تحریر: سید سرفراز احمد
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں روایتی سفارتی اتحاد تیزی سے دفاعی اور طویل مدتی شراکت داری میں تبدیل ہورہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والا نیا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ملکوں کا دفاعی سمجھوتہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کی ایک اہم علامت ہے۔ 7/ اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کا مرکزی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بعد ازاں واضح کیا کہ معاہدہ ’’خالصتاً دفاعی‘‘ نوعیت کا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے مکہ معاہدہ کہاں تک جائے گا؟ کیا یہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود رہے گا یا مستقبل میں ایک وسیع تر مسلم دفاعی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے؟ پہلے یہ بات جان لینی چاہیئے کہ مکہ معاہدہ اچانک وجود میں نہیں آیا۔ اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں بھی ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کو دونوں پر حملہ تصور کرنے کے اصول پر اتفاق کیا تھا۔ جنوری 2026 میں ترکی کے حکام نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے امکان پر بات چیت کی تصدیق بھی کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تینوں ممالک کے درمیان مجوزہ دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کیا جاچکا ہے۔ اس لحاظ سے مکہ معاہدہ کسی اچانک پیدا ہونے والے ردعمل کا نام نہیں، بلکہ کئی ماہ سے جاری تزویراتی مشاورت کا نتیجہ ہے۔
اس اتحاد کی سب سے بڑی طاقت اس کے تین ارکان کی مختلف نوعیت کی صلاحیتیں ہیں۔پاکستان کے پاس ایک بڑی اور تجربہ کار فوج، طویل دفاعی تجربہ اور جوہری صلاحیت موجود ہے۔ تکی ایک بڑی علاقائی فوجی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ نیٹو کا رکن اور ڈرونز، دفاعی صنعت اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل، توانائی کے عالمی بازار میں اہم کردار، مذہبی مرکزیت اور عرب دنیا میں سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ یعنی ایک کے پاس عسکری تجربہ اور جوہری صلاحیت، دوسرے کے پاس جدید دفاعی صنعت اور جغرافیائی اہمیت، جبکہ تیسرے کے پاس مالی و اقتصادی قوت اور عرب دنیا میں اثر و رسوخ ہے۔ اگر یہ تینوں قوتیں واقعی ایک مربوط دفاعی ڈھانچے میں تبدیل ہوجاتی ہیں تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ بلکہ اس کے اثرات دنیا بھر میں پھلیں گے۔ تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ مسلم دنیا کا ’’نیا نیٹو‘‘ بنے گا؟
مکہ معاہدے کے بارے میں سب سے زیادہ دلچسپ سوال یہی ہے۔ فی الحال اسے نیٹو کا متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ خود پاکستانی وضاحت کے مطابق معاہدہ دفاعی ہے اور موجودہ دوطرفہ یا کثیر ملکی معاہدوں کو ختم نہیں کرتا۔ نیٹو صرف مشترکہ دفاع کا نام نہیں، اس کے پیچھے کئی دہائیوں کا ادارہ جاتی ڈھانچہ، مشترکہ کمان، مستقل فوجی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی بجٹ اور مربوط فوجی نظام موجود ہے۔
مکہ معاہدے کو وہاں تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا۔ لیکن اسے ایک ابتدائی دفاعی پلیٹ فارم ضرور کہا جاسکتا ہے۔ اگر مستقبل میں مشترکہ کمان، مشترکہ مشقیں، دفاعی صنعت میں تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل دفاع جیسے شعبوں میں تعاون بڑھتا ہے تو یہ معاہدہ ایک باقاعدہ دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
ان تینوں ممالک کے لیئے سب سے بڑا امتحان کیا ہے؟ اس معاہدے کی کامیابی صرف فوجی طاقت پر منحصر نہیں ہوگی۔ اس کے لیئے مسلم دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی۔ مسلم دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ مشترکہ مذہبی شناخت ہمیشہ مشترکہ سیاسی حکمت عملی میں تبدیل نہیں ہوتی۔ کیوں کہ مختلف ممالک کے اپنے قومی مفادات، علاقائی ترجیحات اور عالمی طاقتوں سے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ایران، امریکہ اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کی اپنی نوعیت ہے۔ ترکی کی نیٹو رکنیت اور یورپ و امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات ایک الگ حقیقت ہیں۔ پاکستان کے اپنے ہندوستان، افغانستان، چین، امریکہ اور خلیجی ممالک سے تعلقات ہیں۔لہذا اصل سوال یہ نہیں کہ تینوں ممالک کے پاس طاقت کتنی ہے،اصل سوال یہ ہے کہ کسی بھی بحران کے وقت کیا تینوں ایک ہی سیاسی فیصلے پر قائم رہ سکیں گے؟ یہی وہ چیز ہے جو مکہ معاہدے کے مستقبل کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ کیوں کہ اگر یہاں تینوں ممالک میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو اس معاہدے کی عمر قلیل ہوگی۔ اگر سیاسی بصیرت اور حکمت عملی طئے کرتے ہوۓ آگے بڑھیں گے تو پوری مسلم دنیا اس معاہدے سے استفادہ حاصل کرسکتی ہے۔
معاہدے کے بعد بعض حلقے ایران کے خلاف نئے علاقائی محاذ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن پاکستانی اور ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اس وضاحت کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔البتہ حقیقت یہ بھی ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ خطے کے تمام ممالک کے لیے ایک نئی حقیقت ضرور پیدا کرے گا۔ اگر معاہدہ دفاعی دائرے میں رہتا ہے تو یہ خطے میں توازنِ طاقت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی کے لیے استعمال کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہوگا۔ اسی لیے اس معاہدے کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ اس کے ارکان دفاع اور جارحیت کے درمیان فرق کو واضح طور پر برقرار رکھتے ہیں یا نہیں۔ امریکہ اور چین کا ردعمل بھی اہم ہوگا مکہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی اہم ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے ایک اہم سکیورٹی طاقت ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے، جبکہ سعودی عرب امریکہ کا ایک اہم علاقائی شراکت دار رہا ہے۔
دوسری طرف چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی مفاہمت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں۔ اس لیے تینوں ممالک کا بڑھتا ہوا دفاعی تعاون عالمی طاقتوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مسلم دنیا کے اس نئے طویل مدتی رجحان کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں مکہ معاہدہ امریکہ سے مکمل دوری کا سبب نہ بنے بلکہ کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا ذریعہ بنے، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی بیک وقت امریکہ، چین، روس اور دیگر طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات برقرار رکھیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں مسلم دنیا کو اپنے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوتا ہوا دیکھ سکتی ہے؟ یہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ لہذا ان تینوں ممالک کو بہت حساس بھی رہنا ہوگا کیوں کہ عالمی طاقتیں نہیں چاہے گی کہ مسلم دنیا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ کیا دوسرے مسلم ممالک اس پلیٹ فارم میں شامل ہوں گے؟ پاکستانی وزیر خارجہ نے 9 اگست کو کہا کہ ایسے ممالک جو معاہدے کے اصولوں اور پرامن طریقے سے تنازعات کے حل کو قبول کرتے ہوں، ان کے لیے شمولیت کا راستہ کھلا ہے۔ یہ بیان مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اگر یہ اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو مستقبل میں مصر، قطر، ملائیشیا، انڈونیشیا یا دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مختلف سطحوں پر دفاعی تعاون کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی جلد بازی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک وسیع مسلم دفاعی اتحاد بنانے سے پہلے اعتماد، مشترکہ مفادات، سیاسی مشاورت اور ادارہ جاتی نظام پیدا کرنا ضروری ہے۔ اور موجودہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک کو مسلم دنیا کو یہ بتانا پڑے گا کہ ہمارا معاہدہ کامیابی کی طرف رواں دواں ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صرف معاہدوں کی تعداد بڑھانے سے طاقت پیدا نہیں ہوتی۔ طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاہدے بحران کے وقت عملی فیصلوں میں تبدیل ہوں۔
مکہ معاہدے کی سب سے بڑی اخلاقی اور سیاسی ساکھ کا ایک بڑا امتحان فلسطین بھی ہوگا۔ مسلم دنیا میں عوامی سطح پر سب سے بڑا مشترکہ مسئلہ فلسطین ہے۔ اگر تینوں ممالک مستقبل میں فلسطینی مسئلے پر سفارتی، انسانی اور سیاسی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو مکہ معاہدے کو مسلم دنیا میں زیادہ وسیع قبولیت مل سکتی ہے۔ لیکن اگر دفاعی اتحاد صرف معاہدے میں شامل ممالک کے تحفظ تک محدود رہا اور مسلم دنیا کے بڑے بحرانوں پر کوئی مشترکہ حکمت عملی سامنے نہ آئی تو اس کی سیاسی معنویت محدود ہوسکتی ہے۔ مکہ معاہدے کا اثر جنوبی ایشیا تک بھی پہنچے گا، بالخصوص اس لیے کہ پاکستان اس کا ایک مرکزی رکن ہے اور ترکی کے پاکستان کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات ہیں۔ تاہم بھارت کے لیے اس معاہدے کو کسی فوری جنگی خطرے کے طور پر پیش کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ معاہدے کی موجودہ سرکاری وضاحت دفاعی نوعیت کی ہے اور کسی مخصوص ملک کو ہدف قرار نہیں دیا گیا۔ بھارت کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اس نئے طویل مدتی اتحاد کو جذباتی انداز میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ سفارتی اور دفاعی زاویے سے دیکھے۔
مستقبل کے اعتبار سے اس معاہدے کے تین بڑے امکانات نظر آتے ہیں۔ پہلا امکان یہ کہ تینوں ممالک تک محدود ایک دفاعی معاہدہ رہے اور مشترکہ مشقوں، انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون تک محدود ہو۔ دوسرا امکان یہ کہ ایک مضبوط علاقائی دفاعی اتحاد بن جائے، جس میں مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور مشترکہ فوجی مشقیں شامل ہوں۔
تیسرا اور سب سے بڑا امکان یہ کہ وسیع تر مسلم دفاعی تعاون کے لیے ایک بنیادی پلیٹ فارم بن جائے اور دیگر مسلم ممالک بھی اس میں مختلف سطحوں پر شامل ہوجائیں۔
ان تین امکانات میں:
تیسرا امکان سب سے زیادہ اہم اور مؤثر بھی ہے اور سب سے زیادہ مشکل بھی۔وقت اور حالات ہی اس کی صحیح عکاسی کرسکتے ہیں۔ آخری سوال یہ سامنے آرہا ہے کہ کیا ان تینوں ممالک کا دفاعی معاہدہ صرف معاہدے تک ہی محدود رہے گا یا مسلم دنیا کے اتحاد کی بنیاد بنے گا؟ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ معاہدے کی اصل اہمیت اس کے دستخطوں میں نہیں بلکہ اس کے بعد ہونے والے اقدامات میں ہوگی۔ کیا تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے؟ کیا دفاعی صنعت میں ٹیکنالوجی منتقل ہوگی؟ کیا مشترکہ انٹیلی جنس نظام قائم ہوگا؟کیا سائبر حملوں کے خلاف مشترکہ دفاع ہوگا؟کیا تینوں میں سے کسی ملک پر حملے کی صورت میں عملی دفاعی منصوبہ موجود ہوگا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا تینوں ممالک اپنے باہمی اختلافات کو مشترکہ دفاعی مفاد پر غالب آنے سے روک سکیں گے؟ ان سوالات کے جواب ہی مکہ معاہدے کے حقیقی مستقبل کا تعین کریں گے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا مکہ کا یہ معاہدہ تاریخ کا ایک واقعہ بنے گا یا تاریخ کا ایک نیا باب؟