یقین محکم ،عمل پیہم کی ضرورت

✍️ عین الحق امینی قاسمی

معہد عائشہ الصدیقہ بیگوسرائے

____________

حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ عرض کیا :یارسول اللہ ! مجھے دین اسلام کے تعلق سے ایسی بات بتا دیجئے کہ آپ کے سوا مجھے کسی سے پھر دوبارہ معلوم کرنے کی ضرورت نہ پڑے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :کہو میں نے اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس عہد پر قائم رہو۔ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ – وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ – قَالَ: ” قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ ” (رواه مسلم)
عصری تناظر میں اس حدیث کی معنویت کئی جہتوں سےبڑھی ہوئی ہے ،اللہ کے ذکر سے صبح وشام کرنا فی زماننا کس قدر مشکل ہوتا جارہا ہے ،اس کے لئے آئے دن کے واقعات شاہد عدل ہیں؛ مگریہ بھی روشن حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا کوئی دور بھی مشکلات و آزمائش سے خالی نہیں رہاہے،اللہ کے مخلص وجرئت مند بندوں نے ہمیشہ ہی عزیمتوں پر عمل کر دین داری،وفا شعاری اور مطیع وفرمابرداری کے مشکل مرحلوں کو طے کیا ہے ، استقامت فی الدین کا عملی نمونہ بن کر بے خوف وخطر امت کو دین وشریعت سے جوڑ کر رکھنے میں اپنی مثالی قربانیاں دی ہیں ۔
میری زندگی کا مقصد ترے دین کی سرفرازی
میں اسی  لئے  مسلماں، میں  اسی  لئے نمازی
قرآن کریم نے ایسے ہی پاک نفس انسانوں کے حوالے سے یہ خوش خبری سنائی ہے اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(30)
یعنی بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
یہ سچ ہے کہ آزمائش وابتلا مسلمانوں کا مقدر رہا ہے ،انبیاو تابعین ،تبع تابعین ،ائمہ و مجتہدین اور فی ماننا مدارس ،مساجد اور خانقاہوں کے بوریہ نشیں سمیت ہر ایک نے اپنے دین و ایمان اورعقیدے کے تحفظ کے لئے جاں گسل اذیتوں کو جھیلا ہے اور اب تک جھیل رہے ہیں ۔
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آ سا ں  نہیں  مٹا  نا ، نا م  و  نشا ں ہما را
تمام تر ابتلاو آزمائش کے باوجود اللہ کے کچھ مخصوص بندوں نے ہمیشہ اللہ کی غالب حکمت وتدبیر پر کامل بھروسہ کیا ہے اور اسی بھروسے کے سہارے وہ مشکلات کو انگیز کر آگے بڑھتے رہے ہیں، دین ومذہب کے پیغام کو اپنے بھائیوں تک پہنچاتے رہے ہیں ،اللہ کی تدبیر ہی جہاں والوں کی تدابیر پر غالب ہوتی ہے۔
آپ دیکھیں کہ ایک تدبیر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کی اور یوسف کو کنویں میں ڈال دیا مصر کے بازاروں میں بیچ دیا ،مگر اللہ نے کنویں سے نکال کر ،غلامی کے باوجود مصر کا بادشاہ بنایا اور تمام بھائیوں کو یوسف کے دربار عالی میں بھکاری اور مفلس بناکر پہنچنے پر مجبور کیا ۔فرعون نے اپنی خدائی میں تمام نوزائدہ بچوں کو قتل کروادیا ،مگر اللہ نے موسی علیہ السلام کی پرورش اسی فرعون سے کروا کر موسی کو فرعون کی پسپائی کی بنیاد بنایا ۔ابراہیم علیہ السلام کو نمرود زمانہ نے اپنی تدبیر سے آگ میں جھونک دیا تھا ،اللہ کی تدبیر غالب آئی اور آگ، حکم خدا وندی سے ابراہیم کے لئے گل گلزار بن گئی۔ومکروا ومکراللہ واللہ خیرالماکرین۔
ضرورت ہے کہ دین پر استقامت کو راہ دی جائے اور مشکل مرحلوں سےعزیمتوں کے ساتھ گذرا جائے ۔صلح حدیبیہ سے گذر کرہی فتح مکہ کی تابانی ملی ،مکی زندگی  کی راہ سے مدنی زندگی ممکن ہوئی ،جس طرح عسروتنگی کے بعد یسر اورآسانیاں آتی ہیں ،دشواریوں کے بعد فتوحات کا زریں سلسلہ شروع ہوتا ہے ،اسی طرح آزمائشوں کے بغیر چشم آفریں انقلاب کا گذر مشکل ہے،یقین رکھئیے کہ ظلمت شب کو چھٹ جانا ہے اور سحر یقینی ہے۔مومن جب اپنے ایمان واعمال پر دل کے یقین اور فکر واعمال کی گہرائیوں کے ساتھ جمتا ہے تو نصرت خدا وندی متوجہ ہوتی ہے ،یاد کیجئے ان چند نوجوانوں کی جرئتوں کو جنہیں دنیا جہان میں اصحاب کہف کے عنوان سے لوگ جانتے ہیں ،ان صالح نوجوانوں نے  دین پر ثابت قدمی کے حوالے سےجب عزم مصمم کیا اور اپنے عہد وپیمان پرثابت قدمی کے لئے اللہ سے دعا کی تو اللہ کی جو مدد آئی وہ بھی چشم اقوام سے پوشیدہ نہیں ،بلکہ روشن تاریخ کا حصہ ہے، تقریبا تین سو سال تک اللہ نے اپنے مخلص اور صاحب عزیمت نوجوانوں کی کیسی حفاظت ومدد کی !موجودہ حالات یقینا ناگفتہ ہیں ،اور صورت حال یہ ہے کہ آج صاحب ایمان کو مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے ،خدا کا نام لینا جرم سمجھا جارہا ہے ،گھر کے تہہ خانے اور بند کوٹھری میں بھی رب کی عبادت مشکل ہورہی ہے ،ایف آئی آر اور جھوٹے مقدمے کئے جارہے ہیں ۔ہماری عبات گاہوں اور تعلیم گاہوں کو زمیں بوس کر گویا ہماری غیرت ایمانی کو للکارا جارہا ہے ،مگر قوت برداشت کو راہ دینا ہی حکمت عملی کا تقاضہ ہے ،حضرت عمر کے مشرف باسلام ہونے سے قبل بھی غیرت ایمانی صحابہ میں بدرجہ اتم تھی ، مگرجرئت ایمانی کو پیش کرنا حکمت نبوی سے پرے تھا ،ایک دور باطل کا تھا جب ہجرت رسول ہوئی ،صحن کعبہ بتوں سے آباد ہوا ،حق اور سچ پر ہونے کے باوجود مقام حدیبیہ میں مصلحتاً  صلح کرنی پڑی ۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہےجاجا کے تھانے میں
کہ ا کبر نا م  لیتا  ہے خد ا کا ا س زمانے میں
پھر وہ وقت بھی آیا ،جب بڑے بڑے سرداران قریش کے لئے چھپنے کی جگہ ملنی مشکل ہوگئی،تاریخ نے اس حوصلہ بخش منظر کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے ۔
ذمہ داریوں اور احساسات کو راہ دیجئے اور وہی ذوق اطاعت حاصل کیجئے جو احساس ہمیں خانہ خدا میں رہا کرتا ہے ،ایک شخص مسجد میں داخل ہوتے ہی ٹخنوں سے اوپر اپنے پاجامے کو اٹھا تا ہے ،سر پہ ٹوپی ڈالتا ہے اور آستینوں کو درست کرنے کے بعد ہی وہ اللہ اکبر کہتا ہوا اپنے ہاتھوں کو باندھتا ہے،پھر کیا مجال کہ وہ پلک جھپکنے کے برابر بھی دائیں بائیں کو اپنی نظریں چرالے۔ساری قدرتوں  کے ساتھ رب کے موجود ہونے کا یہی احساس ہمیں گھر اور بازار سمیت تنہائیوں میں بھی دل کے اندر جاگزیں رہنا چاہئے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے ۔رب کے جس بندے میں بھی یہ فکری تاب داری رہا کرتی ہے وہ خود بھی بدعملیوں سے محفوظ رہتا ہےاور اپنے اہل خانہ کے تعلق سے بھی گمرہی کے تئیں محتاط رہتا ہے۔یہ وقت بے فکری کانہیں ،چوکنا رہنے کا ہے ،دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کا ہے اور نئی نسلوں کی دینی و عملی فکر کے ساتھ دل ناتواں کو راضی رکھنے کا ہے کہ میرا رب اللہ ہے جو ہر حال میں کامل قدرت اور  غالب حکمت والا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: