک نیا بحران جنم لیتا رہے گا؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہماری حکومتیں تعلیم کو قوم کی اولین ترجیح سمجھتی ہیں، یا پھر طلبہ صرف انتخابی منشور کے چند خوبصورت جملوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں؟ ان سوالات کا جواب تقریروں سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے ملے گا۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ نعروں کو نہیں بلکہ نتائج کو یاد رکھتی ہے، اور قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے طلبہ اپنے مستقبل کے بارے میں خوف نہیں بلکہ اعتماد محسوس کریں۔