سہارنپور کی مسجد آخری نشانہ نہیں ہے !

از : شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اُردو نیوز

سہارنپور کی کلکٹریٹ مسجد پر بلڈوزر نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ نہ بابری مسجد آخری نشانہ تھی، اور نہ گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی مسجد آخری نشانہ ہے ۔ مسجدوں کی لمبی فہرست ہے، جِن پر دعویٰ کیا جا رہا ہے، اور جنہیں نشانے پر لے لیا گیا ہے، اُن ہی میں سنبھل، میرٹھ اور اُجین کی قدیم ترین مسجدیں بھی شامل ہیں۔ یوں تو ، ہندوتوادی نظریہ سازوں کا یہ دعویٰ ہے، کہ بھارت میں مسلم بادشاہوں کے دورِ حکومت میں، ساٹھ ہزار مندروں کو تباہ و برباد کیا گیا ہے، لیکن جب بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک عروج پر تھی تب ساٹھ ہزار کی تعداد گھٹا کر تین ہزار کر دی گئی تھی، اور ہندو توادی تنظیمیں یہ کہنے لگی تھیں کہ ان کے پاس تین ہزار ایسی مسجدوں، درگاہوں، مزاروں، عیدگاہوں، قلعوں اور مسلم عمارتوں کی فہرست ہے، جو یا تو ہندو مندروں پر بنائی گئی ہیں یا ڈھائے گئےمندروں کے ملبے سے ان کی تعمیر کی گئی ہے۔ لیکن اب جبکہ ’ ہندو راشٹر ‘ کے قیام کی تحریک کو، ہندوتوادی تنظیمیں تیز سے تیز کیے ہوئے ہیں، یہ فہرست پھر طویل ہو تی جا رہی ہے، اور بہت ممکن ہے کہ دوبارہ سے ساٹھ ہزار کی تعداد بتائی جانے لگے۔ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ بھگتوں کی نظر جس مسجد اور درگاہ پر پڑ جائے، وہ ہندو مندر قرار دے دی جاتی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد کے نیچے بھی دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں بتائی جا رہی ہیں، اور تاج محل کے بند کمروں میں بھی۔ کرناٹک کی ٹیپو سلطان کی مسجد بھی اب ہنومان مندر کہی جانے لگی ہے، اور احمدآباد ( گجرات ) کی جامع مسجد کو بھی ہندو مندر کی بنیادوں پر کھڑی بتایا جا رہا ہے۔ رہا قطب مینا ر، تو وہ ایک عرصہ سے ہندوتوادیوں کی نظر میں مندر ہی ہے۔ جلد ہی یوپی میں اسمبلی الیکشن ہونا ہیں، اس لیے وزیراعلیٰ یوگی مسجدوں پر مسجدیں نشانے پر لینے لگے ہیں۔ یو پی کی فہرست میں جن مسجدوں ، درگاہوں وغیرہ کو مندر قرار دیا گیا ہے اُن میں آگرہ کی کلاں مسجد شامل ہے۔ دعویٰ ہے کہ کل کے الہ آباد، آج کے پریاگ راج میں اکبر کا قلعہ مندر کی جگہوں پر بنایا گیا ہے، شاہ اجمل خان کا مزار مندر کی جگہوں پر ہے۔ پتھار محلہ کی مسجد، لکشمی نارائن مندر کو تبدیل کرکے بنائی گئی ہے۔ بارہ بنکی کی حاجی وارث علی شاہ کی مزار کو مندر کی جگہ پر بتایا جاتا ہے، ملامت شاہ کی مزار پر بھی یہی دعویٰ ہے۔ گورکھپور کا امامباڑہ بھی ایک مندر کی جگہ پر ہے۔ اسی طرح دعویٰ ہے کہ لکھنٔو کا آصف الدولہ کا امام باڑہ بھی مندر کی جگہ بنایا گیا ہے۔ اور تقریباً ہر جامع مسجد کے بارے میں یہ دعویٰ ہے کہ یہ سب مندروں کی بنیادوں پر بنائی گئی ہیں۔ وارانسی میں معاملہ صرف ایک گیان واپی مسجد ہی کا نہیں ہے، کئی مسجدوں پر دعویٰ ہے جِن میں سے کوئی سات مسجدیں شہید کر دی گئی ہیں۔ متھرا میں صرف شاہی جامع مسجد ( جسے کرشن جنم استھان کہا جاتا ہے ) پر ہی دعویٰ نہیں ہے ، فہرست میں مزید تین تعمیرات ہیں، کٹرا کے ٹیلے پر بنی جامع مسجد ، مزارِ شیخ فرید اور مزارِ مخدوم شاہ ولایت۔ دعویٰ ہے کہ ان سب کی تعمیر میں مندروں کے ملبہ کا ستعمال کیا گیا ہے۔ یہ تو یو پی کا ذکر تھا، جبکہ پورے ملک میں سیکڑوں مسجدوں پر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ملک کو ’ ہندو راشٹر ‘ بنانے کا بھی ہے اور یوپی الیکشن جیتنے کا بھی۔ سوال یہ ہے کہ جب عدلیہ بھی شرپسندوں کے سامنے بےبس نظر آرہی ہو، تو کیا کیا جائے ؟

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔