✍️ مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی
صدر جمعیت علماء بیگوسرائے بہار
ورکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین
گزشتہ دنوں عالمِ اسلام ایک عظیم علمی شخصیت سے محروم ہوگیا۔ مشہور شافعی فقیہ، محققِ اصول اور جلیل القدر ازہری عالم محمد حسن ہیتوؒ کا وصال منگل، 7 رمضان 1447ھ بمطابق 24 فروری 2026ء کو کویت شہر میں اذانِ مغرب کے وقت ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 85 برس تھی۔ یوں آپ نے دینِ متین اور علمِ شریعت کی خدمت میں پون صدی پر محیط بابرکت اور ثمر آور زندگی مکمل کی۔إنا لله وإنا إليه راجعون۔
آپ کی ولادت 11 ذوالقعدہ 1362ھ بمطابق 10 اکتوبر 1943ء کو شام کے دارالحکومت دمشق کے محلہ رکن الدین میں ہوئی۔ آپ کا تعلق ہیتو خاندان سے تھا جو شیخانیہ قبیلے سے منسوب ہے۔ یہ خاندان علمی ذوق اور دینی خدمات کے اعتبار سے معروف تھا۔ ان کا نسب پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے ملتا ہے، جو نواسہ رسول سیدنا حضرت حسن بن علیؓ کی اولاد میں سے ہیں۔
آپ کے والدین اگرچہ رسمی تعلیم سے بہرہ ور نہ تھے، مگر علم کی عظمت سے آگاہ تھے اور اپنے فرزند کو تعلیم کے اعلیٰ مدارج تک پہنچتے دیکھنے کے آرزو مند تھے۔
ابتدائی تعلیم آپ نے دمشق کے مدرسہ ’’عثمان ذی النورین‘‘ میں حاصل کی۔ بعد ازاں ’’المعہد العربی الاسلامی‘‘ میں داخل ہوئے، جس کی بنیاد شام کے معروف عالم اور مفکر مصطفیٰ السباعیؒ نے رکھی تھی۔ پھر جودت الہاشمی ثانویہ سے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
ابتدا میں آپ کا رجحان سائنسی علوم کی طرف تھا اور آپ جرمنی جا کر راکٹ اور فلکیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔ گیارہویں جماعت میں آپ کا رجحان شرعی علوم کی طرف ہوگیا اور آپ نے معروف مرکزِ علم جامعہ ازہر کا قصد کیا۔
1964ء میں پاسپورٹ بنوا کر اردن کے راستے قاہرہ پہنچے اور عظیم علمی درسگاہ جامعہ الازہر میں داخلہ لیا ۔ ابتدا میں سائنسی پس منظر کے باعث مشکلات پیش آئیں، مگرداخلہ امتحانات میں کامیابی کے بعد کلیۂ شریعت میں داخلہ مل گیا۔ مالی تنگی، اجنبیت اور سیاسی کشیدگی جیسے دشوار مراحل سے گزرتے ہوئے آپ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور بالآخر اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
ڈاکٹریٹ کے بعد آپ نے کویت میں تدریسی خدمات انجام دیں اور علمی و دعوتی میدان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ آپ کو فقہِ شافعی اور اصولِ فقہ میں امتیازی مقام حاصل تھا۔ آپ عصرِ حاضر میں فقہ شافعی کے اکابر اور ماہر اصول فقہ کے طور پر ممتاز شناخت رکھتے تھے.
آپ نے اپنے بارے میں خود فرمایا:
> “جب میں طالب علم تھا تو میں نے اصولِ فقہ کی دس ہزار سے زائد صفحات ایسے مخطوطات سے نقل کیے جو ابھی تک شائع نہ ہوئے تھے، اور اپنے سامنے موجود تمام کتبِ اصول کا مطالعہ کیا۔”
یہ جملہ آپ کی علمی پیاس، محنت اور استقامت کا آئینہ دار ہے۔
صرف 27 برس کی عمر میں آپ نے امام ابو حامد الغزالیؒ کی شہرۂ آفاق کتاب المنخول کی تحقیق کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اسی طرح الاسنوی کی التمهید کی تحقیق بھی آپ کے علمی کمالات کا ثبوت ہے۔
آپ نے کویت کی عظیم فقہی کاوش ’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘ کی تیاری میں بھی حصہ لیا۔
1971ء میں کویت کے معہد الایمان الشرعی میں مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، اور دیگر علوم میں آپ کے دروس مختلف مساجد اور علمی مراکز میں جاری رہے۔ مسجد مشاری الروضان میں آپ کے دروسِ تفسیر خصوصاً معروف تھے۔
آپ نے انڈونیشیا میں جامعة الإمام الشافعي کی بنیاد رکھ کر فقہِ شافعی کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے بے شمار شاگرد آج دنیا کے مختلف خطوں میں علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ نے درجنوں مقالات اور کتابیں تصنیف کیں. آپ کی اہم تصانیف میں مندرجہ ذیل کتابیں خاص طور پر شامل ہیں:
- الحدیث المرسل، حجیته وأثره
- الوجیز فی أصول التشریع الاسلامی
- کشف الستر عن سنیة القنوت فی صلاة الفجر
- الاجتهاد وطبقات مجتہدی الشافعیة
- الخلاصة فی أصول الفقه
- المتفيهقون
خصوصاً المتفيهقون میں آپ نے کم علمی کے باوجود فتویٰ دینے کی جسارت کرنے والوں پر علمی تنقید فرمائی اور اہلِ علم کو احتیاط، رسوخ اور دیانت کی تلقین کی۔
آپ صبر و استقامت کا پیکر، تحقیق و تدقیق کے خوگر، اور علمی دیانت کے علمبردار تھے۔ غربت اور تنگ دستی کے باوجود آپ کا شب و روز مطالعہ، تحقیق اور تصنیف میں گزرتا تھا۔ آپ کی ذاتی لائبریری نادر و نایاب کتب کا خزانہ تھی۔
ڈاکٹر محمد الزحیلی نے بجا طور پر فرمایا کہ ڈاکٹر محمد حسن ہیتو عصرِ حاضر کے بڑے شافعی علما میں سے ہیں اور فقہِ شافعی کی اشاعت میں ان کا کردار نمایاں ہے۔
مشہور محدث اور فقیہ شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ نے اپنے تعزیتی بیان میں مرحوم کی علمی خدمات—درس و تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف—کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے لیے بلندیٔ درجات اور مغفرت کی دعا کی، نیز اہلِ اسلام کے لیے صبر کی التجا کرتے ہوئے لکھا :
لقد فقدت الأمة الإسلامية عالِمًا من كبار علمائها، خدم الفقه الإسلامي وأصوله بعقله وروحه ولسانه وقلمه.
نسأل الله الكريم أن يتغمّده بواسع رحمته، وأن يرفعه في عليين، وأن يجزيه عن الإسلام والمسلمين خير الجزاء.
وأن يلهم أهله وذويه وطلابه ومحبيه الصبر والسلوان.
حسبنا الله ونعم الوكيل.
(بنیادی معلومات مختلف عربی کتب اور عربی ویبسائٹ بالخصوص الاتحاد العالمی لعلماء کے ویب سائٹ سے مستفاد ہیں)
دعا ہے کہ اللہ رب العالمین شیخ محمد حسن ہیتو کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی قبر کو نور سے منور فرما، ان کے علم کو صدقۂ جاریہ بنا دے، اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
جس طرح انہوں نے اپنی زندگی میں علم سے امت کو نفع پہنچایا، اسی طرح ان کے علمی آثار کو قیامت تک باقی رکھے اور ہر اس شخص کے عمل کا اجر انہیں عطا فرمائے جو ان کے علم سے مستفید ہو۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين