تحریر: سید سرفراز احمد
15 اگست 1947ء ہندوستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب صدیوں کی تہذیبی وراثت رکھنے والے اس ملک نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ یہ آزادی محض اقتدار کی تبدیلی کا نام نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسے ہندوستان کا خواب تھا جہاں ہر شہری کو برابر کا انسان، برابر کا شہری اور برابر کا حق دار سمجھا جائے گا۔ جہاں مذہب کسی شہری کی وفاداری کا پیمانہ نہیں ہوگا، جہاں اکثریت اپنے عددی غلبے کو اقلیت کے حقوق کچلنے کا ذریعہ نہیں بنائے گی۔ اور جہاں ریاست کسی مذہب کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی محافظ ہوگی۔
اس خواب کو حقیقت کا قانونی لباس ہندوستان کے آئین نے پہنایا۔ آئین نے مساوات، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے، زندگی اور شخصی آزادی کے حقوق دیئے۔ اور اقلیتوں کو اپنی زبان، ثقافت اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کا حق بھی دیا۔ لیکن آزادی کے 79 برس بعد، خصوصاً گزشتہ بارہ سال کے تجربات سامنے رکھ کر ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن میں ایک تلخ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔ کیا 1947ء میں جس آزادی کا خواب دیکھا گیا تھا اس کا احساس آج ہندوستانی مسلمان بھی اسی شدت کے ساتھ کرتا ہے؟ یہ سوال ملک سے بے وفائی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی وعدے کی یاد دہانی ہے۔ یہ سوال کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں، بلکہ انصاف کے حق میں آواز ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں کے بغیر نامکمل ہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی سے لے کر تحریکِ خلافت، عدم تعاون، سول نافرمانی اور ہندوستان چھوڑو تحریک تک مسلمانوں نے آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ بلکہ اگر تاریخ کو انصاف کے ساتھ پیش کیا جاۓ تو 1857ء سے ایک صدی قبل بھی آزاد بھارت کے لیئے سراج الدولہ نے 1757ء میں اپنی جان کی شہادت دی۔ پھر 1799ء میں شہید ٹیپو سلطان نے قربانی دی۔
بعد کے دور میں مولانا ابوالکلام آزاد سے لے کر اشفاق اللہ خان تک بے شمار نام اس تاریخ میں روشن ہیں۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ آزاد ہندوستان ان کا بھی ہندوستان ہوگا، جہاں انہیں اپنے مذہب، تہذیب اور شناخت کے ساتھ عزت سے جینے کا حق حاصل ہوگا۔ مگر 2014ء کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ایک ایسا سیاسی اور سماجی ماحول تیزی سے ابھرا جس نے ان کے اندر عدم تحفظ اور امتیاز کے احساس کو بڑھایا۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ گزشتہ بارہ سال میں تقریباً ہر سرکاری اقدام مسلمانوں کے خلاف تھا، یا ہر مسلمان کی زندگی یکساں طور پر متاثر ہوئی۔ لیکن یہ بھی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا کہ اس عرصے میں ایسے متعدد قوانین، سیاسی بیانات، سماجی واقعات اور انتظامی کارروائیاں سامنے آئیں جنہوں نے مسلمانوں کے شہری اور مذہبی حقوق کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کیئے۔
اگر ہم مسلمانوں پر ہورہے گزشتہ بارہ سالوں کے ظلم کو دیکھیں گے تو تصویر خود بخود واضح ہوجاۓ گی کہ آزاد ملک میں مسلمانوں کو کس طرح اپنے حقوق سے محروم رکھا گیا۔2019ء میں شہریت ترمیمی قانون، یعنی سی اے اے پارلیمنٹ سے منظور ہوا۔ اس قانون نے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی افراد کے لیے شہریت حاصل کرنے کا ایک خصوصی راستہ بنایا۔ 2024ء میں اس کے قواعد نافذ کیے گئے اور شہریت کے سرٹیفکیٹ جاری ہونا بھی شروع ہوئے۔ حکومت کا مؤقف رہا کہ قانون کا مقصد پڑوسی ممالک میں مذہبی ظلم و ستم کا شکار اقلیتوں کو تحفظ دینا ہے اور یہ قانون کسی ہندوستانی مسلمان کی شہریت نہیں چھینتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مذہبی بنیاد پر کسی مخصوص گروہ کو خصوصی قانونی سہولت دی جاسکتی ہے تو اسی خطے کے مظلوم مسلم فرقوں یا دیگر مذہبی گروہوں کو اس دائرے سے باہر رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سمیت ناقدین نے سی اے اے کو امتیازی قرار دینے پر تشویش ظاہر کی تھی۔
سی اے اے خلاف ملک گیر احتجاج ہوۓ۔شاہین باغ اس احتجاج کی علامت بن گیا۔ خواتین، طلبہ اور عام شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے۔ پھر فروری 2020ء میں دہلی کے فسادات نے ملک کو ہلا دیا۔ انسانی جانیں ضائع ہوئیں، گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔ معصوم مسلم نوجوان آج بھی جیل کی صعوبتوں کو برداشت کررہے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کے اندر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت میں ان کی جان و مال کتنی آسانی سے غیر محفوظ ہوسکتی ہے۔ اسی دوران ہجومی تشدد کے واقعات نے بھی ہندوستانی مسلمانوں کے ذہنوں پر گہرے زخم چھوڑے۔ گائے کے گوشت کے نام پر، نام نہاد گؤ رکشکشوں نے مسلمانوں پر حملوں کیئے۔ ان واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ایک شہری کو اپنی جان بچانے کے لیے اپنی مذہبی شناخت سے بھی خوفزدہ ہونا پڑے گا؟ پھر اُدھر کرناٹک میں حجاب کا تنازع سامنے آیا۔ جہاں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کا معاملہ قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا۔ 2022ء میں سپریم کورٹ کے دو ججوں کی بنچ نے مختلف آراء دیں ایک جج نے پابندی کے خلاف فیصلہ دیا جبکہ دوسرے نے پابندی برقرار رکھنے کی تائید کی، جس کے بعد معاملہ مناسب بنچ کے سامنے رکھنے کی ہدایت ہوئی۔
یہ معاملہ صرف ایک لباس کا نہیں تھا۔ مسلمان خواتین کے لیے یہ سوال تھا کہ مذہبی شناخت، شخصی آزادی اور تعلیمی اداروں کے ضوابط کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا؟ ایک جمہوری ملک میں یہ بحث ہونی ہی چاہیے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو، لیکن اس کے ساتھ مذہبی آزادی بھی آئینی حق کے طور پر محفوظ رہے۔ اسی عرصے میں مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات بھی بڑھے۔ ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا راستہ 2019ء کے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد ہموار ہوا۔ عدالت نے متنازع زمین رام مندر کے لیے دینے اور مسلمانوں کو متبادل پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 1992ء میں بابری مسجد کا انہدام قانون کی خلاف ورزی تھا۔ اس فیصلے کے بعد قانونی تنازع تو اختتام کو پہنچا، مگر اس واقعے نے مسلمانوں کے اجتماعی حافظے پر ایک گہرا نشان ضرور چھوڑا۔ کشمیر میں اگست 2019ء کا فیصلہ بھی مسلمانوں کے لیے ایک بڑا سیاسی موڑ تھا۔ آرٹیکل 370 کی بیشتر آئینی حیثیت ختم کی گئی اور جموں و کشمیر کی سابق ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے دسمبر 2023ء میں اس اقدام کی بنیادی قانونی حیثیت برقرار رکھی۔ یہ معاملہ صرف آئینی یا سیاسی بحث نہیں تھا۔ اس کے ساتھ شہری آزادیوں، سیاسی نمائندگی اور کشمیر کے عوام کے مستقبل سے متعلق سوالات بھی جڑے رہے۔
پھر ایک اور اصطلاح ہندوستانی سیاسی لغت میں "بلڈوزر” کے نام سے بہت نمایاں ہوئی۔ کئی ریاستوں میں فسادات یا جرائم کے ملزمان سے منسلک عمارتوں کو انہدامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کارروائیوں پر شدید سوال اٹھے کہ کسی شخص کے ملزم ہونے کی سزا اس کے گھر یا خاندان کو کیسے دی جاسکتی ہے؟ نومبر 2024ء میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محض کسی شخص کے ملزم ہونے کی بنیاد پر اس کی جائیداد کو بغیر قانونی طریقۂ کار کے منہدم کرنا غیر آئینی ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتظامیہ خود جج بن کر کسی ملزم کو مجرم قرار نہیں دے سکتی اور اس کے گھر یا کاروباری جائیداد کو سزا کے طور پر نہیں گرا سکتی۔ یہ فیصلہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے اہم تھا، کیوں کہ قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جرم کا فیصلہ عدالت کرے گی حکومت نہیں۔ مذہبی آزادی سے متعلق ایک اور اہم مسئلہ 2025ء کا وقف ترمیمی قانون ہے۔ پارلیمنٹ نے اپریل 2025ء میں یہ قانون منظور کیا اور اسے گزٹ میں شائع کیا گیا۔ حکومت نے اسے وقف املاک کے بہتر انتظام، شفافیت اور اصلاحات کی ضرورت سے جوڑا، جبکہ مسلم تنظیموں اور ناقدین نے اس کے بعض حصوں کو مذہبی و انتظامی حقوق کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا اور اس کی آئینی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں اس قانون کے متعدد دفعات کے خلاف آئینی چیلنج بھی دائر ہوا۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی قانون پر تنقید کرنا ریاست سے دشمنی نہیں۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ قانون بناتی ہے۔ عوام اس پر بحث کرتے ہیں اور عدالت اس کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ لیکن گزشتہ بارہ سال کا سب سے تشویش ناک پہلو شاید قوانین سے زیادہ سیاسی اور سماجی زبان کا بدلتا ہوا مزاج نظر آیا۔ ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے اعداد اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انڈیا ہیٹ لیب کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,165 نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 1,147 یعنی 98.5 فیصد میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اور 2025ء میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 1,318 واقعات تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق 1,289 واقعات، یعنی تقریباً 98 فیصد، مسلمانوں کے خلاف تھے۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز زبان کے بارے میں ایک سنگین مسئلہ موجود ہے۔ 2024ء کی انتخابی مہم کے دوران خود وزیر اعظم نے مسلمانوں کو "درانداز” قرار دینے پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ایک شخص وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوتے ہوۓ اس کرسی کی عزت کو تار تار کیسے کرسکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب ملک کے کروڑوں مسلمان صدیوں سے ہندوستان کے شہری ہیں، جب ان کے اسلاف و بزرگوں نے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا، جب ان کے نام ہندوستان کی فوج، تعلیم، صنعت، کھیل، ادب اور سیاست کی تاریخ میں موجود ہیں، تو انہیں بار بار ’’درانداز‘‘ یا ’’باہر کا‘‘ ثابت کرنے کی کوشش آخر کس ہندوستانی تصور کو مضبوط کرتی ہے؟ شائد اس کی ایک اہم وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔ اس کی ذمہ دار تمام سیاسی پارٹیاں ہیں۔ جب کہ مسلمان اس ملک کی اقلیتیوں میں اکثریت رکھتی ہے۔ لیکن پھر بھی اس پوری تصویر میں ایک روشن پہلو بھی ہے۔ مسلمان ہندوستان کی تعمیر میں آج بھی فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ اور ملک کی ترقی میں اپنی حصہ داری کو شامل کرتے آرہے ہیں۔ تصویر کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی داستان صرف مظلومیت کی داستان نہیں۔ ان کے اندر صلاحیت بھی ہے، ترقی بھی ہے، مزاحمت بھی ہے اور امید بھی۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا مشکل ہوگا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ آزادی صرف ووٹ دینے کا نام نہیں۔ آزادی یہ بھی ہے کہ انسان اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے خوف محسوس نہ کرے۔ آزادی یہ بھی ہے کہ کسی شہری کو اس کے نام، لباس یا کھانے کی وجہ سے مشکوک نہ سمجھا جائے۔ آزادی یہ بھی ہے کہ کسی مسلمان نوجوان کو محض اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ آزادی یہ بھی ہے کہ کسی غریب مسلمان کی جھونپڑی ہو یا کسی امیر شہر کا محل، قانون دونوں کے لیے یکساں ہو۔ آزادی یہ بھی ہے کہ کسی جرم کی سزا فرد کو ملے، اس کے خاندان یا پوری برادری کو نہیں۔اسی لیے آج 15 اگست کے موقع پر سوال صرف یہ نہیں کہ ’’ہندوستان آزاد ہے یا نہیں؟‘‘ اصل سوال یہ ہے کیا ہندوستان کا ہر شہری خود کو آزاد محسوس کر رہا ہے یا نہیں؟
اگر کوئی مسلمان اپنے مذہب کے سبب خوف محسوس کرتا ہے، اگر کوئی عورت اپنے لباس کے سبب تعصب کا سامنا کرتی ہے، اگر کوئی نوجوان اپنے نام کے سبب شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اگر کسی غریب کا گھر قانونی کارروائی کے نام پر بغیر مکمل قانونی عمل کے منہدم کردیا جاتا ہے، اگر انتخابی سیاست میں ایک پوری برادری کو بار بار خوف یا نفرت کے استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو پھر ہمیں آزادی کے جشن کے ساتھ آزادی کے معیار پر بھی غور کرنا ہوگا۔79 سال پہلے آزادی کے مجاہدین نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، اس میں اکثریت کو اپنی اکثریت کا غرور کرنے سے زیادہ اقلیت کے حقوق کی حفاظت کا شعور تھا۔ آئین نے اسی خواب کو قانونی ضمانت دی تھی۔ لیکن افسوس آج اس ملک سے وہ سب غائب ہوچکا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم 15 اگست کو صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد نہ کریں بلکہ مستقبل کا عہد بھی کریں۔ ایسا ہندوستان جہاں مسلمان کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے بار بار امتحان نہ دینا پڑے۔
ایسا ہندوستان جہاں ہندو کو مسلمان سے اور مسلمان کو ہندو سے خوف نہ ہو۔ ایسا ہندوستان جہاں مسجد، مندر، گرجا اور گوردوارہ سب شہریوں کے مذہبی آزادی کے حق کی علامت ہوں۔
ایسا ہندوستان جہاں حکومت سے اختلاف کو غداری نہ کہا جائے اور حکومت کی حمایت کو حب الوطنی کا واحد معیار نہ بنایا جائے۔ ایسا ہندوستان جہاں عدالتیں مضبوط ہوں، قانون سب کے لیے برابر ہو اور انتظامیہ آئین کی پابند ہو۔
اور ایسا ہندوستان جہاں آزادی کا مطلب صرف یہ نہ ہو کہ ملک 1947ء میں آزاد ہوگیا تھا، بلکہ یہ بھی ہو کہ 2026ء میں اس ملک کا ہر شہری خود کو مساوی، محفوظ، باوقار اور آزاد محسوس کرے۔ کیوں کہ ہندوستان کی آزادی صرف 15 اگست 1947ء کو حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس آزادی کی حفاظت ہر نسل کو ہر روز کرنی ہوتی ہے۔ اور اگر واقعی ہم آزادی کا جشن منانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ترنگا لہرانا نہیں، بلکہ آئین کے ان الفاظ کو بھی زندہ رکھنا ہوگا جن میں ہر ہندوستانی کے لیے مساوات، انصاف، آزادی اور وقار کا وعدہ کیا گیا ہے۔یہی 15 اگست کا اصل پیغام ہے، اور یہی ہندوستانی مسلمان کی جائز امید بھی۔