تذکرہ بھارت کی جنگِ آزادی کا!!

تحریر : جاوید اختر بھارتی

سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین

محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

بھارت کی آزادی کی تاریخ صرف چند سالوں یا چند شخصیات کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد، قربانی، اتحاد اور حوصلے کی تاریخ ہے۔ برطانوی اقتدار کے خلاف آزادی کی اس تحریک میں ہندوستان کے مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ مسلمانوں نے بھی اس جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا اور اپنی جان، مال اور آرام کو قربان کرکے آزادی کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

«1857 کی جنگِ آزادی»

بھارت کی جنگِ آزادی کا ذکر ہو تو 1857 کی بغاوت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تحریک میں ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ دہلی میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو علامتی طور پر قیادت سونپی گئی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات متحد ہوئے اور ملک کو آزاد کرانے کا عہد کیا
انہوں نے آزادی کی اس جدوجہد میں ایک علامتی مرکز کا کردار ادا کیا۔ ان کے گرد مختلف علاقوں کے سپاہیوں اور عوام نے برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔

1857 کی جدوجہد کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اودھ کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف عوام کو منظم کیا۔

« علماء اور آزادی کی تحریک »

برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد میں ہندوستانی علماء نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے علماء نے مسلمانوں کو غلامی کے خلاف بیدار کیا اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دی۔

بعد کے دور میں بے شمار رہنماؤں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا اور قومی اتحاد اور ہندو مسلم یکجہتی کو آزادی کی جدوجہد کے لیے بنیادی اہمیت دی۔

مولانا آزاد کا تصور یہ تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف کسی ایک مذہب یا قوم کی آزادی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی آزادی ہے۔ انہوں نے صحافت، سیاست اور عوامی تحریک کے ذریعے برطانوی حکومت کی مخالفت کی اور کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

ریشمی رومال تحریک

آزادی کی تحریک میں ریشمی رومال تحریک بھی ایک اہم باب ہے۔ اس تحریک سے وابستہ علماء نے برطانوی حکومت کے خلاف منظم جدوجہد کی کوشش کی۔ ، جنہیں شیخ الہند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس تحریک کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے۔
ان کا مقصد ہندوستان کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانا تھا۔ برطانوی حکومت نے اس تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کیا اور انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

«عدم تعاون اور خلافت تحریک»

1920 کی دہائی میں خلافت اور عدم تعاون کی تحریکوں نے آزادی کی جدوجہد کو عوامی سطح پر مزید وسیع کیا۔ خلافت تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک چلائی گئی،، تحریک آزادی کے رہنماؤں نے ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت کے خلاف قومی تحریک کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔

یہ دور ہندو مسلم اتحاد کی ایک نمایاں مثال بھی پیش کرتا ہے۔ بڑی تعداد میں عام لوگوں نے سرکاری عہدوں، اعزازات اور برطانوی اداروں کے بائیکاٹ میں حصہ لیا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کا کردار

آزادی کی تحریک کے سب سے نمایاں مسلم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کانگریس کے صدر بھی رہے اور ہندوستان کی متحدہ قومیت کے زبردست حامی تھے۔
ان کی صحافت نے بھی آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے اخبارات کے ذریعے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور ہندوستانی عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔
1942 کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران بھی وہ کانگریس کی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے اور قید کیے گئے۔

اشفاق اللہ خان کی قربانی

ہندوستان کی انقلابی تحریک کے ایک معروف مسلم نوجوان تھے۔ وہ رام پرساد بسمل اور دوسرے انقلابیوں کے ساتھ مل کر برطانوی حکومت کے خلاف سرگرم رہے۔
کاکوری واقعے کے مقدمے میں انہیں گرفتار کیا گیا اور 1927 میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی قربانی اس بات کی مثال ہے کہ آزادی کی تحریک میں نوجوانوں نے اپنی زندگی تک قربان کرنے سے گریز نہیں کیا۔
اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل کی دوستی اور جدوجہد ہندوستان کی مشترکہ قومی تاریخ میں ہندو مسلم اتحاد کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔

«خان عبدالغفار خان»

، جنہیں ’سرحدی گاندھی‘ بھی کہا جاتا ہے، نے برطانوی حکومت کے خلاف عدم تشدد کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ’خدائی خدمتگار‘ تحریک کے ذریعے عوام کو منظم کیا۔

ان کی جدوجہد یہ بتاتی ہے کہ آزادی کی تحریک میں مختلف علاقوں، زبانوں اور مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگ اپنے اپنے انداز میں شریک تھے۔

1940 کی دہائی میں برطانوی اقتدار کمزور ہوتا گیا اور ہندوستان میں آزادی کا مطالبہ مزید شدید ہوگیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کے لیے ہندوستان پر طویل عرصے تک حکومت برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔
1942 کی بھارت چھوڑو تحریک، جنگِ عظیم کے بعد سیاسی مذاکرات، فوجی اور عوامی بے چینی، اور برطانوی حکومت کی بدلتی ہوئی پالیسیوں نے آزادی کے راستے کو تیز کیا۔ بالآخر 1947 میں برطانوی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

مسلمانوں کی قربانیوں کو کس نظر سے دیکھا جائے؟
بھارت کی آزادی کی تاریخ کو کسی ایک مذہب یا جماعت کی تاریخ بنا دینا درست نہیں۔ یہ ایک مشترکہ جدوجہد تھی جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر طبقات کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔

تحریک آزادی میں مولانا علی حسین عاصم بہاری، مولانا عبد المالک دانا پوری، عبداللہ انصاری، عبد القیوم انصاری وغیرہ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں
مسلمانوں کی قربانیوں میں 1857 کے مجاہدین، علماء، صحافی، سیاسی کارکنان ، انقلابی نوجوان، خواتین اور خاص و عام سب شامل تھے۔ کسی نے میدانِ جنگ میں مقابلہ کیا، کسی نے قلم کے ذریعے آواز اٹھائی، کسی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور کسی نے اپنی جان قربان کردی۔

اس تاریخ کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ آزادی کسی ایک طبقے کی عطا نہیں بلکہ بے شمار لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

بھارت کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ بہادر شاہ ظفر، بیگم حضرت محل، مولوی احمد اللہ شاہ، شیخ الہند محمود حسن، مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، شوکت علی، اشفاق اللہ خان، خان عبدالغفار خان اور بہت سے دوسرے افراد نے مختلف ادوار میں برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی۔

آج آزادی کے اس سفر کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم تاریخ کو تعصب کے بجائے حقیقت، تحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھیں۔ ہندوستان کی آزادی ان تمام لوگوں کی مشترکہ میراث ہے جنہوں نے غلامی کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے قربانیاں دیں۔

آزادی کی تاریخ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ جب مختلف طبقات اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہوتے ہیں تو بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔