نئی دہلی، (سیل رواں ڈیسک): ملک کی اہم اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کے لیے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن کے فوری نفاذ کا مطالبہ تیز کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشترکہ خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس قانون کو حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) اور مردم شماری سے مشروط کرنا دراصل اس کے نفاذ میں غیر ضروری تاخیر پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ خواتین ریزرویشن کے اصول کی مکمل حمایت کرتے ہیں، لیکن اسے نئی حد بندی کے عمل سے جوڑنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حلقوں کی بنیاد پر بھی خواتین کو ریزرویشن دیا جا سکتا ہے، اس کے لیے طویل انتظامی عمل کا انتظار ضروری نہیں۔
واضح رہے کہ 2023 میں منظور ہونے والے خواتین ریزرویشن قانون کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی گئی تھی، تاہم اس کے نفاذ کو آئندہ مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حلقہ بندی سے مشروط رکھا گیا ہے، جس پر اپوزیشن مسلسل سوال اٹھا رہی ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات میں شدت آنے کا امکان ہے۔ ایک جانب حکومت اسے جامع انتخابی اصلاحات کا حصہ قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اسے خواتین کو فوری نمائندگی دینے میں رکاوٹ تصور کر رہی ہے۔