از:- شيخ مُصطفى الرحمن
دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی
ہندوستان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف ملک کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی بے یقینی اور مستقبل کے عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ سرکاری سطح پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان جلد ہی دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے، لیکن زمینی حقائق اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتے ہیں۔ معاشی ترقی کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب اسی معاشرے میں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار سے محروم ہوں، بنیادی سہولتوں سے محرومی برقرار ہو اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی باعزت ملازمت نہ مل سکے تو معاشی ترقی کے دعوے عام شہری کے لیے اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں بے روزگاری کا مسئلہ نہ صرف معاشی بلکہ سماجی اور نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، لیکن ان کے لیے مناسب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ سرکاری ملازمتوں کی محدود تعداد کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ معمولی آسامیوں کے لیے بھی انجینئر، ایم بی اے، پی ایچ ڈی اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد درخواست دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم اور روزگار کے درمیان توازن شدید متاثر ہو چکا ہے۔
اسی پس منظر میں 2026 کے دوران تعلیمی امتحانات سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات نے نوجوانوں کی بے چینی میں مزید اضافہ کیا۔ مختلف امتحانات میں بے ضابطگیوں، سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے اور امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات نے نوجوان نسل کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔ ان حالات میں جب نوجوانوں نے محسوس کیا کہ ان کی محنت اور مستقبل دونوں غیر یقینی کا شکار ہیں تو ان کے اندر احتجاج کا جذبہ پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔
یہی وہ ماحول تھا جس میں کوکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janta Party) کا نام سامنے آیا۔ ابتدا میں بہت سے مبصرین نے اسے محض سوشل میڈیا کی ایک وقتی مہم، ایک سیاسی طنز یا چند نوجوانوں کا جذباتی ردعمل قرار دیا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی خیال ظاہر کیا کہ یہ تحریک جلد ختم ہو جائے گی اور عوامی سطح پر زیادہ اثر نہیں چھوڑے گی۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ واضح ہوا کہ اس تحریک کے پس منظر میں صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ نوجوانوں کی اجتماعی بے چینی، مایوسی اور نظام سے ناراضی موجود ہے۔
اس تحریک کی بنیاد اس وقت پڑی جب سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں سخت ریمارکس دیے اور بعض نوجوانوں کو "کاکروچ” سے تشبیہ دی۔ اگرچہ بعد میں ان کے بیان کی وضاحت بھی سامنے آئی، لیکن اس تبصرے نے نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ معاشرے میں ان کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے ان کی تضحیک کی جا رہی ہے۔
اسی ردعمل کو ایک منظم شکل دینے کی کوشش ابھجیت دیپکے نے کی، جنہوں نے "کوکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک علامتی اور طنزیہ تحریک کا آغاز کیا۔ ابتدا میں یہ تحریک سوشل میڈیا تک محدود رہی، لیکن بہت کم عرصے میں ہزاروں نوجوان اس سے وابستہ ہونے لگے۔ اس کی بنیادی وجہ کوئی نظریاتی سیاست نہیں تھی بلکہ نوجوانوں کے اندر جمع ہونے والی وہ مایوسی تھی جو مسلسل بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی بے یقینی اور مواقع کی کمی کے باعث پیدا ہوئی تھی۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ آزادی کی تحریک سے لے کر جے پرکاش نارائن کی تحریک، اندرا گاندھی کے دور، انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف مہم اور بعد ازاں مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہمات میں نوجوانوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ہر دور میں نوجوانوں سے بہتر مستقبل، روزگار اور شفاف حکمرانی کے وعدے کیے گئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان وعدوں کی تکمیل ہمیشہ ایک بڑا سوال بنی رہی۔
2011 میں انا ہزارے کی تحریک نے بھی ملک بھر میں لاکھوں نوجوانوں کو متحرک کیا تھا۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ عوامی حمایت غیر معمولی تھی، مگر عملی سطح پر بدعنوانی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ یہی تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی صرف عوامی جوش و خروش سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات، سیاسی عزم اور طویل المدتی حکمت عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں کوکروچ جنتا پارٹی کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ تحریک فی الحال کسی مکمل سیاسی انقلاب کی نمائندہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے اضطراب، بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا اظہار ہے۔ اس کی اصل طاقت اس کے نعروں میں نہیں بلکہ ان مسائل میں پوشیدہ ہے جن کی وجہ سے ہزاروں نوجوان اس کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جب معاشرے میں تعلیم یافتہ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں، جب امتحانی نظام پر اعتماد کمزور پڑ جائے اور جب روزگار کی امید مسلسل معدوم ہوتی جائے تو ایسے احتجاجی رجحانات کا ابھرنا غیر معمولی بات نہیں رہتی۔
اسی پس منظر میں جون 2026 میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا آغاز ہوا، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان جمع ہوئے۔ بعد میں معروف سماجی کارکن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک بھی اس تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچے اور انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی، جس سے اس احتجاج کو قومی سطح پر مزید توجہ حاصل ہوئی۔ تاہم اس احتجاج کا اصل سوال صرف ایک وزیر کے استعفے کا نہیں تھا بلکہ پورے تعلیمی اور انتظامی نظام پر نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی تھا۔
جنتر منتر احتجاج، تحریک کے اثرات، مستقبل کے امکانات اور تنقیدی جائزہ
جون 2026 میں جب نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا آغاز ہوا تو ابتدا میں اسے ایک محدود طلبہ احتجاج سمجھا گیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہو گیا کہ یہ محض امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ ہندوستان کے نوجوانوں کی وسیع تر بے چینی، مایوسی اور نظام سے عدم اطمینان کا اظہار ہے۔ اس تحریک میں شریک افراد کا مؤقف تھا کہ امتحانات میں شفافیت، میرٹ کا تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت کسی بھی جمہوری ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب ان بنیادی اصولوں پر سوالات اٹھنے لگیں تو احتجاج ایک فطری ردعمل بن جاتا ہے۔
جنتر منتر کو ہندوستان میں جمہوری احتجاج کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف طبقات اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اسی مقام پر کوکروچ جنتا پارٹی کی سرگرمیوں نے بھی عوامی توجہ حاصل کی۔ تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف ماحولیاتی اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے احتجاجی مظاہرے سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کی شمولیت نے اس احتجاج کو صرف طلبہ تحریک تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے قومی سطح پر ایک اہم عوامی مسئلے کی حیثیت دے دی۔ بعد ازاں حکومت کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی، تاہم اس دوران تعلیمی نظام اور حکومتی جواب دہی کے بارے میں ملک گیر بحث چھڑ چکی تھی۔
اس تحریک کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے نوجوانوں کے اندر موجود اجتماعی اضطراب کو نمایاں کیا۔ آج کا نوجوان صرف روزگار کا متلاشی نہیں بلکہ وہ ایک ایسے نظام کا خواہاں ہے جس میں اس کی محنت کا منصفانہ صلہ ملے۔ اگر امتحانی نظام پر اعتماد باقی نہ رہے، سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے یا جانچ کے طریقۂ کار پر مسلسل اعتراضات سامنے آئیں تو نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاج کا دائرہ صرف ایک امتحان یا ایک وزارت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے تعلیمی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی احتجاجی تحریک کی کامیابی صرف عوامی جوش و جذبے سے ممکن نہیں ہوتی۔ ہندوستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں کئی ایسی تحریکیں سامنے آئیں جنہوں نے وقتی طور پر غیر معمولی عوامی حمایت حاصل کی، لیکن طویل المدت ادارہ جاتی تبدیلیاں پیدا نہ کر سکیں۔ 2011 کی انا ہزارے تحریک اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے بدعنوانی کے خلاف قومی سطح پر بیداری پیدا کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے بیشتر مقاصد مکمل طور پر حاصل نہ ہو سکے۔ اس تناظر میں کوکروچ جنتا پارٹی کے مستقبل کا جائزہ لیتے ہوئے بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ تحریک وقتی احتجاج ثابت ہوگی یا تعلیمی اصلاحات کے لیے مستقل دباؤ قائم رکھنے میں کامیاب ہو سکے گی۔
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں بے روزگاری کا مسئلہ صرف سرکاری ملازمتوں کی کمی تک محدود نہیں بلکہ یہ معاشی ڈھانچے، صنعتی ترقی، ہنرمندی، سرمایہ کاری اور تعلیمی منصوبہ بندی سے بھی وابستہ ہے۔ اگر ہر سال لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے روزگار کی منڈی میں داخل ہوں لیکن معیشت اسی تناسب سے نئے مواقع پیدا نہ کر سکے تو نوجوانوں میں بے چینی بڑھنا ناگزیر ہے۔ یہی بے چینی مختلف اوقات میں مختلف احتجاجی تحریکوں کی صورت اختیار کرتی رہی ہے۔ اس لیے کوکروچ جنتا پارٹی کو صرف ایک سیاسی یا سوشل میڈیا تحریک قرار دینا اس مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس تحریک نے سوشل میڈیا کی طاقت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ مختصر عرصے میں اس کے پیغامات نوجوانوں تک پہنچے، مختلف ریاستوں سے حمایت سامنے آئی اور احتجاج قومی مباحثے کا حصہ بن گیا۔ تاہم سوشل میڈیا کی مقبولیت اور زمینی سیاست میں فرق ہوتا ہے۔ کسی بھی تحریک کی اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ واضح لائحۂ عمل، قابلِ عمل مطالبات اور مستقل تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو عوامی دلچسپی وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے۔
تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کوکروچ جنتا پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے نوجوانوں کے مسائل کو دوبارہ قومی بحث کا موضوع بنا دیا۔ اس تحریک نے حکومت، تعلیمی اداروں اور سیاسی جماعتوں کو یہ احساس دلایا کہ امتحانی شفافیت، روزگار کے مواقع، میرٹ کا تحفظ اور نوجوانوں کے وقار جیسے مسائل کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ تاہم اس کی کمزوری یہ ہے کہ یہ ابھی تک ایک جامع سیاسی یا سماجی پروگرام پیش نہیں کر سکی جو احتجاج سے آگے بڑھ کر دیرپا اصلاحات کی بنیاد بن سکے۔
اس تحریک کا مستقبل بڑی حد تک حکومت کے رویے، تعلیمی اداروں کی اصلاحات اور نوجوانوں کی مسلسل شمولیت پر منحصر ہوگا۔ اگر امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا گیا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے گئے اور نوجوانوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا گیا تو اس طرح کی تحریکوں کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بنیادی مسائل جوں کے توں برقرار رہے تو مستقبل میں اسی نوعیت کی نئی تحریکوں کے سامنے آنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
نتیجہ
کوکروچ جنتا پارٹی کو صرف ایک احتجاجی یا طنزیہ سیاسی تحریک سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ہندوستان کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، تعلیمی نظام پر اعتماد کے بحران اور بہتر مستقبل کی خواہش کا اظہار ہے۔ اگرچہ اس تحریک نے نوجوانوں کی آواز کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن کسی بھی تحریک کی اصل کامیابی کا معیار اس کی مستقل اصلاحی صلاحیت ہوتی ہے، نہ کہ صرف عوامی مقبولیت۔
ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں نوجوانوں کی آواز کو سننا اور ان کے مسائل کا ادارہ جاتی حل تلاش کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ احتجاج جمہوریت کا حصہ ضرور ہے، مگر اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ احتجاج کے اسباب کو دور کیا جائے۔ اگر تعلیمی شفافیت، روزگار کے مواقع، احتساب اور انصاف کو مضبوط بنایا جائے تو نہ صرف نوجوانوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ملک کی جمہوری اور معاشی بنیادیں بھی مزید مستحکم ہوں گی۔ یہی اس پوری تحریک کا سب سے بڑا سبق اور مستقبل کی سب سے اہم ضرورت ہے۔