کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
کانگریس کا شرم ناک رویہّ!

✍️شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) ___________________ لوک سبھا کے انتخابات میں اپنی ’بہترکامیابی‘ کے بعد کانگریس نے ایک اور ’ تیر مارلیا ہے ‘۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے مودی حکومت کی ایک مہینے کی کارکردگی پر رپورٹ کارڈ پیش کیا ہے ، جس میں مرکزی سرکار کوآڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ یہ […]

کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!

✍️ جاوید اختر بھارتی محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی _____________ دینی ، سیاسی ، سماجی اور تعلیمی مضامین اکثر و بیشتر لکھا جاتاہے اور چھوٹے بڑے سبھی قلمکار لکھتے رہتے ہیں مگر ضروری ہے کہ کچھ ایسے موضوع بھی سامنے آئیں جو حقائق پر مبنی ہوں یعنی آپ بیتی ہوں مرنے کے بعد تو […]

غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں

✍️ محمد شہباز عالم مصباحی ____________ جمہوریت کا مفہوم ہی اس بات پر منحصر ہے کہ عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں اولیت دی جائے اور ہر شہری کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ سیکولرزم، جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں […]

جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
کیجریوال کا قصور
کیجریوال کا قصور

✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ ________________ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، نچلی عدالت سے ضمانت ملتی ہے، ہائی کورٹ عمل در آمد پر روک لگا دیتا ہے، سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہیں، اس کے قبل ہی […]

کیجریوال کا قصور
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول

✍️ نقی احمد ندوی ________________ اس میں کوئی شک نہیں کہ علماء و فارغینِ مدارس اور طلباء کے اندر قوم و ملت اور ملک کی خدمت کا جو حسین جذبہ پایا جاتا ہے وہ عصری تعلیم گاہوں کے فارغین کے اندر عنقا ہے۔ این جی اوز اور فلاحی ادارے ان کے اس حسین جذبہ استعمال […]

این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
previous arrow
next arrow
Shadow

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تاریخی طور پر ایک ‘اقلیتی’ ادارہ کیوں ہے

             از : پروفیسر محمد سجاد         

ترجمہ: محمد حسین گنائ

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ، محمڈن اینگلو اورینٹل (ایم اے او) کالج، علی گڑھ، مسلمانوں نے 1877 میں قائم کیا تھا۔ 19ویں صدی میں، چاہے وہ سماجی و مذہبی اصلاحی تحریکوں کی وجہ سے ہو یا بہت سے تعلیمی اداروں کی پیدائش، مذہبی خصوصیت یا فرقہ واریت ایک عالم گیر  علامت کا روپ اختیار کر گئی ۔

ہندوستان میں نہ صرف عہد نوآباد میں بلکہ بعدَآزادی کے ادوار میں بھی ہندو کالج ، خالصہ کالج، محمڈن کالج ، کرسچن کالج کے ساتھ ساتھ ساتھ وہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی قائم ہوتی رہیں جو کسی مخصوص گروہ کی پروردہ تھیں۔

نہ صرف یہی وجہ ہے کہ ہندوستان بھر میں، ہمارے پاس ‘ہندو کالج’، ‘خالصہ کالج’، ‘محمدن کالج’، ‘کرسچن کالج’ وغیرہ جیسے ادارے قائم ہوئے، بلکہ نوآبادیاتی عہد کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی قائم ہوئیں۔

1870ء سے ہی مسلمانوں کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لیےمحمڈن اینگلو اورینٹل کالج کو یونیورسٹی کے روپ میں دیکھنے کا مقصد اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دیا تھا جس میں مزید تیزی 1898ء کے بعد (جب اس کالج کے بنیاد گزار سرسید احمد خان انتقال فرما گئے) آگئی۔ بالآخر 1920ء میں (سیکشن 23 کے ایکٹ 2 ) کے تحت  اسے یونیورسٹی کا درجہ عطا کیا گیا ۔ اس اقدام کے حق کے مسلمانوں تو سہی غیر مسلموں نے بھی اپنے بھر پور تعاون فراہم کیا۔

مسلم اقلیتی یونیورسٹی کا قیام 

اگست 1920 میں، سینٹرل لیجسلیٹو کونسل میں اے ایم یو بل پر بات کرتے ہوئے، اس وقت کے تعلیمی ممبر، سر محمد شفیع نے کہا: "حکومت ہند سے متوقع ہے کہ وہ اُس منصوبہ بند یونیورسٹی کے لیے جسے وہ مسلمانوں کی بہبودی کے حق میں ایک اہم قدم گردانتی ہے، دل کھول کر امداد فراہم کرے گی۔

1898ء میں بیرسٹر رفیع الدین احمد کی اس  وضاحت سے یہ ٹھوس مقاصد طے پائے تھے  کہ یہ ایک سیکولر، مسلمانوں کی اور مسلمانوں کے لیے جدید یونیورسٹی بننے جا رہی ہے، جس میں فرقہ پرستی کا شائبہ تک نہیں ہوگا”، نیز، یہ بھی کہاکہ داخلے اور تقرری کی پالیسی میں عالمگیر اور جامع رول ادا کرے گی۔

محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس ، جس کا باقاعدہ قیام 1886ء میں ہوا، نے ہندوستان کے دیگر مسلم اقلیتی کالجوں کے ساتھ الحاق کی کوشش میں اسے ایک رہائشی یونیورسٹی کے طور پر تصورکیا۔ مارچ 1899ء میں ایم اے او کالج کے پرنسپل تھیوڈور بیک (1859-1899) نے علی گڑھ کالج کے توسیعی منصوبے کی بنیاد پر مسلم یونیورسٹی کا ایک خاکہ پیش کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں اعلیٰ اور متوسطہ طبقات سے وابستہ مسلمانوں کو آزادانہ تعلیم فراہم کرنے اور عالموں کی تربیت و تنظیم کرنے پر پوری توجہ صرف کی جائے گی۔ بالآخر کار سرسید  کی وفات کی پہلی برسی  کے موقعہ(1899) پر ایم اے او کالج کے سابق طلباء (اولڈ بوائز ایسوسی ایشن-او ۔بی۔ اے) نے مسلم یونیورسٹی کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے پورے ملک میں مجلسوں کا انعقا کی مہم شروع کی۔کہا جاتا ہے کہ سرسید کے ایک ساتھی سمیع اللہ نے جلد ہی رام پور کے نواب سے مالی امداد  اور "ایم اے او کالج پر مسلمانوں کے کنٹرول کو یقینی بنانے” کے لیے  کہا۔

کالج کے ایک سابق طالب علم  آفتاب احمد خان (1867-1930) نے 1890 کی دہائی کے آخر میں یونیورسٹی کے لیے عمارت کی  تعمیر اور قرضوں کی ادائیگی (جس کا اصل سبب معالی صورت حال کی پستی تھی)کو یقینی بنانے کے لیے سرسید میموریل فنڈ (SSMF) تشکیل دیا۔ 1899 میں اولڈ بوائز ایسوسی ایشن بھی قائم کی گئی جس نے مسلم یونیورسٹی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے اپنی مہم شروع کی، جس میں یہ اصول شامل کیا گیا کہ فنڈز کا ایک فی صد سابق طلباء کو دینا ہوگا۔ (اس تعاون سے کالج کے عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مدد ملے گی)۔

صدر مہدی محسن الملک (1837-1907)  نے  سکریٹری سرسید میموریل فنڈ” آفتاب  احمد "کے ساتھ چندہ  اکٹھا کرنے کے لیے ملک گیر  دورہ کیا، اور تقریباً 10 لاکھ روپے اکٹھے کیں۔ بدرالدین طیب جی (1844-1906)، جو ایک زمانے میں انڈین نیشنل کانگریس (INC) کے صدر تھے، نے بھی فنڈ میں 2,000 روپے کا عطیہ دیا، جبکہ آفتاب احمد، جو کہ INC کے رکن بھی ہیں، نے ‘ڈیوٹی سوسائٹی’ بنائی، جس میں طلبہ  کو چھٹیوں کے دوران بھیک مانگ کر چندہ یکجا کرنے کے لیے مقرر کیا جاتا تھا ۔

ایم اے او کالج کو مسلمانوں کے لیے یونیورسٹی کا درجہ دینے کے لیے مجموعی طور پر تین سے چار گروہ سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبول مجاہد آزادی حمد علی جوہر (1878-1931)، نے بھر پور یقین سے یہ تصور پیش کیا کہ ، "مسلم یونیورسٹی  کی تشکیل کا خیال ایک مقبول جدوجہد نے سامنے لایا۔ علی گڑھ لوگوں کا اپنا ادارہ ہے”، جیسا کہ گیل مینالٹ (مینو) اور ڈیوڈ لیلیویلڈ نے اپنے 1974 میں لکھے گئے مضمون، "مہم برائے مسلم یونیورسٹی، 1898-1920” میں نقل کیا ہے۔

1910-1912 کے دوران، بنارس ہندو یونیورسٹی اور اے ایم یو کے درمیان فنڈز اکٹھا کرنے کا ایک دوستانہ مقابلہ ہوا۔ آغا خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنارس گئے تھے اور انہوں نے تھوڑی سی دولت بھی عطیہ کی تھی۔ اس کا بدلہ دربھنگہ کے مہاراجہ رامیشور سنگھ (1860-1929) نے دیا جنہوں نے جون 1912 میں علی گڑھ کا دورہ کیا اور 20,000 روپے کا عطیہ دیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ یونیورسٹی سے لفظ ‘مسلمان’ کو نہیں نکالنا چاہیے۔

خیال یہ تھا کہ ہندوستان جیسے نوآبادیاتی معاشرے میں طلباء کو جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے مذہبی ،ثقافتی تحفظات اور خود اعتمادی کا یقین دلایا جانا چاہیے۔ اس کے بعد،مہاراجہ  دربھنگہ  کامیشور سنگھ (1907-1962) نے اکتوبر 1945 میں علی گڑھ کا دورہ کیا اور خاص طور پر ایک میڈیکل کالج قائم کرنے کے لیے 50,000 روپے کا عطیہ دیا، اور جلد ہی ایک نئی فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم شروع کی گئی۔

خیال یہ تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو پورے برصغیر میں (مسلم) ‘اقلیتی’ کالجوں سے الحاق کرنے کا اختیار حاصل ہو ،تاکہ جدید تعلیم کو مزید بہتر اور مسلمانوں کے حق میں سود مند بنایا جائے۔(اس وقت ہندوستان کے پاس نہ تو آئین تھا اور نہ ہی اقلیتوں کے حقوق پر کوئی گفتگو )۔ 

جلد ہی فنڈز آنا شروع ہو گئے، مزید یہ کہ کئی معزز مسلم اشرافیہ نے لاکھوں روپے کا عطیہ دینا شروع کر دیا۔ اگست 1911 میں محمود آباد کے راجہ اور  اگست 1912 سید عزیز مرزا نے  اے ایم یو کے لیے آئین کا مسودہ بھی پیش کیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسے مسلمانوں کے کنٹرول میں رہنے کی ضرورت ہے، حالانکہ غیر مسلم بہ آسانی داخلہ لے  سکتے  اور ملازمت بھی کرسکتے ہیں۔ 

وائسرائے لارڈ چیلمسفورڈ نے اس وقت یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ وہ یونیورسٹی کے لارڈ ریکٹر (چانسلر) ہوں گے جویونیورسٹی کے معاملات کو دیکھنے ، تدریسی پروگراموں کے حوالے سے اپنے مشاہدات پیش کرنے اور تعلیمی بنیادوں کو بہتر بنانے کے لیےاپنے تجربات پیش کرنے کے لیے دوسری تمام یونیورسٹیوں سے خصوصی ماہرین کو مقرر کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ اے ایم یو کی عدلیہ انصاف  خاص طور پر مسلمانوں پر مشتمل ہوگی، جو اس ادارے کی انظامی کاروائی کی انجام دہی کے لیے  ایگزیکٹو کونسل (EC) کے 25 ارکان کا انتخاب کرے گی، جن میں سے ہر ایک کی مدت تین سال ہوگی۔یوں 1912ء میں ایک مسلم یونیورسٹی فاؤنڈیشن کمیٹی (MUFC) تشکیل دی گئی جس کے ممبران میں مولانا آزاد، مظہر الحق، محمد علی جوہر جیسے بلند پایہ قوم پرست شامل تھے۔ لیکن مجوزہ یونیورسٹی کو ہندوستان کے دیگر مسلم ‘اقلیتی’ کالجوں کے ساتھ الحاق کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا گیا تھا، جس بنا پر کمیٹی میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں۔

یکم اکتوبر 1915 میں، بی ایچ یو بل  کو منظوری ملتے ہی اسی مطابقت سے  ایم اے او کالج کو اے ایم یو بنانے  اور اس یونیورسٹی کو اسی درجے پر لانے کی کوششیں شروع کی۔ اس احساس نے مولانا آزاد (1888-1958)، حسرت موہانی (1875-1951) اور ڈاکٹر ایم اے انصاری (1880-1936) کو تحرک عطا کیا ۔ 10 اپریل 1916 کو اے ایم یو فاؤنڈیشن کمیٹی نے یونیورسٹی کی منظوری کی توثیق کے لیے میٹنگ کی اور 1یکم دسمبر 1920 کو آخر کار ایم اے او کالج مرکزی لجسلیٹو کے ایک ایکٹ کے ذریعے اے ایم یو کی حیثیت حاصل ہوئی  اور یوں 17دسمبر 1920ء سےاس ادارے نے  یونیورسٹی کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ 

اے ۔ایم ۔یو کورٹ کو یہ اختیارات دیے گئے کہ انتظامی امور کی دیکھ ریکھ صرف مسلمانوں کے ذمہ ہوگی ۔ اس  میں یہ بھی کہا کہ "اس کا مقصد علی گڑھ میں ایک تدریسی اور رہائشی یونیورسٹی قائم کرنا ہے” اور یہ کہ "اس نے ایم اے او کی تمام جائیدادوں اور حقوق کو یونیورسٹی میں منتقل کر دیا ہے”۔ اس طرح، اے ایم یو ایکٹ 1920 نے تصدیق کی کہ اے ایم یو "قائم” ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے "انتظام” میں ہے۔ حالانکہ، 1951 میں، ایک ترمیمی بل نے کچھ غیر مسلم ارکان کو بھی اے ایم یو کورٹ میں نامزد کیا، تاکہ سپریم گورننگ باڈی کی تشکیل کو متنوع بنایا جا سکے۔ اس کا ایک مخصوص تاریخی تناظر تھا: ملک چوں کہ  مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہونا شروع ہو گیا تھا، اس لیے اے ایم یو کی گورننگ باڈی کی کو متنوع بنانا ضروری سمجھا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر (1948-1956) اور ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا آزاد ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے۔

واضح رہے کہ اس عرصے کے دوران بہت سی دوسری یونیورسٹیاں قائم ہوئیں جیسے پٹنہ، لکھنؤ، ڈھاکہ، وغیرہ،لیکن  ان میں سے کسی کو بھی وہ خصوصی درجہ نہیں دیا گیا جو اے ایم یو کو دیا گیا تھا۔ اے ایم یو کے پہلے وائس چانسلر، محمود آباد کے راجہ نے ہی لکھنؤ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا۔ اگرچہ 1911 میں بنگال کی تقسیم کے خاتمے کے بعد سے مسلمانوں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ڈھاکہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔لیکن  اس کے باوجود ڈھاکہ یونیورسٹی اور لکھنؤ یونیورسٹی کو ابھی تک مسلم کردار/درجہ نہیں دیا گیا ۔

آفاتِ زوال پذیری 

زوال پزیری کی ابتدا اپریل 1965ء سے شروع ہوئی ، جب ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اے ایم یو کورٹ کو ایک نامزد مشاورتی ادارہ بنا دیا گیا اور وائس چانسلر اور ایگزیکٹو کونسل کے ارکان کو مہمان (صدر ہند) کے ذریعہ نامزد کرنے کو منظوری ملی۔اس کی ابتدا اس وقت کے وائس چانسلر علی یاور جنگ کے خلاف قاتلانہ حملے میں ہوئی تھی، جن پر 1965-66 کے اجلاس سے AMU کے اندراج میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن (جس کی سفارش بھی فیض طیب جی کمیٹی کی رپورٹ نے ہی کی تھی) کو لاگو کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ اتفاق سے، ریزرویشن پالیسی بدرالدین فیض طیب جی (1907-1995) نے بنائی تھی، جو وائس چانسلر کی کرسی کے لیے  کشمکش کے فوری پیش رو تھے۔ تھیوڈر پی رائٹ جونیئر کا 1966 کا پیسیفک ایفئرس جیسے مؤقر تحقیقی جریدے میں شائع مضمون”، "شمالی بھارت میں مسلم تعلیم: دی کیس آف علی گڑھ”، میں اپریل  1965ء کے تصادم سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ یہ اس وقت کے وزیر تعلیم ایم سی چھاگلا کے "اشتعال انگیز تبصرہ” سے مزید الجھ گیا۔ چھاگلا، جنہوں نے کہا کہ "اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ مسلمانوں کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا اور نہ ہی مسلمان اس کے کبھی منتظم رہے ہیں”، لہذا، مذہبی بنیادوں پر اندراج میں کوئی ریزرویشن نہیں ہو سکتا، اور دو سال بعد اسی آواز کی گونج (20 اکتوبر 1967) سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے بینچ نے جسٹس کے این۔ وانچو بطور چیف جسٹس، عزیز باشا بمقابلہ یونین آف انڈیاکیس میں بھی سنائی دی۔

اکتوبر 1967 کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے اپنی کمزوریوں اور عدم مطابقتوں کے لیے اس ادارے کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس نے آئین کے آرٹیکل 30 کو بھی عملی طور پر منسوخ کر دیا، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ لسانی اور مذہبی اقلیتیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کر سکتی ہیں اورنہ ان کا انتظام کر سکتی ہیں یوں ریاست ان کے خلاف امتیازی سلوک نہیں کرے گی۔ اس فیصلے نے اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو فنڈ اور مالی گرانٹ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھاس نے یونیورسٹیوں کی خود مختاری کو بھی بری طرح مجروح کیا۔ اس پر برہم ہو کرمشہور آئینی وکیل اور مصنفH.M. سیروائی (1906-1996)نے ردعمل ظاہر کیا (جیسا کہ وائلٹ گراف، EPW، 11 اگست 1990 کا حوالہ دیا گیا ہے) کہ یہ فیصلہ ‘غلط اور سنگین عوامی فساد کا نتیجہ تھا اور اسے مسترد کیا جانا چاہیے۔”

مشہور مؤرخ اور راجیہ سبھا کے اس وقت کے ممبر تارا چند (1888-1973) کا اکثر حوالہ دیا گیا ایک بیان ہے: "اگر کسی بھی کونے سے یہ دعویٰ کیا جائے کہ اے ایم یو کبھی مسلمانوں اور مسلمانوں کی تعلیمی بحالی  کے لیے قائم نہیں کی گئی تھی تو یہ ہندوستان کی تاریخ کی جھوٹی بات ہوگی”۔ اس کے بعد، حکومت نے 1970-1971 میں ایک کمیٹی مقرر کی، جس نے  یہ سفارش کی کہ: "کسی بھی عدالت یا ٹریبونل کے کسی فیصلے، حکم یا حکم کے باوجود، AMU کو ہندوستان کی مسلم اقلیت کے ذریعہ ایک تعلیمی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا سمجھا جائے گا اور آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 کے مطابق اس کیتنظیم و ترتیب کی جائے۔”لیکن 1972 کا ترمیمی ایکٹ اس سفارش کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہا۔ اس نے اقلیتی کردار کو چھین لیا اور وی سی کو زبردست اختیارات دے کر یونیورسٹیوں کی خود مختاری کے اصول کی بھی خلاف ورزی کی۔ مورخ، نورالحسن (1921-1993)، 1972 میں مرکزی کابینہ میں وزیر تعلیم تھے۔

یہاں تک کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ، اور عرفان حبیب اور کے پی سنگھ کے ‘علی گڑھ اسٹڈی سینٹر’ نے1972ء کے ترمیم شدہایکٹ کی مخالفت کی، جس نے اے ایم یو کے اقلیتی کردار کو چھین لیا، اور کہا کہ یہ "ہندو فرقہ وارانہ جذبات سے کھیلنے” کے مترادف ہے۔

ان تمام بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے (جس نے مسلمانوں کے ادارے کے بانی ہونے کی تاریخی سچائی سے انکار کیا اور اقلیتوں کے حقوق کی آئینی ضمانت چھین لی)، 1981 کا اے ایم یو ایکٹ لایا گیا، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ یہ یونیورسٹی مسلمانوں نے قائم کی تھی۔ مزید یہ کہ اے ایم یو کورٹ سپریم گورننگ باڈی ہوگی اور یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیمی اور ثقافتی ترقی کو فروغ دے گی۔

اس طرح اے ایم یو ایکٹ 1981 کو کسی نہ کسی طرح اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو یقینی بنانے کے لیے لیا گیا۔ وائلیٹ گراف نے اپنے مضمون، "علی گڑھ کی لانگ کویسٹ فار مینارٹی اسٹیٹس: اے ایم یو (ترمیمی) ایکٹ، 1981″، 1990 میں EPW اس کی وضاحت کی ہے۔

موجودہ تعطل

عیسائی اقلیتی کالج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے (1992) کے بعد سے، سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی، متعلقہ اقلیت کے لیے اندراج میں 50فی صد ریزرویشن فراہم کرتا ہے اور اس کے بعد کے کچھ فیصلے (جیسے کرناٹک کے TMA پائی فاؤنڈیشن میں، 2002 میں) ) — اے ایم یو نے 2005 میں سوچا کہ یہ ہمیں جواز فراہم کرتا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے لیے 50 فیصد ریزرویشن ہو سکتا ہے۔

اس وقت کے وی سی، نسیم احمد (آئی اے ایس  اور ایک سابق جج بھی)، اس وقت کے چانسلر، اے ایم احمدی( سابق چیف جسٹس آف انڈیا)، اور پروفیسر فیضان مصطفی(قانون کے ماہر اور اے ایم یو کے اس وقت کے رجسٹرار)کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو  مرکزی حکومت کی طرف سے  آگے بڑھنے اور متعلقہ اقلیت کے لیے مختص اندراجات کے 50فی صد کو لاگو کرنے کے بارے میں آگے آنے کا اشارہ ملا تھا ۔ اس پالیسی کو  پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلہ لینے کے لیے اختیار کیا گیا جہاں خواہش مندوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچا، جہاں اسے 4 اکتوبر 2005 کو جسٹس ارون ٹنڈن نے ختم کر دیا، جس نے عزیز باشا کیس_ (20 اکتوبر 1967) پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے فیصلے کی زیادہ بنیاد رکھی اور اے ایم یو ایکٹ 1981 کو نظر انداز کیا۔

AMU کی 2005 کی کی پالیسی برائے داخلہ کے حوالے سے بھی کئی مسلمان طبقات نے بعض جائز اعتراض قائم کیں (ارشد عالم، "مسلم ریزرویشن کو نہیں کہو”، ٹائمز آف انڈیا، 14 اکتوبر 2005)  اور کہا گیا کہ وہ لوگ جو مسلمانوں میں سرفہرست ہیں، بطور اقلیتی درجہ اس کی اپنی پسماندہ ذاتوں، یعنی ‘پسماندہ مسلم’ کو مدنظر نہیں رکھیں گے۔

جب کہ تعلیمی ادارے کے تمام ابتدائی تاریخی سروے اے ایم یو کے لیے اقلیتی حیثیت کے لیے ایک مضبوط مقدمہ بناتے ہیں، تاہم، فقہی جواز، تاہم، اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملہ ہے۔ چونکہ تفصیلی سماعت اور دلائل جاری ہیں، کوئی امید کر سکتا ہے کہ معاملہ جلد سے جلد حل ہو جائے گا۔

 ٹائمس آف انڈیا

15 جنوری 2024

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: