از:ـ ذکی طارق بارہ بنکوی
ایڈیٹر ہفت روزہ "صدائے بسمل”
خوں کے آنسو رُلائی آزادی
تب کہیں مسکرائی آزادی
آؤ خوشیاں منائیں اہلِ وطن
مژدہء جاں ہے لائی آزادی
آہ! کشمیر کے عوام کی آہ
دے رہی ہے دہائی آزادی
اپنے سینے سے جب لگایا اسے
جانے کیوں تلملائی آزادی
دیکھ کر ظلم و جورِ اہلِ فرنگ
اشکِ خونیں بہائی آزادی
جان دے کر بھی مسکرائے ہم
یوں تھی دل میں سمائی آزادی
جھوم اٹھے تھے کھیت بھی اپنے
جس گھڑی لَہلہائی آزادی
جب بھی ماہِ اگست آیا ہے
یاد ہم کو ہے آئی آزادی
ان کو کرتے ہیں بار بار سلام
جن کے خوں نے دلائی آزادی
اب بھی فکرِ وطن میں قید ہے دل
کب ہمیں راس آئی آزادی
اس کو جاں باز کیوں نہ پا لیتے
ذہن و دل پر تھی چھائی آزادی