کاش ہم ہوش میں آتے
شراب کا نشہ اکثر صرف ایک انسان اور خاندان کو تباہ کرتا ہے مگر جب کسی چیز کا نشہ انسان کی سوچ میں سرایت کر جاۓ تو ملکوں اور علاقوں کا تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ہم دیکھ بھی سکتے ہیں کہ نئے دور میں لوگوں کی مادہ پرستانہ سوچ نے کیسے لوگوں کو اپنے مفاد کا غلام بنا دیا ہے اور لوگ اپنے ذاتی مفاد کیلئے ایک دوسرے کے دشمن بنتے جارہے ہیں اور ہمارا معاشرہ جو کبھی مشترکہ خاندانی نظام پر مشتمل تھا اور جس میں سکون اور رومانس بھی تھا اب یہ معاشرہ بالکل بکھر چکا ہے ۔
کاش ہم ہوش میں آتے Read More »