کشن گنج (بہار): آج 29 جولائی کی صبح سویرے بہار کے ضلع کشن گنج میں واقع ایک نجی اسپتال کی نرس، تجلی خاتون، پراسرار حالات میں مردہ پائی گئی، جس کے بعد ان کے آبائی علاقے گنجریا بستی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اہل خانہ نے اسے خودکشی ماننے سے انکار کرتے ہوئے منصوبہ بند قتل کا الزام عائد کیا ہے اور واقعے کی غیر جانب دارانہ و تیز رفتار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ضلع اتر دیناج پور، مغربی بنگال میں واقع گنجریا بستی کے محمد علیم کی صاحبزادی تجلی خاتون نے تین سالہ جی این ایم کورس مکمل کرنے کے بعد کشن گنج کے ریڈیئنٹ اسپتال میں نرسنگ اسٹاف کی حیثیت سے ماہ جنوری 2026 سے ملازمت کر رہی تھی اور اسپتال کے کرایہ کے اسٹاف ہاسٹل میں رہتی تھی ۔
اہل خانہ کے مطابق، اسپتال انتظامیہ کے ایک رکن غلام سرور نے آج صبح سویرے فون کے ذریعے اطلاع دی کہ تجلی خاتون کی لاش ہاسٹل کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی ہے۔ اطلاع ملنے پر جب اہل خانہ موقع پر پہنچے تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالات خودکشی کے بجائے منصوبہ بند قتل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
گھر والوں نے بتایا کہ متوفیہ نے رات 1 بج کر 5 منٹ پر واٹس ایپ پر اپنی ایک خوشگوار تصویر کے ساتھ اسٹیٹس بھی پوسٹ کیا تھا، جس سے ان کے بقول ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت وہ معمول کے مطابق تھیں اور کسی ذہنی دباؤ یا پریشانی میں مبتلا نہیں تھیں۔ تاہم چند گھنٹوں بعد ان کی موت کی خبر موصول ہوئی، جس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسی اسپتال میں کام کرنے والی ایک نرس اسٹاف الفا کے مطابق تقریباً رات 2 بجے اس کے پاس اسپتال کے ایک ملازم راہل کا فون آیا تھا ، جس میں اس نے الفا کو کہا تھا کہ وہ تجلی خاتون کو مسلسل فون کر رہا ہے لیکن وہ کال وصول نہیں کر رہی ہے، اس لیے جا کر ان کی خیریت معلوم کرو۔ الفا کے مطابق جب انہوں نے کھڑکی سے اندر جھانکا تو تجلی خاتون پنکھے سے لٹکی ہوئی نظر آئی۔
اہل خانہ نے راہل پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، راہل بھی اسی اسپتال میں ملازم تھا اور دیگھل بینگ کا رہائشی ہے اور واقعے کے بعد اس کا موبائل فون بند ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ مختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی موقع پر موجود تھے۔
اس حوالے سے آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ شمالی بنگال و سیمانچل یونٹ کے علاقائی صدر ڈاکٹر محمد شہباز عالم نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی تیز رفتار اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مجرم یا مجرموں کی فوری شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے ریڈیئنٹ اسپتال کی مبینہ لاپرواہی کی بھی مکمل قانونی جانچ کا مطالبہ کیا، کشن گنج شہر میں خواتین اور طالبات کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانے پر زور دیا، اور متاثرہ خاندان کو حکومت اور اسپتال دونوں کی جانب سے مناسب مالی معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔