تعزیہ سے بت پرستی تک!
تعزیہ سے بت پرستی تک!

از: شمس الدین سراجی قاسمی ______________ “أَيْنَ تَذْهَبُونَ” تم کہاں جارہے ہو ، محرم الحرام تو اسلامی تقویم ہجری کا پہلا مہینہ ہے اور تم نے پہلے ہی مہینہ میں رب کو ناراض کر دیا، اب یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ محرم الحرام میں کئے جانے والے اعمال، بدعات ہی نہیں بلکہ کفریات […]

ماہِ محرم الحرام کی بدعات و خرافات
ماہِ محرم الحرام کی بدعات و خرافات

از: عائشہ سراج مفلحاتی __________________ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، جو اشھر حرم، یعنی حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے، احادیث میں اس ماہ کی اہمیت وفضیلت مذکور ہے، یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت بیان‌ کی گئی ہے، جو اسی ماہ کی دسویں تاریخ ہے؛ لیکن افسوس کی بات […]

معرکۂ کربلا کے آفاقی اصول اور پیغام
معرکۂ کربلا کے آفاقی اصول اور پیغام

از: محمد شہباز عالم مصباحی _______________ یہ تجزیاتی مقالہ کربلا کی عظیم الشان جنگ اور اس کے آفاقی پیغام کا جائزہ لیتا ہے۔ امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کو ایک تاریخی اور اخلاقی واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک […]

تبصرہ نگاری ایک طرح کی گواہی ہے
تبصرہ نگاری ایک طرح کی گواہی ہے

✍️ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی zafardarik85@gmail.com ________________ تبصرہ نگاری نہایت دلچسپ اور اہم فن ہے ۔ تبصرے متنوع مسائل پر کیے جاتے ہیں ۔ مثلا سیاسی ،سماجی ، ملکی ، قانونی احوال و واقعات وغیرہ وغیرہ ۔ لہٰذا اس موضوع پر مزید گفتگو کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تبصرے کا مفہوم و […]

ملک میں تین نئے فوجداری قانون کا نفاذ
ملک میں تین نئے فوجداری قانون کا نفاذ

✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ _________________________ انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) 1860، کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) 1898 اور انڈین ایویڈنس ایکٹ 1872 ایک جولائی 2024ء سے تاریخ کے صفحات میں دفن ہوگئے ہیں، ان کی جگہ بھارتیہ نیائے سنہیتا، بھارتیہ ناگرگ سورکچھا […]

previous arrow
next arrow

سینے میں ناگہانی درد کو ہلکے میں نہ لیں

تحریر : مسعودجاوید

آج میرے ایک عزیز کا، اچانک حرکت قلب رکنے کی وجہ سے،  انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ 

 مرحوم کم وبیش پچاس سال کے بظاہر تندرست شخص تھے آج سے کچھ روز قبل انہوں نے سینے میں درد کی شکایت لے کر مقامی ڈاکٹر سے رابطہ کیا تھا ڈاکٹر نے اس کی وجہ گیس بتایا اور گیس کی دوا تجویز کی مرحوم مطمئن ہو کر گھر لوٹ گئے۔ کچھ روز قبل بیوی اور بچوں کو میکے میں چھوڑا اور خود ریلوے ڈیوٹی پر اکولہ لوٹ گئے ۔ چند روز قبل پھر درد ہوا لیکن اس بار خود انہوں نے اس کو  گیس کا  درد مان کر ہلکے میں لیا اور بالآخر آج تیسری بار درد ہوا اور ان کی موت ہو گئی۔ حیلہ روزی اور بہانہ موت۔۔۔ کاش وہ کسی امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر یعنی کارڈیالوجسٹ کے پاس جاتے جو ان کی angiography کرا کر یقینی بناتا کہ یہ درد گیس کی وجہ سے ہے یا شریان کے تنگ یا بند ہونے کی وجہ سے۔  

اس طرح کے اور بھی حادثے مشاہدے میں ہیں جس میں دل کے درد کو گیس پر محمول کرتے ہوئے لوگ وفات پاگئے۔ 

دراصل اس طرح کا درد عموماً قلب کے شریان کے بند ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے بارے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ  پہلا درد پہلی رگ بند ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اب دوسری رگ سے خون کا دوران چلتا ہے دوسری بار درد اس بات کی علامت ہے کہ دوسری رگ بھی جام ہو گئی ہے اب بھی اگر مریض نے angioplasty رگ کی صفائی نہیں کرائی تو تیسری بار کا درد جان لیوا ہوتا ہے اس لئے کہ تیسری بار کا درد اس بات کی علامت ہے کہ تیسری رگ بھی جام ہو چکی ہے ۔ اب اگر فوری طور پر ہسپتال پہنچنے سے پہلے آکسیجن نہیں دیا گیا تو مریض کا بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اس میں وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ Time is Life.  ایسے مریض کے پاس افاقہ کے لئے چند منٹ ہوتے ہیں فوری طور پر آکسیجن دے کر ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرانا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کا فوری طور پر angioplasty یا اوپن آپریشن سے بائی پاس یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہماری پنڈلی میں ایک ایکسٹرا رگ دیا ہے اسے نکال کر اس جام رگ کی جگہ ڈاکٹر لگا دیں۔ 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا احسان دیکھیں کہ اعضاء رئیسیہ کے ساتھ spare بھی دیا ہے ایک شریان artery بند ہو جائے تو دوسرا خود بخود کام کرنے لگتا ہے یعنی دل کو خون پہنچاتا ہے اور پمپ کر پورے جسم میں خون دوڑاتا ہے اور اگر دوسرا بھی بند ہو جائے تو تیسرا شریان خود بخود کام کرنے لگتا ہے لیکن یہ آخری چانس ہوتا ہے اس لئے ایسی صورت میں بہر حال آپریشن کرا لینا چاہیے۔ 

اسی طرح دوسرا عضو رئیسی گردے اللہ نے ہر انسان و حیوان کو دو دیا ہے ایک کام کرنا چھوڑ دے تو دوسرا کام کرتا رہتا ہے۔  جگر خراب ہو تو میڈیکل سائنس نے اس کی پیوند کاری دریافت کر لیا ہے۔ جگر کے خراب حصہ کو کاٹ کر کسی تندرست انسان کا جگر کاٹ کر پیوند لگائی جاتی ہے اور جگر کا حصہ عطیہ کرنے والے کا جگر کچھ مہینے میں خود بڑھ کر اپنی اصل شکل میں آ جاتا ہے۔ 

موت کا ایک دن معین ہے اس کا مفہوم قطعاً یہ نہیں ہے کہ اپنی صحت کے تئیں لاپرواہی برتی جائے. اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے صلاح ومشورہ اور وقت ضرورت پابندی کے ساتھ علاج شیوہ بنائیں ۔۔۔ جان ہے تو جہان ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: