از:ـ شفیق فیضی
ملت کے ہر فرد میں قیادت کا نشہ ہونا، دراصل قیادت کے نہ ہونے کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔ جلوسِ محمدی ﷺ کی قیادت کون کرے گا، یہ فیصلہ اب اجتماعی نہیں رہا بلکہ انفرادی ہو چکا ہے۔ ہر شخص اپنے فیصلے کا خود مالک اور اپنی قیادت کا علمبردار بنا ہوا ہے۔ اس ذہنیت کا جو عملی مظاہرہ جلوسِ محمدی ﷺ میں دیکھنے کو ملا، وہ انتہائی شرمناک ہے۔
اکابرینِ ملت، جنہیں ملتِ اسلامیہ اپنا قائد اور رہنما مانتی ہے، ان کے دلوں میں منافقت کا معیار کیا ہے، اس کا مجھے علم نہیں۔ لیکن ان کی آنکھوں میں روشنی نہیں رہی، اس کا مجھے بخوبی علم ہے۔ گزشتہ برس بھی اس جانب توجہ دلائی گئی تھی کہ جلوسِ محمدی ﷺ میں غیر شرعی رسومات ہر سال بڑھتی جا رہی ہیں، جن پر روک لگانا ضروری ہے۔ لیکن افسوس، اس جانب یا تو جان بوجھ کر توجہ نہیں دی جاتی یا پھر اسے قابلِ توجہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔
مدارسِ اسلامیہ کا نیٹ ورک ہر گاؤں اور قصبے تک پھیلا ہوا ہے، اور انہی مدارس کی نگرانی میں جلوسِ محمدی ﷺ کا انعقاد ہوتا ہے۔ ہر مسجد اور مدرسے کے علماء اور ائمہ براہِ راست جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ اپنی سر کی آنکھوں سے، دن کے اجالے میں، جلوسِ محمدی ﷺ کی عظمت اور تقدس کو تار تار ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن اصلاح کی کوشش کرنے کے بجائے ہر سال نت نئے فتنوں کے لیے راستہ ہموار کر دیا جاتا ہے۔
تصویروں میں نظر آنے کی دوڑ نے اکابرین کو اندھا کر دیا ہے۔ موتیا بند کی شکار ان کی آنکھوں کو جلوسِ محمدی ﷺ کا پامال ہوتا ہوا تقدس دکھائی نہیں دیتا۔ بے تکے اور غیر موزوں نعرے بازی، ڈی جے کا بیجااستعمال، اور جلوس میں خواتین کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرکت، ان قائدین کو نظر نہیں آتی۔ شاید اسی لئے اس پر روک لگانے کے بجائے ڈھیل دی جارہی ہے۔
ہر شخص اپنے منہ میاں مٹھو بنا ہوا ہے۔ کمیٹی اور اس کے ذمہ دار اراکین کو بھی اسلامی روایات کا کوئی پاس نہیں رہا۔ جس کے جو مرضی میں آتا ہے، وہ کر گزرتا ہے۔ مسجد میں امامت سے لے کر جلوس کی قیادت تک، ہر معاملہ آپسی چپقلش، باہمی رسہ کشی، خودنمائی اور اندھی عقیدت کی بھینٹ چڑھ گیا ہے، اور عوام یہ سب کچھ صرف اس لیے دیکھ رہی ہے کیونکہ اسے اسی میں مزہ آتا ہے۔ باقی اسلام کی ساکھ خراب ہوتی ہے تو اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس سال ایک نیا مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ افراد نے ظہر کی نماز امام کے پیچھے ادا نہیں کی۔ اچھی بات یہ رہی کہ یہ اختلاف بغیر کسی شور شرابے کے منظرِ شہود میں آیا۔ لیکن یہی وہ الرٹ ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ آج کا یہ معمولی اختلاف، کل کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
مسجد میں مستقل امام موجود ہونے کے باوجود کسی دوسرے شخص کو مصلیٰ امامت پر صرف اس لیے آگے کر دینا کہ وہ کسی بڑے باپ کی اولاد یا کسی خانقاہ سے متعلق ہے، ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ مذہبی معاملات میں منصب اور اہلیت کے بجائے شخصیت، خاندان یا اثر و رسوخ کو ترجیح دینا آگے چل کر اختلاف اور انتشار کو جنم دے سکتا ہے۔
ابتدائے جلوس میں لی گئی تصویروں میں خود ساختہ بڑے بڑے علماء اور قائدینِ ملت نظر آ رہے ہیں، لیکن اختتامِ جلوس کی ابتر صورتحال اس لائق بھی نہیں کہ اسے تفصیل سے بیان کیا جا سکے۔ دورانِ جلوس ان قائدین نے شاید قیادت سے توبہ کر لی، یا پھر تصویر کھنچوانے کی ضرورت پوری ہو گئی تھی، اس لیے سبھی نے بیچ میں ہی جلوس کو خیر آباد کہہ دیا۔
یہاں جلوسِ محمدی ﷺ اٹوا کی انتظامیہ اور کمیٹی کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اگر از اول تا آخر آپ کے جلوس کی قیادت آپ کے اپنے لوگ نہیں کر سکتے تو پھر انہیں جلوس کی باگ ڈور تھمانے یا اس کا کریڈٹ دینے کی ضرورت کیا ہے؟
قیادت کا مطلب میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہونا نہیں، بلکہ کارواں کو منزلِ مقصود تک پہنچانا ہے۔ یہ ذمہ داری اگر کسی مسجد کے امام، کسی سماجی کارکن یا کسی سیاسی رہنما کے ذریعہ بھی بہتر طور پر انجام دی جا سکتی ہے تو ایسے شخص کا استقبال ہونا چاہیے۔
میری اس تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جلوسِ محمدی ﷺ میں در آنے والے غیر شرعی امور کی وجہ سے عید میلاد النبی ﷺ کو سوالوں کے دائرے میں کھڑا کیا جائے۔ اسی جلوس میں کچھ ایسی سنجیدہ اور خوبصورت روایات بھی دیکھنے کو ملیں جہاں لوگ ہدیۂ درود و سلام پڑھتے ہوئے جلوس میں شریک تھے۔
جلوس انتظامیہ اٹوا کی ایک خاص بات نے مجھے خاصا متاثر کیا۔ ایک مریض عورت کو اسپتال پہنچانے کے لیے جب کمیٹی کے اراکین خصوصی پروٹوکول دیتے ہوئے دکھائی دیے تو دل مسرت و شادمانی سے باغ باغ ہو گیا۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بیمار کی مدد کرنا، ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا اور کسی پریشان انسان کے کام آنا، یہی تو اصل جشن ہے، یہی حقیقی محبت ہے، اور شاید اسی کو اصلی عید کہنا چاہیے۔
اگر ایمانداری سے جائزہ لیا جائے اور بغیر کسی لومۃ لائم کی پراوہ کئے اظہار خیال کیا جائے تو حالیہ مروجہ جلوس محمدی ﷺ کو ہم نے خرافات میں تبدیل کردیا ہے، نبی کی میلاد کے نام پر ہم ہر وک غیرشرعی کام کر رہے ہیں جو ناموس رسالت کو داغدار کر رہے ہیں۔ ہمیں اس پر از سرنو منصوبہ بندی کرنی چایئےکہ کیا واقعی ہم نبی کے میلاد کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں، یا پھر ہماری حرکتوں سے ہم نبی کریم کی ذات کو بدنام کر رہے ہیں؟